یو این آئی
نئی دہلی/22جون 1974 کو ہیمبرگ کے ووکس پارک اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا یہ میچ محض ایک کھیل نہیں بلکہ سرد جنگ کے عروج میں دو نظریات، سوشلزم اور کیپیٹلزم کے درمیان ایک غیر اعلانی جنگ تھی۔دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔مغربی جرمنی اور مشرقی جرمنی 1974 کے ورلڈ کپ کی میزبانی مغربی جرمنی کر رہا تھا، لیکن حالات انتہائی کشیدہ تھے ۔
میونخ اولمپکس کے خونی واقعے اور دہشت گرد تنظیموں کی دھمکیوں کے باعث پورا ٹورنامنٹ ایک فوجی قلعے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ مغربی جرمنی کے مشہور اخبار ‘بلڈ نے اپنی رپورٹوں میں مشرقی جرمنی کا نام باقاعدہ طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔60,200 تماشائیوں کے سامنے ہونے والے اس میچ میں مغربی جرمنی فیورٹ تھا، جبکہ مشرقی جرمنی کو ایک کمزور ٹیم سمجھا جا رہا تھا۔ دونوں ٹیمیں پہلے ہی دوسرے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر چکی تھیں، لیکن انا اور وقار کی جنگ ابھی باقی تھی۔ مشرقی جرمنی نے فٹ بال کی تاریخ کا بڑا اپ سیٹ کرتے ہوئے مغربی جرمنی کو 1-0 سے ہرا دیا۔ 77ویں منٹ میں جوگن اسپارواسر نے ایک جادوئی گول کر کے اپنی ٹیم کو فتح دلائی۔یچ سے پہلے دونوں ٹیموں کے کیمپوں میں عجیب و غریب صورتحال تھی۔ کھلاڑیوں کی نگرانی ان کی خفیہ ایجنسی ‘سٹاسی’ کر رہی تھی۔ جب مغربی منتظمین نے کھلاڑیوں کو ٹی وی سیٹ تحفے میں دینے چاہے تو حکام نے عوامی سطح پر انکار کر دیا، مگر بعد میں وہ سیٹ خود غائب کر دیے ۔ یہاں کے کھلاڑی بونس کی رقم پر انتظامیہ سے جھگڑ رہے تھے ، جس پر ان کے کوچ ہیلمٹ شون شدید غصے میں تھے ۔میچ کے بعد سیاسی ہدایات کے مطابق کھلاڑیوں کو جرسیاں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں تھی، لیکن فٹ بال کی عالمی زبان جیت گئی۔ ٹنل کی تاریکی میں مغربی جرمنی کے پال برائٹنر اور میچ ونر اسپارواسر نے خاموشی سے ایک دوسرے کی جرسیاں بدل لیں۔ یہ جرسیاں 28 سال تک منظرِ عام سے غائب رہیں اور پھر 2002 میں سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے نیلام کی گئیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ہار نے مغربی جرمنی کے لیے ایک ‘ویک اپ کال’ کا کام کیا۔ فرینز بیکن باؤر نے بعد میں اعتراف کیا کہ”اسپارواسر کے اس گول کے بغیر ہم کبھی ورلڈ چیمپئن نہیں بن سکتے تھے ۔”مغربی جرمنی نے اس جھٹکے کے بعد خود کو سنبھالا اور 1974 کا ورلڈ کپ جیت لیا۔ دوسری طرف مشرقی جرمنی پھر کبھی عالمی سطح پر ویسی کارکردگی نہ دہرا سکا اور 1990 میں جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے ساتھ ہی یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔آج بھی جوگن اسپارواسر کے الفاظ اس میچ کی اہمیت بیان کرتے ہیں”اگر کسی دن میری قبر کے کتبے پر صرف ‘ہیمبرگ 74’ لکھا جائے ، تو بھی سب جان جائیں گے کہ نیچے کون لیٹا ہے۔”