عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //کرائم برانچ کشمیر کے اقتصادی جرائم ونگ نے مبینہ فرضی ریلوے بھرتی اسکنڈل میں چارج شیٹ داخل کی ہے جس میں شکایت کنندہ سمیت تین ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔ اقتصادی جرائم ونگ نے جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس بیروہ بڈگام کی عدالت میں تینوں ملزمین کے خلاف جعلی تقرری نامے جاری کرکے ملازمت کے متلاشیوں کو دھوکہ دینے کے الزام میں چارج شیٹ داخل کی۔تینوں ملزمان کی شناخت عبدالحمید شیخ ساکنہ چیودرہ، بڈگام، عادل شاہ ساکنہ سونہ واری حال زیون سرینگر اور مفتی حلام حسن کمار ساکنہ سوپور حال بیروہ بڈگام کے بطو رہوئی ہے حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ کمار نامی ایک شخص کی طرف سے درج کردہ تحریری شکایت سے شروع ہوا، جس نے الزام لگایا کہ شیخ اور شاہ نے انہیں جعلی تقرری خط دیے جو مبینہ طور پر ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ، نئی دہلی کی طرف سے جاری کیے گئے تھے۔جعلی ملازمت کے خط پر من گھڑت مہریں اور ڈی جی ایم، ناردرن ریلوے، پہاڑ گنج، نئی دہلی کے دستخط تھے۔انہوں نے کہا کہ شکایات پر تفصیلی تحقیقات کا آغاز کیا گیا، جس نے پہلی نظر سے یہ ثابت کیا کہ ملزمان نے ایک دوسرے کے ساتھ سازش کی، متاثرین کو سرکاری نوکریاں دینے کے بہانے لالچ دیا، اور کافی رقم بٹوری۔عہدیداروں نے کہا کہ کچھ تقرری خطوط کی تصدیق ہوئی کہ وہ جعلی تھے۔تفتیش کے دورا ن شکایت کنندہ کمار بھی مذکورہ جرم کے کمیشن میں ملوث پایا گیا تھا۔جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ کمار نے روزگار فراہم کرنے کے جھوٹے بہانے دوسرے متاثرین سے رقم لی اور انہیں نوکری کے جعلی آرڈر بھی جاری کیے۔عہدیداروں نے بتایا کہ تحقیقات نے دیگر ملزمین کے ساتھ دھوکہ دہی کی اسکیم میں کمار کی سرگرم شمولیت کو ثابت کیا۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران اکٹھے کیے گئے نتائج اور شواہد کی بنیاد پر سی آر پی سی کی دفعہ 173 کے تحت ایک حتمی رپورٹ عدالتی فیصلے کے لیے عدالت میں پیش کی گئی ہے۔