فرانس میںہوئی توہین ِ رسالت اور اس کے ردِ عمل سے حالیہ دِنوں سوشل میڈیا سمیت ذرایع ابلاغ کا ہر حصہ بحث و تکرار میں لگا ہوا ہے۔ حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی نیت سے کارٹون اور فلمیں جاری کرنے کا سلسلہ پہلے سے ہی جاری ہے جس پر وقتاً فوقتاًOICسمیت کئی بین الاقوامی سطح کی انجمنوں کے خصوصی اجلاس بُلائے جاتے رہے ہیں ۔ حالیہ فرانسیسی واقعے نے پوری دنیا میں ایک بار پھر طغیانی برپا کر دی ۔ پوری مسلم اُمت اس سنگین جرم کے خلاف ماتم کناں ہے ۔ دراصل رواں سال ماہِ ستمبر کی16تاریخ کو سیمول پیٹی (Samuel Paty) نام کے47 سالہ مدرس جس نے آنحضرت ﷺ کی شانِ اقدس کے خلاف چند کارٹون اپنے شاگردوں کو دِکھائے تھے، کا سر قلم کیا گیا ۔ یہ کام ایک 18سالہ نوجوان نے انجام دیا جس سے حضرتِ محمد عربی ﷺ کے خلاف ہوئی گستاخی برداشت نہ ہوسکی۔ یقینا کسی بھی صاحبِ ایمان کے لئے اس بات کو برداشت کرنا بعید از امکان ہے۔ اس سے قبل جنوری میں فرانس میں ہی ایک 16سالہ بد دماغ ،گستاخ لڑکی MILAنے بھی اسلام اور کلامِ پاک کے خلاف زہر اُگلا تھا ۔ یہ واقع تب پیش آیا تھا جب مذکورہ لڑکی اپنے ناپاک کرتوتوں کا خلاصہ کر رہی تھیں اور غیر فطری و غیر اخلاقی جنسی تعلقات کی وکالت کر رہی تھی۔ فرانسمیں پیش آنے والے اس طرح کے واقعات کو اس لئے بھی پریشان کُن اور غمناک مانا جاتا ہے کیوںکہ عیسائیت اورAtheism کی اکثریت والے اس ملک میں توہین ِ رسالت کو1881سے ہی جائز مانا جاتا ہے اور اسے اظہارِ خیال کی آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ملک میں عیسائیت اور غیر اسلامی مذاہب کی اکثریت اور توہین ِ رسالت کا قانونی جواز ، دونوں وجوہات کافی تھے دنیا بھر کی مسلم آبادی کے مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانے کے لئے۔لہٰذا توہین رسالت کا جُرم سرزد ہونے کے بعد بھی اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے باوجود مسلمانوں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوششیں تیز ہوئیں۔ ایک بار پھر امت مسلمہ کے خلاف ایک منظم مہم چلائی گئی ۔ Milaکے ناشائستہ اور گستاخانہ الفاظ کے خلاف مذمت کے طور جب بیانات جاری ہوئے بلکہ Mila پہ خوب لعن تان ہوا توFreedom Of Expressionکی آڑ میں اسلام دُشمنوں کی بھاری تعداد نے واویلا کرنا شروع کر دیا ۔ نتیجتاً سوشل میڈیا بشمول Twitterپہ آزادیٔ اظہار کا خوب ڈھول پیٹا گیا اور توہین رسالت کی وکالت کی گئی۔جنوری کی اس اسلام مخالف سازش کے بعد اب اسی طرز کی مہم جوئی فرانسیسی استاد اورگستاخِ نبوتؐ کے ہلاک کئے جانے پر بھی دیکھنے کو ملی۔ اس پر طرہ یہ کہ فرانسیسی صدر نے بھی مقتول گستاخ کے حق میں بیان دیتے ہوئے کارٹونوں کے سلسلے کو نہ روکنے کے اپنے مزموم ارادوں کا اظہار کیا۔اس طرح سے اسلام اور رسالتؐ کے تئیں فرانس کی State Policy بھی ایک بار پھر واضع ہوئی ۔فرانس میں پیش آئے توہین ِ رسالت کے اِن واقعات کے بعد آنا ًفاناًدنیا بھر میں مذمت اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہوا۔ مشرق و مغرب کے کئی ممالک نے پُر زور الفاظ میں فرانس کو متنبہ کیا ۔Boycott France اورIslamophobian France نا م سے ہزاروں ٹویٹ جاری ہوئے جن میں دنیا بھر کے مسلمانوں نے غم و غصے کا اظہار کیا۔ کم و بیش ہر مسلم آبادی والے ملک میں احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ اتنا ہی نہیں ، بلکہ حالات یوںبگڑے کہ فرانس میں چند افراد پہ چھریوں سے حملہ کئے جانے کی خبریں بھی عام ہوئیں ۔
فرانس میں توہین ِ رسالت اور اس کے تئیں حکومت کی واضح اسلام دشمن پالیسی کو محض ایک واقعے کے طور پہ دیکھنا مسلم امت کی سب سے بڑی بھول ہوگی کیونکہ نہ فرانس ایسا پہلا ملک ہے جہاں توہین ِ رسالت کا شرمناک واقع پیش آیا اور نہ ہی ایسے واقعات میں پچھلی دہائیوں سے کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ بلکہ ان واقعات میں پچھلی دہائیوں سے ہوشربا اظافہ ہوا ہے۔ اس مسئلے کو باریک بینی سے سمجھنے کے لئے توہین ِ رسالت کی مختصر سی تاریخ کا خاکہ کھینچنے کی کوشش کرنا لازمی ہے۔
توہین ِ رسالت کا سلسلہ نبوت کے وقت سے ہی جاری ہے لیکن توہین کا ارتکاب کرنے والوں کا انجام دیکھ اسلام دشمن عناصر مرعوب ہوا کرتے تھے اور انہیں پنپنے نہیں دیا جاتا تھا۔ ماضی قریب میں جنگِ عظیم کے بعد سے جب مغربی ممالک نے دنیا بھر کے معاشی اور سیاسی نظام پہ اپنا تسلط جمانے کی ہر ممکن کوشش کرکے دنیا کو اپنے اشاروں پہ نچانا شروع کیا تو قومِ یہود کے ہاتھ میں دنیا کا ریموٹ کنٹرول آنے کی وجہ سے اسلام دشمن عناصر کو سر اُٹھانے کا حوصلہ ملا ۔ کیونکہ مغرب سے مشرق تک غیر مسلم ممالک اگر کسی سے مرعوب نظر آتے تھے تو وہ محض کلمہ گو مسلمان سے۔ اس لحاظ سے ان سب کا ایک ہی دشمن تھا اور وہ تھا اسلام ۔ مشرق و مغرب کے تمام دشمنانِ اسلام نے ایک ہی حل ڈھونڈ لیا اور وہ تھا Islamophobia ،جس کے تحت مسلم اقوام کی کسی بھی پالیسی کو دنیا کے لئے خطرے سے تعبیر کرکے اُنہیں قابل ِ تعزیر قرار دینا آسان ہو گیا۔ اسی نام سے کئی جنگیں لڑی گئیں۔ اسی نام سے عراق، شام، افغان اور سوڈان جیسے کئی ممالک کو درہم برہم کیا گیا اور اسی نام سے آج بھی کشمیر اور فلسطین خون کے آنسو رو رہا ہے۔ توہین ِ رسالت کی بات کریں تو دنیا کے لگ بھگ ہر مسلم اکثریت والے ملک میں توہین ِ رسالت کے خلاف سنگین قوانین بنائے جا چُکے ہیں۔لیکن سوسے زیادہ غیر مسلم ممالک میں اب بھی توہین ِ رسالت کے خلاف کوئی بھی قانون نہیں ہے۔ جبکہ 2012 میں اسلامی ممالک کی انجمن OICنے دنیا بھر میں توہین ِ رسالت کے خلاف ٹھوس قوانین بنانے پر زور دیا تھا۔ مصر کے پروفیسر فرج فودہ، ملیشیا کے عبد القہار احمد ، بنگلادیش کے آطف الرحمان ، برطانیہ کے Gillian Gibbons ، پاکستانی آسیہ بی بی ، بھارتی نژاد برطانوی سلمان رشدی اور ڈنمارک کے Theo Van Gogh سمیت ہزاروں ایسے افراد نے توہین ِ رسالت کا سنگین جرم انجام دیا جنہیں اکثر اُن کے کارناموں کی سخت سزا ملی لیکن بعض کو دشمنانِ اسلام کی کافی حمایت حاصل ہوئی ۔غور طلب بات یہ یے کہ جب جب بھی کارٹون یا مضامین حضورﷺ کی شان مبارک کے خلاف چھپے، تب تب اسلام دشمن عناصر کو حوصلہ ملا اور اگلا واقع رونما ہونے میں زیادہ دیر نہ لگی۔
2010 میں جب توہین آمیز کارٹون ، مضامین اور فلموں سے تنگ آکر مسلم ممالک نے سنگین ردِ عمل ظاہر کرنا شروع کر دیا اور جب بے شمار کلمہ گو نوجوان محبوبِ الٰہی ﷺ کی شان میں گستاخی پہ غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے تلخ لہجہ استعمال کرنے پہ مجبور ہوئے تو مکارانِ وقت نے آزادیٔ اظہار کا کھو کھلا اور بے بنیاد دعویٰ کرتے ہوئے مسلمانوں کو دہشت پسند قرار دیا اور Everybody Draw Mohammadﷺ نام سے باضابطہ طور ایک تحریک چلائی۔ یہ تحریک ظاہری طور پہ ایک امریکی ٹیلی ویژن شو South Parkکے قسط نمبر201 کے رد کئے جانے کے خلاف چلائی گئی ، اس شو میں حضورﷺ کی ذاتِ اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا گیا تھا۔ بہر کیف اس مہم کے ذریعے20 اپریل کو انٹرنیٹ پہ پیغمبر ِ اسلام ﷺ کے خلاف ایک کارٹون شایع کیا گیا اور دنیا بھر کے دشمنانِ اسلام کو دعوت دی گئی کہ وہ اس دِن حضورﷺ کے خلاف کوئی بھی کارٹون شایع کریں تاکہ مسلم آبادی کو مزید کمزورکرکے آزادیٔ اظہار کابے بنیاد نعرہ بلند کیا جائے۔ اس طرح20اپریل کو Everbody Draw Mohammad Day کے طور منانے کی وکالت بھی کی گئی۔اس طرح پوری دنیا میں حضور ﷺ کے خلاف اور مسلمانوں کے کُل ہُم جذبات کے خلاف سازش پہ سازش ہوتی رہی اور مسلم اُمت کو احتجاج، اور مزاحمت پہ اُکسایا گیا۔ جب جب مسلم اقوام سے مذمت کے بیانات آئے ، دنیا Freedom Of Speach کا ڈھول پیٹنے لگی۔
اس اُکساوے کی کوششیں یہاں ہندوستان میں بھی پچھلے ایک دو دہائیوں سے تیز ہوئی ہیںبلکہ FacebookاورTwitterسمیت سبھی سوشل میڈیا سائٹس پہ ہمارے عقائد اور مذہب کے خلاف پوسٹس اور اشتہارات کا طوفان بپا ہوا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ بین الاقوامی سطح پہ OICجیسی انجمنوں کی طرف سے ایسی ٹھوس پالیسی مرتب کی جائے جس سے توہین رسالت کی اس شرمناک روش کو ختم کیا جا سکے۔ مسلم ممالک پر بھی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ کسی بھی غیر مسلم ملک ، جس میں توہین ِ رسالت کے خلاف کوئی ٹھوس قانون نہ ہو اس کے ساتھ کاروبار سمیت باقی ماندہ سفارتی تعلقات کو ملتوی کر دیا جائے۔ اس سے اگرچہ مسلم ممالک کی معیشت پر دبائو پڑ سکتا ہے لیکن وحدانیت اور رسالت عقائد سے معتبر کوئی چیز نہیں ۔ بقولِ علامہ اقبال ؒ ؎
دین ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو مِلت
ہے ایسی تجارت میں مسلمان کا خسارہ
علاوہ ازیں مسلم اقوام تفرک اور آپسی رنجش کے بجائے آپسی کاروبار اور مشترک حکمت ِ عملی پہ زور دیں تاکہ ان ممالک کی معیشت فرنگیوں پہ منحصر نہ رہے۔ حالانکہ یہاں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فرنگیوں کی سازش در سازش نے مسلم اتحاد کو بار بار ضرر پہنچایا ہے اور ان کی یہ مذموم کوششیں جاری رہیں گی لیکن اس کے جواب میں مسلم اقوام کو بھی بالخصوص مشرق وسطیٰ کو ہوش کی ناخن لینے کی اشد ضرورت ہے۔
رابطہ۔ہردوشیواہ زینہ گیرسوپور کشمیر
فون۔ 9149468735