جموں//گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے ہفتہ کے روز جموں روپ وے پروجیکٹ پر جاری پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے باہو باغ سے مہا مایا تک گنڈولہ کی سیر کی اور وہاں جاری کام کے بارے میں تفصیلاً تبادلہ خیال کیا۔ جموں کشمیر کیبل کار کارپوریشن کے مینجنگ ڈائریکٹر شمیم احمد وانی اور کارپوریشن کے دیگر انجینئر و افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر بتایا گیا کہ 75کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس پروجیکٹ کا 85فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ۔ باہو باغ سے مہامایا تک 8کیبن ہیں جب کہ مہامایا سے پیر کھو تک 14کیبن ہیں ۔ پیر کھو سے مہامایا تک اور باہو فورٹ سے مہامایا تک دو مراحل میں تعمیر ہونے والے اس روپ وے پروجیکٹ پر کل 9ٹائور بنائے گئے ہیں ۔ افسران نے بتایا کہ تمام حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔ گنائی نے کارپوریشن کے کام کی سراہنا کرتے ہوئے بتایا کہ 1.66کلو میٹر طویل روپ وے جموں کے لئے ایک اہم منصوبہ ہے جس کے لئے لوگ عرصہ سے منتظر ہیں کیوں کہ اس کی تعمیر سے سیاحوں کو جموں کی جانب راغب کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ کام میںمزید تیزی لائیں اور اسے جلد سے جلد کھول دیں ۔ انجینئروں نے بتایا کہ کام آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور سال رواں کے آخر تک اسے وقف کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مراحلہ پیر کھو سے مہا مایا تک دونوں سٹیشن مکمل ہو گئے ہیں جب کہ رسوں کو بچھانے کا کام جاری ہے ۔ مابعد گنائی نے مبارک منڈی ہیری ٹیج کمپلیکس کا دورہ کر کے وہاں جاری کام کا معائینہ کیا۔ انہوں نے آثار قدیمہ کے حکام سے کام میں تیزی لانے کی تلقین کی۔