عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی// نیشنل لا یونیورسٹی ملک کے اْن ممتاز اور باوقار تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے جو قانون کے شعبے میں معیاری تعلیم، تحقیقی تربیت اور عملی مہارتوں کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ ادارے نہ صرف طلبہ کی فکری و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو جِلا بخشتے ہیں بلکہ انہیں قومی و بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہونے کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں مختلف سیاسی، سماجی اور علمی شخصیات نے اس امر پر زور دیا ہے کہ جموں و کشمیر میں نیشنل لا یونیورسٹی کا قیام وقت کی ایک ناگزیر اور اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ریاست کے باصلاحیت نوجوانوں کو اعلیٰ اور معیاری قانونی تعلیم اپنے ہی خطے میں حاصل کرنے کا موقع میسر آئے گا۔ انہوں نے خصوصی طور پر اس جانب توجہ دلائی کہ پیر پنجال خطہ، بالخصوص اضلاع راجوری اور پونچھ، طویل عرصے سے تعلیمی، سماجی اور معاشی اعتبار سے نظرانداز چلا آ رہا ہے، حالانکہ جغرافیائی لحاظ سے یہ خطہ جموں اور کشمیر کے درمیان ایک مرکزی اور اہم مقام رکھتا ہے۔ اس کے باوجود یہاں اعلیٰ تعلیمی اور پیشہ ورانہ اداروں کی شدید قلت پائی جاتی ہے، جس کے باعث مقامی نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع کے لئے دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جو ان کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ شکیل میر اور دیگر معزز شخصیات نے کہا کہ پیر پنجال خطے نے ہر دور میں ملک کے لیے بے مثال خدمات انجام دی ہیں۔ مختلف جنگوں اور ہنگامی حالات کے دوران راجوری اور پونچھ کے عوام نے جان و مال کی قربانیاں دے کر افواجِ ہند کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کی روشن مثال قائم کی۔ یہی نہیں، اس خطے نے اعلیٰ سول و عسکری خدمات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ایسے قابل اور باصلاحیت افسران اور ماہرین پیدا کئے ہیں جو آج ملک کی ترقی اور استحکام میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔عوامی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ علاقہ سماجی و اقتصادی اعتبار سے پسماندہ تصور کیا جاتا ہے، اس لیے حکومتِ ہند اور جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی یہ اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یہاں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائے۔ نیشنل لا یونیورسٹی کا قیام نہ صرف پیر پنجال خطے کے نوجوانوں کے لیے امید اور ترقی کی نئی راہیں کھولے گا بلکہ پورے خطے کی تعلیمی، فکری اور سماجی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ علاقے کے دانشوروں، سماجی کارکنوں، تعلیمی ماہرین اور طلبہ نے مرکزی و ریاستی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کے سلسلے میں پیر پنجال خطے کو ہرگز نظرانداز نہ کیا جائے اور اس دیرینہ تاریخی محرومی کا ازالہ کیا جائے، تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک بہتر، باوقار اور روشن مستقبل میسر آ سکے۔