پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں 200افراد نے آنکھوں کی پیوندکاری کیلئے نیشنل ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنازیشن میں اپنے ناموں کا اندراج کیا ہے۔ کشمیر عظمیٰ کو معلوم ہوا ہے کہ جموں و کشمیر میں لوگوں میں مختلف اعضاء عطیہ کرنے کے بارے میں جانکاری نہ ہونے کی وجہ سے آنکھوںکی مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد پچھلے کئی سال سے آنکھوں کی پیوندکاری کے منتظر ہے۔ آنکھوں کی پیوندکاری کیلئے 200افراد نے مختلف سرکاری و نجی اسپتالوں میں اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔ان میںگورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے شعبہ امراض چشم میں 150افراد ، جی ایم سی جموں کے شعبہ امراض چشم میں 20افراد نے جبکہ دیگر 30افراد نے ٹرانسپلانٹ کرنے والے مختلف نجی ہسپتالوں میں اپنی رجسٹریشن کرائی ہے۔جموں صوبے میں پچھلے ا ڈھائی سال میں 90مریضوں کی کورنیا کی پیوندکاری ہوئی ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جموں میں آنکھوں کے عطیہ کا رحجان بروقت جانکاری کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔کشمیر صوبے میں ابتک صرف ڈاکٹر منظور نے اپنی آنکھوں کا عطیہ کیا ہے ۔ سٹیٹ آرگن اینڈ ٹیشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن کی جوائنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر پونم مہاجن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ آرگنائزیشن لوگوں میںجسم کے مختلف اعضاء کے عطیہ کیلئے جانکاری اور کونسپلنگ کے پروگرام منعقد کررہی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ان پروگراموں میں دونوں لائیو ٹرانسپلانٹ اور Cadavarٹرانسپلانٹ کرنے کیلئے لوگوں کو ترغیب دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لائیو ٹرانسپلانٹ میں مریض کا رشتہ دار سامنے آتا ہے اور اسی وقت عطیہ اور پیونکاری بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک Cadavarٹڑانسپلانٹ کا تعلق ہے تو اس میں لوگوں کے مختلف اعضاء عطیہ کئے جاتے ہیں جن کو ڈاکٹروں نے brain deadقرار دیاہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مریضوں کے بچنے کے بہت کم مواقعے ہوتے ہیں اور ان کی موت کے بعد مختلف اعضاء کی پیوندکاری کرنے کیلئے لوگوں کی جانیں بچا پاتے ہیں۔ ڈاکٹر پونم مہاجن نے کہا کہ ایک آدمی 7اعضاء کو عطیہ کرکے 7مریضوں کو نئی زندگی دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص اپنی دو آنکھیں عطیہ کرکے لوگوں کو روشنی دے سکتا ہے جبکہ دل ، جگر اور 2گردے بھی عطیہ کئے جاسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پیوندکاری سے ہم کئی نوجوانوںکی زندگیاں بچاسکتے ہیں۔