بجلی شعبے کی آمدنی میں 16.34 فیصد اضافہ
سرینگر// جموں و کشمیر اکنامک سروے رپورٹ 2025-26 میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں اب تک مجموعی طور پر 11.71 لاکھ اسمارٹ میٹر نصب کئے جا چکے ہیں، جو کہ 20.93 لاکھ کے ہدف کے مقابلے میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج (پی ایم ڈی پی) کے تحت 6.46 لاکھ اسمارٹ میٹر نصب کئے گئے ہیں، جبکہ ہدف 6.86 لاکھ تھا۔ ریویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم (آر ڈی ایس ایس) کے تحت 14.07 لاکھ صارفین کیلئے میٹر نصب کرنے کا منصوبہ تھا، جن میں سے 5.25 لاکھ میٹر 14 جنوری 2026 تک نصب کئے گئے۔ اسمارٹ میٹرز اور سخت نفاذی اقدامات کے نتیجے میں بجلی کے شعبے کی آمدنی میں 16.34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2022-23 میں آمدنی 3,616.63 کروڑ روپے تھی، جو 2023-24 میں بڑھ کر 4,207.61 کروڑ روپے ہو گئی۔ 2025-26 میں نومبر تک آمدنی 3,472.20 کروڑ روپے رہی اور امکان ہے کہ مالی سال کے اختتام تک یہ گزشتہ سال کی سطح سے تجاوز کر جائے گی۔ اکنامک سروے میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2022 میں شروع کی گئی ایمنسٹی اسکیم کے تحت گھریلو صارفین کے پرانے واجبات نمٹائے گئے۔ اس اسکیم سے 3.32 لاکھ صارفین کو فائدہ ہوا اور اکتوبر 2022 سے نومبر 2025 تک 411.40 کروڑ روپے قسطوں کے ذریعے وصول کئے گئے، جن پر لیٹ فیس چارجز نہیں لگائے گئے۔ ایک مطالعے میں 367 فیڈرز پر اسمارٹ میٹرنگ کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق جموں میں اے ٹی اینڈ سی نقصانات 2022-23 میں 30.79 فیصد سے کم ہو کر 2024-25 میں 23.44 فیصد رہ گئے، جبکہ کشمیر میں یہ نقصانات 55.41 فیصد سے کم ہو کر 35.26 فیصد تک آ گئے۔ مطالعے میں یہ بھی پایا گیا کہ دونوں خطوں میں بلنگ یونٹس اور آمدنی میں اضافہ ہوا، ٹرانسفارمرز کے نقصان کی شرح کم ہوئی اور روزانہ بجلی بندش کے دورانیے میں کمی آئی۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ مزید اقدامات کئے جائیں گے جن میں اسمارٹ میٹر والے علاقوں میں نقصانات کم کرنا، نئے گرڈ سب اسٹیشن تعمیر کرنا، ٹرانسمیشن لائنوں کو وسعت دینا اور موجودہ گرڈ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا شامل ہے تاکہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔