عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// ہندوستانی سائنسدانوں نے سستا اور اعلیٰ کارکردگی والا ایک نیا تھرمل(حرارتی)انرجی اسٹوریج مٹیریل تیار کیا ہے جو قابلِ تجدید توانائی کے نظاموں خصوصا کنسنٹریٹڈ سولر پاور (CSP) پلانٹس اور صنعتی فضلے سے حاصل ہونے والی حرارت کو دوبارہ استعمال کرنے والے نظاموں میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔یہ پیش رفت وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت کام کرنے والے خودمختار ادارے International Advanced Research Centre for Powder Metallurgy and New Materials کے محققین نے حاصل کی ہے۔ ادارے نے تھرمل انرجی اسٹوریج کے لیے اسپنل نینو کمپوزٹ فیز چینج مٹیریل (PCM) تیار کرنے کا ایک کم لاگت اور بڑے پیمانے پر قابلِ استعمال طریقہ کار وضع کیا ہے۔
تحقیق کی اہم تفصیلسائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں پایا کہ فیز چینج مٹیریل میں صرف 1 فیصد اسپنل آکسائیڈ نینو ذرات شامل کرنے سے اس کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق:مٹیریل کی مخصوص حرارت کی گنجائش میں تقریبا 45 فیصد اضافہ ہوایہ اضافہ مٹیریل کی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں واضح بہتری کی نشاندہی کرتا ہیتکنیکی عمل کیسے کام کرتا ہے؟ماہرین کے مطابق نینو ذرات کی شمولیت سے مٹیریل کی سطحی توانائی بڑھ جاتی ہے اور ایک مستحکم اسپنل آکسائیڈ تہہ تشکیل پاتی ہے۔ یہ عمل حرارت کو زیادہ مثر طریقے سے جذب اور محفوظ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ممکنہ فوائد اور استعمالسائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے:کم لاگت اور چھوٹے سائز کے انرجی اسٹوریج ٹینک تیار کیے جا سکیں گیمینوفیکچرنگ لاگت میں کمی آئے گیآپریشنل اخراجات کم ہوں گیاور صاف توانائی کے ذخیرے کے نظام مزید مثر بنیں گییہ پیش رفت صاف توانائی کے شعبے میں ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے جو مستقبل میں شمسی توانائی اور صنعتی حرارت کے بہتر استعمال کی راہ ہموار کرے گی۔