عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی// تھنہ منڈی میں ’نشہ مکت بھارت ابھیان‘ کے سلسلے میں ایک پْروقار، منظم اور بیداری سے بھرپور ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس نے پورے قصبہ میں ایک مثبت اور امید افزا پیغام عام کیا۔ اس ریلی میں خطہ پیر پنچال کے ممتاز ماہرِ تعلیم خورشید بسمل،ایس ڈی ایم تھنہ منڈی اور ایس ڈی پی او تھنہ منڈی نے خصوصی شرکت کرتے ہوئے نہایت بصیرت افروز اور فکر انگیز خطابات پیش کیے۔ اپنے خطابات میں مقررین نے نوجوان نسل کو منشیات جیسی مہلک لعنت سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے اجتماعی بیداری اور ذمہ داری ناگزیر ہے۔
انہوں نے والدین، اساتذہ اور سماجی اداروں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ریلی میں گورنمنٹ ڈگری کالج تھنہ منڈی سمیت قصبہ کے متعدد سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ، اساتذہ اور معزز شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر نشہ مخالف نعرے درج تھے، جو معاشرے کو اس ناسور کے خلاف متحد ہونے کا پیغام دے رہے تھے۔ طلبہ کا جوش و خروش اور عوام کی بھرپور شرکت اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ تھنہ منڈی کے عوام منشیات کے خلاف اس جدوجہد میں سنجیدہ اور پْرعزم ہیں۔ یہ ریلی نہ صرف ایک بیداری مہم ثابت ہوئی بلکہ اس نے معاشرے میں ایک مثبت سوچ اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو بھی فروغ دیا۔ آخر میں منتظمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ‘‘نشہ مکت بھارت’’ کے پیغام کو گھر گھر تک پہنچانے کے لیے اس طرح کی سرگرمیاں مستقبل میں بھی جاری رکھی جائیں گی، تاکہ ایک صحت مند، باوقار اور منشیات سے پاک معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔
ریاسی کالج میں نشہ مْکت ابھیان کے تحت بیساکھی ثقافتی پروگرام کا انعقاد
ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے منشیات سے پاک معاشرے کا پیغام اجاگر
عظمیٰ نیوز سروس
ریاسی//گورنمنٹ ڈگری کالج ریاسی میں نشہ مْکت بھارت ابھیان کے تحت جاری تین ماہہ آئی ای سی مہم کے سلسلے میں ایک رنگا رنگ بیساکھی ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ یہ مہم لیفٹیننٹ گورنر کی رہنمائی میں پورے یونین ٹیریٹری میں سرگرمی کے ساتھ جاری ہے، جس کا مقصد نوجوان نسل کو منشیات کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کو فروغ دینا ہے۔تقریب میں طلبہ اور اساتذہ نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ طلبہ نے بھنگڑا، گِدّا اور دیگر روایتی ثقافتی رقص پیش کر کے بیساکھی کے تہوار کی شاندار روایات کو اجاگر کیا۔ اس کے علاوہ طلبہ نے سجاوٹ، اسٹیج مینجمنٹ، شجرکاری سرگرمیوں، استقبالیہ و خدمات کے انتظامات سمیت مختلف تقریباتی امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس سے پروگرام نہایت پْررونق اور بامقصد بن گیا۔پرنسپل پروفیسر ممتازہ گپتا نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کی اور اس بامقصد پروگرام کے انعقاد کو سراہا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسی سرگرمیاں نہ صرف ثقافتی اقدار کے فروغ میں مددگار ثابت ہوتی ہیں بلکہ نوجوانوں کو منشیات سے دور رہنے کا شعور بھی فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ معاشرے کی مثبت تعمیر میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ڈاکٹر عمر حبیب نے بھی اپنے خطاب میں طلبہ کو روشن، ترقی یافتہ اور ذمہ دار مستقبل کی جانب گامزن ہونے اور منشیات سے مکمل اجتناب برتنے کی تلقین کی۔پروگرام پرنسپل پروفیسر ممتازہ گپتا کی قیادت میں منعقد ہوا، جبکہ مختلف فیکلٹی ممبران نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ پروفیسر عرفان عارف کو اسٹیج کی کارروائی مؤثر انداز میں چلانے پر خصوصی طور پر سراہا گیا۔آخر میں طلبہ اور عملے نے اجتماعی طور پر “منشیات کو نہ کہیں” کا عہد کیا اور نشہ سے پاک معاشرے کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا۔