عظمیٰ نیوز سروس
جموں//حکومت نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ خانصاحب حلقہ میں آبپاشی کا نظام مضبوط اور مکمل طور پر فعال ہے اور گزشتہ تین برسوں میں نہروں، کھلوں اور آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے کے لئے وسیع پیمانے پر کام انجام دیا گیا ہے۔حکومت نے کہاکہ گزشتہ آبپاشی سیزن کے دوران حلقے کی تمام بڑی نہریں فعال رہیں جس سے کسانوں کو پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنی۔وزیر برائے جل شکتی، جنگلات، ماحولیات و قبائلی امور محکمہ جات جاوید احمد رانا نے کہا کہ 2023-24 سے 2025-26 کے درمیان مختلف سکیموں کے تحت ایک جامع سلسلہ وار کام انجام دیا گیا ہے۔
جاوید رانا رکن اسمبلی خانصاحب، سیف الدین بٹ کی جانب سے آبپاشی سہولیات سے متعلق اٹھائے گئے سوال کا جواب دے رہے تھے۔انہوںنے ایوان کو آگاہ کیا کہ سال 2023-24 کے دوران 62.68 لاکھ روپے کے کام شروع کئے گئے جن میں سے 50.59 لاکھ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں اور تمام منصوبوں میں مکمل فزیکل تکمیل کو حاصل کیا۔اِسی طرح 2024-25 میں 31.28 لاکھ روپے کے کام کئے گئے جن میں سے 22.83 لاکھ روپے خرچ ہوئے اور تمام پروجیکٹ مکمل طور پر مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی۔جاری مالی برس 2025-26 کے دوران 54.62 لاکھ روپے کے کام شروع کئے گئے ہیں جن میں سے اب تک 46.74 لاکھ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔بتایا گیا کہ ان میں سے زیادہ ترمنصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ باقی ترقی کے مختلف مراحل میں ہیں۔تکمیل شدہ کاموں میں گائیڈ والز کی تعمیر، نہروں کی مرمت اور لائننگ، کمزور مقامات کو مضبوط بنانا، رسا کو بند کرنا، اور اہم مقامات جیسے زانی کنال، لانی کنال، سریش کنال، گوگلدارہ کھل، مانینار کھل وغیرہ میں آبپاشی چینلوں کی ترقی شامل ہے۔حکومت نے مزید بتایا کہ لادشنگر کنال اور کینز کھل جیسے بڑے منصوبے نبارڈ فنڈنگ کے تحت مکمل کئے گئے ہیں جس سے حلقے میں آبپاشی کی صلاحیت اور استحکام میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔حکومت بت اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے، زرعی پیداوار کے تحفظ اور سیلابی خطرات کو کم کرنے کے لئے مستقل سرمایہ کاری اور ہدفی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔جاوید رانا نے خانصاحب حلقے کی مختلف نہروں سے متعلق منصوبوں کی تفصیلات بھی فراہم کیں جو نبارڈ، لنگوئشنگ اور پی ایم کے ایس وائی سکیموں کے تحت مکمل ہوچکے ہیں یا تکمیل کے قریب ہیں۔حکومت نے خانصاحب حلقہ میں اہم آبپاشی منصوبوں کی صورتحال کے بارے میں بتایا کہ کئی اہم نہریں مکمل ہو چکی ہیں یا تکمیل کے قریب ہیں۔ کینز کھل اور لادشنگر بالترتیب لینگوئشنگ اور نبارڈ سکیموں کے تحت مکمل ہو چکے ہیں۔ اِسی طرح سریش کھل، مانینار کھل اور گوگلدارہ کھل نے پی ایم کے ایس وائی کے تحت صد فیصد فزیکل پیش رفت حاصل کی ہے۔اِب کھل 87 فیصد تکمیل کے ساتھ آخری مراحل میں ہے جبکہ ملا کھل پر کام جاری ہے جو 35 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔