لندن //برطانوی حکومت نے دفاعی معاملات میں جدیدت کے اعتبار سے کی جانے والی ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ فوجیوں کی تعداد میں کمی کرنا بھی شامل ہے اس سے بحریہ اور سپیشل فورسز میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔ جن تجاویز کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا ان میں جہازوں، ابدوزوں، روبوٹس، ڈرونز، اور فوج کے نظام میں رد و بدل کا نکتہ بھی شامل ہے۔ڈیفینس ان آ کمپیٹیٹیو ایج یا 'مسابقتی دور میں دفاع نامی اس 70 صفحے کی رپورٹ میں برطانیہ کے وزیر دفاع بین والیس نے وزرا کو حکومت کی حکمت عملی سےآگاہ کیا ہے۔وزیر دفاع بین والیس کے مطابق 'ہم یقینی بنائیں گے کہ دفاع میں خطرات پر توجہ دی جائے، وہ جدید اور مالی طور پر پائیدار ہو، مستقبل کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو اور برطانیہ کے لیے نئے مواقع سامنے لا سکےانہوں نے مزید کہا کہ ’اس رپورٹ میں شفاف طور پر جائزہ لیا گیا کہ ’برطانیہ کیا کر سکتا ہے اور کیا کرے گا۔‘انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 'دہائیوں میں پہلی بار ہم اصل پیسے کو درست طور پر اصل مقصد کے لییاستعمال کریں گے۔وزیر دفاع بین والیس کے مطابق ’نئے نظام اور طریقہ کار کے تحت اپنی جگہ بنانے کے لیے پرانے طریقے بھی چھوڑے جائیں گے۔‘ تاہم اس دہائی کی وسط تک فوجیوں کی تعداد 82 ہزار سے کم کر کے 72 ہزار 500 کرنے کا فیصلہ ملک میں اور اتحادیوں کے درمیان تنازع پیدا کر سکتا ہے۔