عظمیٰ نیوز سروس
جموں//لاگھو ادیوگ بھارتی(ایل یو بی) جموں و کشمیر کے ایک وفد نے نئی دہلی میں مرکزی ہوم سیکریٹری سے ملاقات کی اور ایک یادداشت پیش کی، جس میں نیو سنٹرل سیکٹر اسکیم (NCSS)میں توسیع اور اس کے دائرہ کار میں اضافہ کا مطالبہ کیا گیا۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ 30 ستمبر 2024سے قبل درخواست دینے والے تمام ایم ایس ایم ای یونٹس کو اسکیم کے مکمل فوائد فراہم کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں پائیدار صنعتی ترقی کے لیے ایک نئے 10سالہ صنعتی پیکیج کے اعلان کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
یہ وفد اوم گپتا، نیشنل جنرل سیکریٹری لگھو ادیوج بھارتی کی قیادت میں تھا، جس میں پروین پرگل، نیشنل ورکنگ کمیٹی کے رکن اور سابق صدر ایل یو بی جموں و کشمیر، اور منوج گوئل، صدر کٹھوعہ یونٹ ایل یو بی جموں و کشمیر بھی شامل تھے۔وفد نے بتایا کہ آرٹیکل 370اور 35Aکی منسوخی کے بعد حکومت ہند نے جموں و کشمیر کیلئے 28,400 کروڑ روپے کا سرمایہ کاری پیکیج متعارف کرایا تھا، جس پر 2021سے 2037تک عمل ہونا تھا۔ تاہم، انتظامی تاخیر، مکمل طور پر تیار صنعتی اسٹیٹس کی عدم دستیابی اور زمین کے قبضے میں تاخیر کے باعث کئی حقیقی ایم ایس ایم ای سرمایہ کار مقررہ مدت میں رجسٹریشن مکمل نہ کر سکے، حالانکہ وہ سرمایہ کاری کر چکے تھے اور زیادہ تر رسمی کارروائیاں پوری کر چکے تھے۔وفد نے مراعات کی غیر متوازن تقسیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 953 ایم ایس ایم ای یونٹس کو 12,426.51 کروڑ روپے کی مراعات دی گئیں، جبکہ صرف 18 بڑی صنعتوں کو 20,098.40کروڑ روپے کی مراعات فراہم کی گئیں۔ چوتھی اسٹیئرنگ کمیٹی میٹنگ کی کارروائی کے مطابق، کل مراعات کا تقریبا 67 فیصد صرف 3 فیصد یونٹس کو ملا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ایم ایس ایم ای یونٹس محروم رہ گئے۔یادداشت میں یہ بھی بتایا گیا کہ کئی ایم ایس ایم ای یونٹس کو زمین صرف کاغذوں پر الاٹ کی گئی اور ادائیگیاں بھی کی گئیں، لیکن عملی طور پر زمین کا قبضہ نہیں دیا گیا۔