وادی ٔ کشمیر میں غیر معیاری ،ملاوٹی اور مضر ِ صحت غذائی اجناس کی خریدو فروخت کی بات اگرچہ زبانِ زد عام ہے ،لیکن اس پر روکتھام یا اس معاملے میںسدِباب کے متعلق نہ ہی عوام الناس کی طرف سے کوئی مو ثر آواز بلند ہورہی ہے اور نہ ہی حکومتی انتظامیہ کی طرف سے کوئی ٹھوس یا مثبت کوشش کی جارہی ہے۔ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی اس معاملےکے تئیں مختلف باتیں منکشف ہوتی رہتی ہیں ، پھر بھی کسی کے کانوں پر جُو تک نہیں رینگتی ۔اپنی اس وادی میں کھانے پینے کی تقریباً تمام چیزوں ،یہاں تک کہ دودھ ،دہی اور پنیر میںملاوٹ کا سلسلہ جہاں دن بہ دن بڑھتا چلا رہا ہے وہیں اس کا بڑھتا ہوارُجحان ایک ایسے منظم مجرمانہ تجارت کی شکل اختیار کرچکا ہے،جس کے نتیجے میں خفیہ طریقے پر وادیٔ کشمیر کے ہر فردِ بشر کے جسم میںروزانہ کسی نہ کسی صورت میں زہر بھر دیا جاتا ہے ۔
گویاملاوٹ کا مسئلہ اب صرف صحت تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ خوراک کے نظام، صارفین کے حقوق اور قومی غذائی تحفظ پالیسی کے لئے ایک بڑے خطرے کے طور پر اُبھررہا ہے۔اب غذائی اجناس میںملاوٹ کی جو خبریں سامنے آتی رہتی ہیں،اُنہوں عوام الناس کوتشویش میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ صارفین کو مخفی انداز میںجو زہر کھلایا جارہا ہے ،اُس سے اُن کی صحت پر براہِ راست مہلک اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ملاوٹ شدہ کھانے پینے کی غذائوں کا استعمال مردو زن اور بچوں و بوڑھوں کے لئے انتہائی خطرناک بن چکا ہے، ان غذائی اجناس کا طویل مدتی استعمال سنگین بیماریوں کا باعث بن رہا ہےاور یہ صورتحال نہ صرف صحت عامہ کے نظام پر اضافی بوجھ ڈالتی ہے بلکہ یہاںکی انسانی قوت کو بھی کھوکھلا اور کمزور کررہی ہے۔خوراک میں ملاوٹ درحقیقت ایک وسیع اور خطرناک عمل ہے، جس میں اصل غذائی اشیاء میں جان بوجھ کر غیر معیاری یا مضر مادے شامل کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی مقدار بڑھائی جا سکے، ظاہری شکل بہتر بنائی جا سکے یا اسے زیادہ دیر تک محفوظ رکھا جا سکے۔ کئی ایسے گلے ،سڑے یا بوسیدہ غذائی اجناس میں ایسے مضر صحت مادے ملا دئیے جاتے ہیں،جس سے وہ ترو تازہ دکھائی دیتے ہیںاور مہنگے داموں فروخت ہورہے ہیں۔اسی طرح کھانے پینے کی مختلف غیر معیاری اورزائد المعیاد چیزوںکو خوشنُما و خوبصورت پیکنگ میں چھپا کر اور جھوٹے لیبل لگا کر فروخت کرکے صارفین کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ کسی بھی بازار کا جائزہ لیا جائےتو یہ مسئلہ کسی تحقیق یا رپورٹ کا اب محتاج ہی نہیں رہا ہے۔ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ دودھ کو گاڑھا ظاہر کرنے کے لئے اس میں نشاستہ یا دودھ کا پاؤڈر شامل کیا جاتا ہے، چکنائی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے سستے تیل تک ملا دئے جاتے ہیں اور مدتِ استعمال بڑھانے کے لئے ایسے وہ ادویات ملائے جاتے ہیںجو انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر اور سمِ قاتل ہیں۔ ظاہر ہے کہ غذائی اجناس میں ملاوٹ کی ایک اہم وجہ ناجائز منفعت پرستی ہے۔کم سے کم وقت میں زیادہ سےزیادہ دولت حاصل کرنے کی لالچ میں ایسا سب کچھ کیا جارہا ہے ،جس سے نہ صرف انسانیت شرمسار ہورہی ہے بلکہ انسانی ضمیر کی ملامت ہورہی ہے۔ناجائز منافع خوری کے عادی دکاندار اور تاجر ملاوٹ خوری کے اس دھندے کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اورہمارے یہاںکے بہت سارے پرانے پاپی اپنی اس وادی میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے چکر میںاس انسان دشمن عمل میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتےاور نہ ہی اُنہیں اپنے معاشرے کی انسانی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے میں بھی کوئی عار آتا۔
بے شک غذائی اجناس میں ملاوٹ نہ صرف صحت بلکہ سماجی انصاف کا بھی مسئلہ بن گیا ہے،اگرچہ حکومتیں اس مسئلے کو روکنے کے لئے مختلف قوانین اور ضابطے بناتی رہیں، خوراک کے معیار کو جانچنے کے لئے جدید سائنسی طریقے بھی استعمال کئے جا رہے ہیں،ملاوٹ خوروں کے خلاف کاروائیاں بھی ہورہی ہیں ،لیکن اس سب کچھ کے باوجود یہ مسئلہ جُوں کا تُوں ہےاوراِس نےاب ایک خوش نُما وباء کی صورت اختیا ر کرلی ہے،جو نہ صرف صحت عامہ کے لئے خطرہ بن چکی ہے بلکہ انسانی اخلاقیات اور تجارتی دیانت پر بھی سوالیہ نشان لگا چکی ہے۔