جموں //ریزیڈنشل ایسو سی ایشن اورڈاکٹر ز ایسو سی ایشن جموں نے الزام عائدکیاہے کہ ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ایک ہوٹل کے مالک نے انہیں کمرے خالی کرنے کا کہاہے اوراس ہوٹل میں رہ رہے ڈاکٹروں کو کھا نا بھی فراہم نہیں کیاجارہا ہے۔یہ واقعہ رات کو پیش آیا جب اس ہوٹل میں قیام کررہے 14میں سے ایک ڈاکٹر کو کورونا میں مبتلا پایاگیا اور اسے ہسپتال منتقل کرنے کیلئے ایک ایمبولینس ہوٹل پہنچی ۔ریزیڈنٹ ڈاکٹر ایسو سی ایشن کے ایک رکن نے الزام عائد کرتے ہوئے بتایاکہ ہوٹل کاعملہ وہاں سے بھاگ گیا جبکہ ہوٹل کے مالک نے انہیں صاف طور پر کمرے خالی کرنے کاکہاہے ۔ان کاکہناتھا’’ہمیں کھانا بھی فراہم نہیں کیاگیا، ہمارے ساتھیوں نے باہر سے کھانے کا انتظام کیا ، بعد میں پولیس اور انتظامیہ سے مداخلت کروانا پڑی ، ہوٹل کا مالک بھی غلط نہیں ہے لیکن صورتحال کو ٹھیک طرح سے قابو نہیں کیاگیا‘‘۔پازیٹو پائے گئے ڈاکٹر کو آئیسو لیشن وارڈ منتقل کیاگیاہے جبکہ دیگر تیرہ ڈاکٹروں کو جموں بس اڈہ پر قائم ایک ہوٹل منتقل کیاگیاہے اور جموں میونسپل کارپوریشن سے ریلوے سٹیشن والے ہوٹل کو صاف کرنے کہاگیاہے۔کورونا میں مبتلا پایاگیا ڈاکٹر پری آئیسو لیشن وارڈ میں کام کررہاتھا جہاں مشتبہ مریضوں کا علاج کیاجاتاہے اوراس کے ساتھیوں کے مطابق وہ ٹکری اودھمپور کی اس خاتون کے رابطے میں آیا جو کورونا سے وفات پاگئی تھی ۔ایک ڈاکٹر نے بتایاکہ جب خاتون کافی علیل ہوگئی تو مذکورہ ڈاکٹر نے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی اور اس دوران اس نے صرف ماسک پہن رکھاتھا۔گزشتہ روز بترہ ہسپتال کے دوڈاکٹروں اور جی ایم سی کے ایک ڈاکٹر کے نمونے بھی مثبت آئے تھے ۔اس طرح سے ابھی تک صوبہ میں 6ڈاکٹروں کے نمونے پازیٹو آئے ہیں جن میں راجوری سے تعلق رکھنے والا ایک ریٹائرڈ ڈاکٹر بھی شامل ہے ۔دریں اثناء ڈاکٹر ز ایسو سی ایشن جموں کے صدر ڈاکٹر بلویندرسنگھ نے رہنے کیلئے جگہ نہ دینے والے ہوٹل مالکان کوانتباہ دیاہے کہ وہ آئندہ ان ہوٹلوں سے بائیکاٹ کریںگے ۔