شاہد ٹاک
شوپیان //ضلع شوپیان میں پولیس نے جعلی کرنسی کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینے والے ایک منظم گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے 79 ہزار روپے مالیت کے جعلی نوٹ برآمد کر لیے ہیں جبکہ اس سلسلے میں ایک بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر (بی ڈی او) سمیت تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب ایک مقامی دکاندار نے پولیس تھانہ شوپیان میں شکایت درج کرائی کہ ایک شخص نے اس کی دکان سے سامان خریدتے وقت جعلی کرنسی نوٹ استعمال کیے ہیں۔ شکایت موصول ہوتے ہی پولیس نے فوری طور پر معاملے کی تحقیقات شروع کیں اور اس سلسلے میں پولیس تھانہ شوپیان میں ایف آئی آر نمبر 33/2026 متعلقہ دفعات کے تحت درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا گیا۔تحقیقات کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 79 ہزار روپے مالیت کے جعلی نوٹ برآمد کیے۔
پولیس نے اس معاملے میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے جن کی شناخت محمد سید وانی ولد غلام محی الدین وانی ساکن بٹہ پورہ شوپیان، محمد مقبول نائیکو ولد حبیب اللہ نائیکو ساکن بنگام شوپیان اور پیرزادہ الطاف ولد پیرزادہ غلام محمد ساکن ٹکرو بابہ ناڑ کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق پیرزادہ الطاف زینہ پورہ کے بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر (بی ڈی او) کے طور پر تعینات ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان جعلی کرنسی کو مقامی بازاروں میں گردش میں لا کر لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس غیر قانونی سرگرمی کو بے نقاب کیا اور ملوث افراد کو گرفتار کر لیا۔تمام گرفتار شدگان کو باقاعدہ طور پر حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ جعلی کرنسی کے اس نیٹ ورک کے اصل ذرائع تک پہنچا جا سکے اور اس میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ادھرترکہ وانگام شوپیان علاقہ کے لوگوں نے 2019میں ترکہ وانگام میں ہوئی بینک فراڈ جس میں مدثر حسن شاہ نے مبینہ طور پر مرحوم محمد یوسف شاہ کے بینک کھاتے سے ساری رقم اس کے انتقال کے ایک دن بعد نکالی تھی ،کے سلسلے میں فوری تحقیقات کی مانگ دہرائی ہے ۔لوگوں کے مطابق اگرچہ اس حوالے سے پہلے ہی پولیس تھانہ زینہ پورہ میں تحریری شکایت درج کرائی گئی ہے تاہم ابھی تک کیس درج نہیں کیا گیا ہے ۔لوگوں نے اس ضمن میں اعلیٰ پولیس حکام سے مداخلت طلب کی ہے۔