جموں//پینتھرس سربراہ پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستان کے صدر رام ناتھ کووند سے اپنی خاص طاقت کا استعمال کرکے جموں و کشمیر میں گورنر راج نافذ کرنے اور معصوم لوگوں کو بندوق کے سائے سے بچانے کے لئے اپیل کی ہے، کیونکہ جموں و کشمیر قانون توڑنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکومت سے کئی اپیل کی ہیں، جن پر مرکز کی بی جے پی حکومت نے کوئی غور نہیں کیا، کیونکہ بی جے پی ریاست میں پہلی بار شریک حکمراں ہے اور جب تک بی جے پی چاہے گی حکومت میں بنی رہے گی۔پنتھرس سربراہ نے ہندستان کے صدر سے کل اور آج کشمیر کی سڑکوں پر ہوئے بم دھماکوں اور خانہ جنگی کو دیکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کا چہرہ مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے، جو ہر مہینے کے پہلے ہفتے میں تنخواہ جمع کرنے کے لئے ہے۔ کشمیر میں 90 فیصد لوگ غیر محفوظ ہوگئے ہیں اور بچے سڑکوں پر ہیں۔ امن و قانون نظام کی کوئی چیز نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ پولیس نے پتتھربازوںکے آگے خودسپردگی کردی ہو۔ تقریبا 90 فیصد سیاحوں کشمیر سے بھاگ رہے ہیں یا بھاگ چکے ہیں۔ کشمیر میں صرف افراتفری کا ماحول ہے۔ قانون کا نظام کو بہتر بنانے کا کام سلامتی دستوں یا فوج سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔گورنر وادی کشمیر سے شروع سے ہی ریاست میں بگڑتی صورتحال کے بارے میں مرکز کو روزانہ رپورٹ بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے ہندستان کے صدر سے اپیل کی کہ وہ اپنی خاص طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہندستانی آئین کے آرٹیکل 370 اور جموں و کشمیر آئین کی دفعہ 92 (جموں و کشمیر کا الگ آئین ہے) کے تحت ریاست میں جلد گورنر راج نافذ کریں۔ اس سے پہلے کے صدوربھی اس طرح کی طاقت کا استعمال کر چکے ہیں۔ ہندستان کے صدر کو آرٹیکل 370 تحت ریاست میں گورنر راج لگانے کے لئے حکومت سے کسی بھی طرح کی منظوری یا پیشکش کی ضرورت نہیں ہے۔ موجودہ حکومت مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے، جسے طویل چھٹی کی ضرورت ہے اور ریاست میں گورنر راج کا نفاذ ضروری ہے تاکہ کم سے کم امن و قانون نظام کو برقرار رکھا جا سکے اور لوگوں کو زندگی کی حفاظت کی ضمانت مل سکے۔