نئی دہلی //جمعیت علماء ہندکے صدر قاری سید محمدعثمان منصور پوری اور ناظم عمومی مولانا محمود مدنی نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ مکمل احتیاطی تدابیراپناتے ہوئے مقامی علماء کے تعاون سے کوروناوائرس کی بیماری سے وفات پانے والے میت کی شرعی تجہیزوتکفین اور تدفین کی اجازت دی جائے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اسلام کی نظر میں وفات کے بعد بھی انسان کا جسم اسی طرح قابل احترام ہے جیسا کہ زندگی میں۔اسی لئے مسلمان کے انتقال کے بعداُسے اچھی طرح نہلا دھلا کر تجہیزوتکفین اور تدفین کرنافرض کفایہ ہے۔بیان میں کہا گیا ہے ’’ موجودہ وبائی بیماری کورونا وائرس (کووِڈ-19) سے وفات پانے والے شخص کے بارے میں عالمی اِدارۂ صحت نے جو ہدایات جاری کی ہیں، اُن میں بھی یہ صراحت ہے کہ احتیاط کے ساتھ میت کو غسل دیا جاسکتا ہے اور محتاط طریقے پر دفنانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، اِس سے مرض دوسروں تک منتقل نہیں ہوتا۔اِس لئے جہاں بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آئے تو وہاں کے مسلمانوں کا شرعی طور پر یہ فرض بنتا ہے کہ وہ میت کی تجہیز وتکفین کے لئے حتی الوسع سعی کریں اور اِس میں ہرگز کوتاہی نہ کریں ورنہ سخت گنہگار ہوںگے۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ بہت اَفسوس اور تشویش کی بات ہے کہ گذشتہ چند دنوں میں کئی مقامات سے ایسی خبریں آئیں کہ مذکورہ مرض میں مبتلا مسلمان میت کو تجہیز وتکفین کے بغیر دفنادیا گیا اور بعض جگہوں پر تدفین میں بھی رکاوٹیں ڈالی گئیں حتیٰ کہ پاس پڑوس کے مسلمانوں کی طرف سے بھی اِس پر اعتراض کیا گیا جو حد درجہ افسوس ناک ہے۔بیان میں جمعیۃ علماء ہند نے حکومت اور محکمۂ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ مکمل اِحتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے مقامی علماء کے تعاون سے ایسی میت کی شرعی طور پر تجہیز وتکفین اور تدفین کی اجازت دی جائے۔