رام بن //جموں۔ سرینگر قومی شاہراہ پر بانہال سے ناشری تک چار گلیار کی تعمیر میں سست روی کا الزام لگا یا گیا ہے۔ عوام نے شکایت کی ہے کہ وزارت زمینی ٹرانسپورٹ اور شاہراہ ،بھارت سرکار کی جانب سے کافی فنڈذ مہیا کرنے کے باوجود اس شاہراہ پر کام سست رفتاری سے ہو رہی ہے، جس سے ان علاقوں کے عوام کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مقامی لوگوں کی شکایت ہے کہ کنٹریکٹر کمپنیوں کا جموں۔ سرینگر چار گلیار شاہراہ تعمیر کرنے کے لئے ٹھیکہ الاٹ کیا گیا ہے لیکن بانہال او ر ناشری سیکٹروں میں کنٹریکٹروں نے اس کام کو کئی مقامات پر ترک کیا ہے۔ان لوگوں کی یہ بھی شکایت ہے کہ اس شاہراہ پر تعمیری کام کی وجہ سے جو گرد و غبار اُٹھتا ہے جس سے بزرگوں اور بچوں میں چھاتی کی بیماریاں ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس شاہراہ پر سفر کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں ہے اور بعض اوقات حادثات بھی رونما ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ناشری رام بن اور رام بن رامسو کے درمیان اولڈ ائیلائنمینٹ کی حلات نہایت ہی خستہ ہے جسکی وجہ سے ڈرائیوروں کو کافی مشکلات ہوتے ہیںکیونکہ اس سڑک کے بیچ میں ایک بڑا کھڈا بن گیا ہے ۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے ایک اہلکار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ شاہرا ہ کا درجہ بہترر بنایا جا رہا ہے ااور اسے چار گلیار میں منتقل کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب اس سڑک پر کھدائی کا کام مکمل ہو گااور شاہراہ کے ایلا ئنمینٹ میں آئے ہوئے ڈھانچوں کو مقامی لوگ ہٹائیں گے تو لوگوں کے مسائل حل ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں کو معاوضہ پہلے ہی ادا کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ مقامی لوگ اپنا تعاون دیکر ڈھانچوں کو منہدم کریں گے۔