سید امجد شاہ
جموں//جموں خطہ میں ڈینگو کی وجہ سے کم از کم 13 افراد کی موت ہو گئی ہے جس میں ایک مریض بھی شامل ہے جس کی ڈی ایم سی لدھیانہ میں موت ہوئی ہے اوریوں اس خطے میں متاثرہ افراد کی کل تعداد 6048 تک پہنچ گئی ہے۔ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا’’”راجوری کے ایک رہائشی کو خصوصی علاج کے لئے ڈی ایم سی لدھیانہ ریفر کیا گیا تھا لیکن مریض زندہ نہیں رہ سکا “۔انہوںنے مزید کہا کہ ڈینگی سے متاثرہ دو دیگر مریضوں کی جی ایم سی جموں میں موت ہو گئی ہے۔ ڈینگی سے اب تک 13 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا’’ ہسپتالوں میں داخلوں میں کمی آئی ہے۔جموں کے پورے علاقے کے ہسپتالوں میں ڈینگی سے متاثرہ 31 تازہ افراد کو داخل کیا گیا اور داخل مریضوں کی کل تعداد 90 ہے”۔عہدیدار نے کہا’’”جی ایم سی جموں میں کل 28 داخل ہیں، ایس ایم جی ایس ہسپتال شالامار میں 48 مشتبہ کیسز ہیں، جن میں زیادہ تر بچے ہیں حالانکہ 22 کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے، گورنمنٹ گاندھی نگر ہسپتال میں ڈینگی کے 7 کیس ہیں، اور چار کیس گورنمنٹ سروال ہسپتال میں ہیں”۔عہدیدار نے بتایا کہ ادھم پور، کٹھوعہ اور راجوری سے بھی ڈینگی سے متاثرہ کیسوں کے داخلے کی اطلاع ملی ہے۔دریں اثنا، سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 5 نومبر 2022 کو جموں خطہ میں ڈینگی کے 140 کیس رپورٹ ہوئے جن میں جموں ضلع سے 67 اور اس کے بعد ادھم پور ضلع سے 41 کیسز سامنے آئے۔ڈینگی کے 140 کیسز میں سے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 28 بچے اور 112 بالغ افراد بشمول 49 خواتین ڈینگی سے متاثر پائی گئیں۔3 نومبر 2022 کو ڈینگی کے 159 کیسز سامنے آئے اور اگلے دن کیسز کم ہو کر 147 ہو گئے۔ آج کے اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ ڈینگی کا پھیلاؤ کم ہوا ہے۔ادھرجموں میونسپل کارپوریشن نے آبادی والے معاملات میں فوگنگ مہم کو تیز کر دیا ہے جہاں ڈینگی کے کیسز پائے گئے ہیں۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایم اے سٹیڈیم سے خصوصی مہم شروع کی گئی اور رہاڑی، پلوڑا، جانی پور، سروال، راج پورہ، سبھاش نگر، نیو پلاٹ، روپ نگر، تالاب تلو، بخشی نگر، مٹھی، گاندھی نگر اور چھنی ہمت میں فوگنگ کی گئی۔انہوںنے مزیدبتایا کہ یہ مہم جموں کے اینٹی ملیریا ونگ کے تعاون سے چلائی جا رہی ہے۔