بحیثیت مسلمان ہمارے ایمان، عقیدت مندی اور محبت کا تقاضا ہے کہ ہم رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے لئے پھانسی کی سزا کا مطالبہ کریں لیکن دنیا میں بسنے والے تمام غیر مسلم حضرات ہمارے اس مطالبے کو نہ تو قبول کرتے ہیں اور نہ ہی اس کو ایک موزوں مطالبہ سمجھتے ہیں۔ان کا یہ رویہ بھی کوئی غیر قدرتی نہیں ہے کیونکہ وہ اسلام کے بارے میں ایک پیروکار کی طرح جانکاری اور عقیدت نہیں رکھتے۔آخر اس معاملے کو غیر مسلموں کے سامنے کس طرح پیش کیا جائے تاکہ وہ بھی علمی و عقلی بنیادوں پر ہمارے اس سٹینڈ کوحق بجانب مانیں۔اس ضمن میں چند سطور لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
تمام مذاہب کی رو سے اس کائنات کا ایک خالق و مالک ہے جو اس کا انتظام وانصرام چلا رہا ہے اور انسان کو ہر طرح کی ہدایت دینے کا بندوبست کرتا ہے۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ مجھے اپنی زندگی سنوارنے و سدھارنے کا موقع نصیب نہیں ہوا بلکہ ہر انسان اپنی اپنی جگہ پیش آمد صورتحال کو اپنی زندگی میں بہت سارے مواقع پر کی گئی سستی و کاہلی کا ہی نتیجہ مانتا ہے اور اپنی جگہ پچھتاتا ہے کہ اس اس موقعہ پر میں نے فلاں فلاں غلطی کی وغیرہ وغیرہ۔انسان کا یہ پچھتاوا درحقیقت ہدایت ملنے پر اس کی ناقدری کا نتیجہ ہے۔ایک انسان جب تک اپنے ضمیر پر فیصلہ چھوڑتا ہے تو اچھی راہ پاتا ہے اور جب بھی اپنے نفس پر یہ ذمہ داری ڈالتا ہے تو ٹھوکر کھا کر ہمیشہ کے لئے غلط راہ پر چل پڑتا ہے۔ایسا ہی کچھ معاملہ پیغمبر اعظم ؐ کی سیرت مطہرہ کے ساتھ دنیا والوں نے کیا۔جب سیرت کا مطالعہ کرنے والوں نے مطالعہ کے بعد فیصلہ اپنے نفس پر چھوڑا تو نتیجہ منفی اور بیہودہ باتوں کی شکل میں برآمد ہوا۔اگر ہمارے غیر مسلم بھائی سیرت کا مطالعہ خالی الذہن ہو کر سنجیدگی سے کریں گے تو میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے ضمن میں زیادہ احتجاج اور سزا کا مطالبہ ان ہی کی طرف سے ہوگا۔ جو بھی سیرت کا مطالعہ نیک نیتی سے کرتا ہے وہ ضرور صحیح راستہ پا کے رہتا ہے اور جس پر چل کر وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو خراجِ تحسین پیش کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہ رہا ایک پہلو جس میں خالص علمی طور پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے غیر مسلم حضرات سے گذارش کی گئی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں۔
دوسرا انسانی زندگی کا عملی پہلو ہے جس میں ایک انسان ایک اعلیٰ عملی معیار کی تلاش میں رہتا ہے تا کہ وہ اپنی زندگی کے تمام عملی بکھیڑوں سے اپنے آپ کو بآسانی گذار سکے۔وہ اعلیٰ عملی معیار جو ایک انسان کو مل سکتا ہے وہ صرف رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں موجود ہے۔ عدل و انصاف کی منتظر یہ مایوس انسانیت مختلف جھانسوں میں آکر کبھی ایک جماعت کو آزماتی اور کبھی دوسری کو ، اسطرح سے ہر سال ایک نئی تبدیلی دیکھنے کا خواب دیکھتی ہے لیکن اس کے خواب کو بری طرح سے کچلا جاتا ہے۔مذہب کے سوال کو ایک طرف رکھ کر خالص اگر انسانیت کے نقطہ نظر سے پوری تاریخ کو دیکھا جائے کہ کس انسان نے انسانیت کی بے لاگ خدمت کی ہے، انسانیت کو قابلِ عمل بے مثال قانون عنایت کیا تو میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کا نام نہیں آئے گا۔یونان کے فلسفیوں کی سوانح حیات کھنگالیں، روم کے مقننین کی سوانح حیات پڑھیں، دنیا کے بادشاہوں کی زندگیوں کو دیکھیں، غرضیکہ دنیا کے تمام بڑی شخصیات کی سوانح عمری کا مطالعہ کریں پھر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو بھی پڑھ لیں تو بلا شبہ و شک آپ کی فطرت پر جس شخصیت کا قبضہ ہو گا وہ صرف اور صرف نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی۔جس طرح ستاروں میں سورج روشن ہے، جس طرح بہار کی رونق میں پھول سب سے زیادہ بارونق ہوتے ہیں اور جس طرح ہیروں میں سب سے زیادہ کوہِ نور چمکدار ہے اسی طرح سے دنیا کی تمام عظیم شخصیات میں نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم محترم ہیں۔
دنیا کے بہت سارے ممالک میں ایسے قوانین جاری ہیں جن کے تحت اگر کوئی بھی شخص ملک کی معزز شخصیات پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے وہاں کے پینل کوڈ کے تحت سخت سزا دی جاتی ہے۔جیسے پولینڈ، وینوزیلہ، ایران، ترکی، نیدرلینڈ،بحرین، تھائی لینڈ، کویت وغیرہ حتی کہ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے پینل کوڈ کے سیکشن 292 کا حوالہ دیتے ہوئے فنکاروں کی آزادی اظہار پر پابندی لگائی کہ کوئی بھی آدمی اس آزادی برائے اظہار کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ملک کی کسی بھی figure iconicجیسے مہاتما گاندھی، سبھاش چندر بوس، ولب بھائی پٹیل و غیرہ کی توہین نہیں کر سکتا ہے اور اس ضمن میں مجرم کو دو سال کی سزا لگنے کا اعلان کیا۔
دنیا کے ہر خطے میں مجموعی طور پر اس احساس کو ابھرا ہوا پایا جا سکتا ہے کہ قوم و ملک کی کسی بھی محسن شخصیت کی توہین ایک جرم ہے اور اس پر سزا دی جانی چاہیے۔یہ اسی مجموعی احساس کا نتیجہ ہے کہ مذکورہ بالا ممالک میں قانونی طور پر سزائیں دی جاتی ہیں۔یہ تو رہا انفرادی طور پر ممالک کا معاملہ کہ ہر ملک کی قوم اپنے محسن شخصیت کے احسان کے بوجھ تلے یہ سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہے جس کا ابھی ذکر کیا گیا۔کیا پھر مجموعی طور پر پوری انسانیت اس شخصیت کے احسان کو بھلا سکتی ہے جو محسنِ انسانیت کا لقب حاصل کر چکی ہو جو پوری انسانیت کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام مخلوقات کے لیے رحمت بن کر آئی ہو۔ رحمت اللعالمین کا لقب دنیا کی کسی بھی عظیم شخصیت کو نہ ملا اور نہ ہی مل سکتا ہے۔محسنِ اعظم کا لقب صرف اور صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی حق ہے جنہوں نے پوری نوعِ انسانی پر وہ احسانات کیے۔
نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم رحمت اللعالمین اور محسن انسانیت ہونے کے ناطے محترمِ انسانیت یا محترم اعظم بھی ہیں۔اگر دنیا کے لوگ پلیٹو، ارسطو، رابٹ کوچ، جابر بن حیان، لاویسرز، آئنسٹین، نیوٹن، ہاکنگ،ابن خلدون ،ہیروڈوٹس،جارج واشنگٹن، نیپولین، اکبر، اسکندر، گاندھی، محمد علی جناح حتی کہ آج کل کے حکمرانوں کا نام عزت سے لیتے ہیں اور ان کے نام کے ساتھ نہ جانے کتنے ادارے اور اصلاحی کاموں کو جوڑتے ہیں تو کس بنیاد پر نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیتِ اعظم پر کسی کا کیچڑ اچھالنا سراہا جائے اور اس کا یہ آزادی اظہار اور حقِ اظہار مانا جائے۔
ذاتی شرافت کا سب سے اعلیٰ معیار جو ہو سکتا ہے اس کا اعلیٰ نمونہ صرف اور صرف نبی محترم ؐ کی ذات مبارکہ میں موجود ہے ،اس حوالے سے سیرت کی کتابیں واقعات سے بھری پڑی ہیں۔عوام کی خیر خواہی کا جو سب سے اعلیٰ سطح ہو سکتی ہے وہ صرف اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ میں موجود ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول اور فعل خیر خواہی کا ایک شاہکار تھا جس کے مطابق آج بھی عمل کرنے والا فاعل خیر کی خوشبو سے پورے معاشرے کو معطر کرتا ہے۔لوگوں پر حقیقی احسان کرنے کے حوالے سے جو سب سے غیر معمولی اعلیٰ ترین مثال کوئی ہو سکتی ہے تو وہ صرف رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال ہے۔عدل و انصاف کے حوالے جو مطمئن بخش عدل و انصاف کی مثال تاریخ میں تلاش کرنی ہوگی تو وہ صرف آپ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اور ان کیتربیت یافتہ خلفاء کے دور میں مل سکتی ہے۔ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا محسنِ انسانیت کی توہین کرنا ایک بہت بڑا جرم تسلیم نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ اس پر سزا دینا پوری دنیا کی حکومتوں پر لازم ہے۔اس حوالے سے سیرت کے پیغام کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔
ای میل۔[email protected]