پونچھ //سنی یوتھ وِنگ کے صوبائی صدر اعجاز احمد مدنی نے کہا ہے کہ مودی حکومت تین طلاق بل راجیہ سبھا میں منظور نہ ہونے اور اپنی ناکامی کے بعد اب آر ڈی نینس کے ذریعے اس قانون کو نافذ کرنا چاہتی ہے اور اگر ایسا گیا تویہ ڈکٹیٹرشپ ہوگی۔اپنے ایک پریس بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ بل راجیہ سبھا میں زیرِالتوا ہے اور راجیہ سبھا میں پاس ہونے کا انتظار کرنا چاہئے اور اس طرح آر ڈی نینس کے ذریعے اس قانون کو مسلمانوں پر زبر دستی تھوپنا جمہوری اصولوں کے خلاف ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اس بل کے سلسلے میں مسلمانوں میں زبردست اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے اور حکومت کو مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر مسلمانوں کے بڑے بڑے ادارے موجود ہیں اور مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی اُن کے مشورے کے بغیر قابلِ ممکن نہیں۔ مدنی کے کہا کہ اگر حکومت آر ڈی نینس لاتی ہے توصدر جمہوریہ سے اپیل ہوگی کہ وہ اس آر ڈی نینس پر دستخط نہ کریں کیونکہ یہ جمہوریت کے روح کے منافی ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ وہ امید کرتے ہیں کہ اپوزیشن پارٹیاں اپنے اتحاد کا مظاہرہ جاری رکھیں گی ور آئندہ ہونے والے راجیہ سبھا کے اجلاس میں اس بل کو پاس نہیں ہونے دیاجائے گا۔ انہوں نے اپوزیشن پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ بھی صدر جمہوریہ سے اپیل کریں کہ وہ اس طرح کے آر ڈی نینس پر دستخط نہ کریں۔ مدنی نے مزید کہا کہ حکومت کوئی بھی قانون عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بناتی ہے نہ کہ اُن کو پریشان کرنے کیلئے جس طرح تین طلاق بل میں التزام کیا گیا ہے، اس سے خواتین سب سے زیادہ پریشان ہوں گی۔