نئی دہلی//صدر رام ناتھ کووند نے آج کہا کہ گذشتہ پانچ برسوں میں ملک کے عوام میں یہ اعتما د پیدا ہوا ہے کہ حکومت ان کے ساتھ ہے ،ان کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے اور اسی کے پیش نظر اس نے اس مرتبہ کے عام انتخابات میں ترقیاتی امور کی رفتار تیز کرنے کی وجہ سے واضح اکثریت سے ہمکنار کیا ہے ۔ مسٹر کووند نے پارلیمنٹ کی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے حکومت کو پہلے سے زیادہ قوی حمایت دی ہے ۔ اس الیکشن میں اس نے بہت واضح اکثریت سے ہمکنار کیا ہے ۔ حکومت کے پہلے مدت کار کے تجزیہ کے بعد عوام نے دوسری بار بھی اپنی حمایت دی ہے ۔ یہ فیصلہ گویا ملک کے باشندوں نے سنہ 2014 سے چلنے والی ترقی کے سفر میں رکاوٹ نہ ڈالنے اور تیز رفتار سے آگے بڑھنے کے لیے ووٹ دے کر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا،‘ سنہ 2014 سے پہلے ملک میں جو ماحول تھا اس سے تمام شہری بخوبی واقف ہیں۔ مایوسی اور عدم استحکام کے ماحول سے ملک کو باہر نکالنے کے لیے ملک کے باشندوں نے تین دہائیوں کے بعد واضح اکثریت والی حکومت کا انتخاب کیا ہے ۔ اس عوامی حمایت کو سب سے اعلیٰ تسلیم کرتے ہوئے حکومت نے ‘سب کا ساتھ سب کا وکاس’ کے نعرے پر چلتے ہوئے بلا تفریق کام کرتے ہوئے ایک ہندوستان کی تعمیر کی سمت میں آگے بڑھنا شروع کیا’۔ صدر نے کہا کہ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک کے باشندوں میں یہ یقین پیدا ہوا ہے کہ حکومت ہمیشہ ان کے ساتھ ہے ۔ ان کی زندگی بہتر بنانے اور ‘ایز آف لیونگ’ بڑھانے کے لیے کام کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا،‘ ملک کے عوام نے زندگی کی بنیادی سہولتوں کے لیے لمبے وقت تک انتظار کیا لیکن اب صورتحال بدل رہی ہیں۔ حکومت عوامی سہولت کو اتنا ہمواراوررکاوٹ سے آزاد چاہتی ہے کہ عوامی زندگی میں اسے حکومت کا ‘دباؤ، اثر یا کمی’ نہ محسوس ہو۔ ملک کے ہر شخص کو طاقتور کرنا حکومت کا اہم مقصد ہے ’۔ مسٹر کووند نے کہا کہ حکومت ملک کے باشندوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کرتے ہوئے اب ان کی امیدوں کے موافق ایک طاقتور،محفوظ، مستحکم ہندوستان کی تعمیر کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے ۔ یہ سفر ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ اور سب کا وشواس’ کے جذبے سے سرشار ہے ۔ صدر نے کہا کہ حکومت دوسری مدت کار شروع کرتے ہوئے نئے ہندوستان کی تعمیر میں مزید تیزی کے ساتھ مصروف عمل ہے ۔ ایک ایسا ہندوستان جہاں ہر شخص کو آگے بڑھنے کے لیے یکساں مواقع ہوں،جہاں ہرشہری کی زندگی بہتر ہو اور اس کی عزت نفس میں اضافہ ہو، جہاں بھائی چارہ اور مساوات تمام شہریوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہوں، جہاں اصولوں ،قدروں کی ہماری بنیاد مزید مضبوط ہو ،جہاں ترقی کا فائدہ ہر علاقے میں اور سماج کی آخری صف میں کھڑے شخص تک پہنچے ۔ مسٹر کووند نے کہا کہ اس لوک سبھا میں تقریباً نصف اراکین پارلیمنٹ پہلی بار منتخب ہوئے ہیں۔ لوک سبھا کی تاریخ میں سب سے بڑی تعداد میں 78 خاتون اراکین پارلیمنٹ کا منتخب ہونا نئے ہندوستان کی تصویر پیش کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا تنوع اس مشترکہ سیشن میں نظر آرہا ہے ۔ ہر عمر کے گاؤں اور شہر کے ، ہر پیشے کے لوگ، دونوں ایوانوں کے اراکین ہیں۔ کئی اراکین سماجی کارکن ہیں، بہت سے رکن کھیتی کسانی کے میدان سے ہیں، تجارت اور معیشت سے ہیں تو دیگر بہت سے رکن تعلیم کے شعبے سے ہیں، عوام کی زندگی بچانے والے میڈیکل پروفیشن سے ہیں، لوگوں کو انصاف دلانے والے لیگل پروفیشن سے ہیں۔ فلم، آرٹ، ادب اور تہذیب کے شعبوں میں اپنی شناخت بنانے والے اراکین بھی یہاں موجود ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ تمام اراکین پارلیمنٹ کے خصوصی تجربوں سے پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث مثبت ہوگی۔ مسٹر کووند نے کہا کہ ملک کے 61 کروڑ سے زائد رائے دہندگان نے حق رائے دہی کا استعمال کرکے ریکارڈ قائم کیا ہے اور دنیا میں ہندوستان کی جمہوریت کی ساکھ بڑھائی ہے ۔ شدید گرمی میں بھی عوام نے لمبی قطاروں میں کھڑے رہ کر اپنا ووٹ کیا۔ اس مرتبہ خواتین نے پہلے کے مقابلے میں زیادہ ووٹنگ کی ہے اور ان کی حصہ داری تقریباً مردوں کے برابر رہی ہے ۔ کروڑوں نوجوانوں نے پہلی بار ووٹ کرکے ملک کے مستقبل کی تعمیر میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے لوک سبھا کے نئے اسپیکر کو ان کے اس نئی ذمہ داری کے لیے مبارکباد دی۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کے سب سے بڑے الیکشن کو منعقد کروانے کے لیے الیکشن کمیشن کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔
کالے دھن، بدعنوانی کے خلاف مہم ہوگی تیز
نئی دہلی//صدر رام ناتھ کووند نے کالے دھن اور بدعنوانی پر روک لگانے کی بابت حکومت کے عزائم کودہراتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ اس مہم کو اور تیز کیا جائے گا۔ مسٹر کووند نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت ملک میں بدعنوانی روکنے کے لئے پابند عہد ہے اور اس سمت میں متعدد قدم اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے ملک کو یقین دلایا کہ کالے دھن کے خلاف شروع کی گئی مہم اور تیز رفتار سے آگے بڑھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں چار لاکھ 25 ہزار ڈائرکٹرز کو نااہل قرار دیا گیا ہے اور تین لاکھ 50 ہزار مشتبہ کمپنیوں کے رجسٹریشن کومنسوخ کیا جا چکا ہے ۔ صدر نے اقتصادی جرائم کرکے بیرون ملک فرارہونے والوں پر کنٹرول کے لئے لائے گئے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘بھگوڑے اور اقتصادی مجرم ایکٹ’ اس معاملہ میں بہت مفید ثابت ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا‘‘اب ہمیں 146 ممالک سے معلومات حاصل ہو رہی ہے ، جس میں سوئٹزرلینڈ بھی شامل ہے . ان میں سے 80 ممالک ایسے ہیں، جن سے ہماری معلومات کے خود کار طریقے سے تبادلہ کرنے کا بھی معاہدہ ہوا ہے ۔ جن لوگوں نے بیرون ملک کالا دھن جمع کررکھاہے ، اب ہمیں ان سب کی معلومات حاصل ہو رہی ہے ’’۔ بدعنوانی پر قد غن لگانے کی سمت میں‘ کوڈ آف بینک کرپٹسی اینڈ ریفیوژل ڈس ابیلٹی ایکٹ’کو ملک کے سب سے بڑے اور مؤثر اقتصادی اصلاحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کے عمل میں آنے کے بعد براہ راست اور بالواسطہ طور پر بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی ساڑھے تین لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم کا تصفیہ ہوا ہے ۔ مسٹر کووند نے براہ راست فائدہ منتقلی (ڈي بي ٹی) کی اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چار سو اسکیموں کی رقم براہ راست فائدہ اٹھانے والوں کے اکاؤنٹ میں پھچائی جارہی ہے ۔
اعلی تعلیم کے شعبے میں 2 کروڑ سیٹیں بڑھیں گی
نئی دہلی// حکومت اعلی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے آئندہ پانچ سال میں دو کروڑ نشستیں بڑھائے گی اور خود کار روزگار کو فروغ دینے کے لئے 50 ہزار اسٹارٹ اپ دستیاب کرائے گی۔صدر رام ناتھ کووند نے جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی صلاحیت کو مزیدبہتر بنانے کے لئے ‘پردھان منتري اننویٹو لرننگ پروگرام’ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، "میری حکومت، ملک کے اعلی تعلیم کے نظام میں نشستوں کی تعداد کو 2024 تک ڈیڑھ گنا کرنے کے لئے کوشاں ہے ۔اس اقدام سے نوجوانوں کے لئے اعلی تعلیمی اداروں میں دو کروڑ اضافی نشستیں دستیاب ہوں گی۔حکومت کی طرف سے جنرل زمرے کے غریب نوجوانوں کے لئے 10 فیصد ریزرویشن کا انتظام کیا گیا ہے ۔ اس سے انہیں تقرری اور تعلیم کے شعبہ میں اور مواقع حاصل ہو سکیں گے ۔’’ انہوں نے کہا کہ اعلی تعلیمی اداروں میں تحقیقی کام کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔اس کوشش کو اور مضبوط بنانے کے لئے ‘نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن’ قائم کرنے کی تجویز ہے ۔ یہ مجوزہ فاؤنڈیشن، مرکزی حکومت کے مختلف محکموں، سائنس لیبارٹریوں، اعلی تعلیمی اداروں اور صنعتی اداروں کے درمیان پل کا کام کرے گا۔اس کے علاوہ دنیا کے چوٹی کے 500 تعلیمی اداروں میں ہندوستان کے کئی ادارے اپنی جگہ بنا سکیں، اس کے لئے اعلی تعلیمی اداروں کی خود مختاری اور مالی شراکت کے ذریعے حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ۔ صدر نے کہا کہ اسٹارٹ اپ اور خودکارروزگار کے لئے مالی مدد فراہم کرانے اور اعلی تعلیم کے لئے مزید نشستیں فراہم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی اسکالر شپ کی رقم میں بھی نئے ہندوستان کی تعمیر میں نوجوان نسل کی مؤثر شرکت ہونی ہی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سماج کے ہر طبقے کا نوجوان اپنے خواب پورے کر سکے ، اس کے لئے وقت پر مالی وسائل فراہم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے ۔ 'پردھان منتری مدرا یوجنا ' کے تحت خودکار روزگار کے لئے تقریبا 19 کروڑ بطور قرض دیئے گئے ہیں۔اس اسکیم میں توسیع کرتے ہوئے اب 30 کروڑ لوگوں تک اس کا فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔ تاجروں کے لئے بغیر ضمانت کے 50 لاکھ روپے تک کے قرض کی اسکیم بھی لائی جائے گی۔ اس کے علاوہ مناسب پالیسیوں کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان دنیا کے سب سے زیادہ اسٹارٹ اپ والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے ۔ اسٹارٹ اپ ا یکوسسٹم کو بہتر بنانے کے لئے ، حکومت قوانین کو اور بھی آسان بنا رہی ہے ۔ اس مہم میں اور تیزی لائی جائے گی۔ہمارا مقصد ہے کہ سال 2024 تک ملک میں 50 ہزار اسٹارٹ اپ قائم ہوں۔ مسٹر کووند نے کہا کہ بچوں کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے ، مناسب موقع اور ماحول اور معیاری تعلیم فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔اس کے لئے 'پردھان منتری انوویٹو لرننگ پروگرام' کی شروعات کی جائے گی۔ اسکولی سطح پر ہی بچوں میں ٹیکنالوجی کے تئیں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے انفراسٹرکچر تیار کیا جا رہا ہے ۔ 'اٹل انوویشن مشن' کے ذریعے ملک بھر کے تقریبا نو ہزار اسکولوں میں 'اٹل ٹنکرنگ لیب' کے قیام کا کام تیزی سے کیا جارہا ہے ۔ اسی طرح، 102 یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں 'اٹل اکیوبیشن سینٹر' بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر، کھیل-مقابلوں میں متاثر کن کارکردگی سے ملک کا سر فخر سے بلند ہوتا ہے ۔ ساتھ ہی، بچوں اور نوجوانوں میں کھیلوں کے تئیں دلچسپی بڑھتی ہے ۔ہندوستان کو عالمی سطح کی کھیل-طاقت بنانے کے لئے ، ملک کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت اور ان کا شفاف طریقہ سے منتخب کرنا اہم ہے ۔ ریاست اور ضلع کی سطح پر کھلاڑیوں کی پہچان کے لئے 'کھیلیں-انڈیا پروگرام' کو وسیع شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس کے تحت، 2،500 باصلاحیت کھلاڑیوں کو منتخب کر کے ، انہیں تربیت دی جا رہی ہے ۔
زرعی پیداواربڑھانے پر 25 لاکھ کروڑ ہوں گے خرچ:کووند
نئی دہلی// حکومت آنے والے وقت میں ملک میں زرعی پیداوار بڑھانے پر 25 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی۔ صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا کہ دیہی معیشت کے مضبوط ہونے سے ملک کی معیشت مضوط ہوگی۔ حکومت اس کا دھیان رکھے گی کہ زرعی ترقی میں ریاستوں کوا مداد ملے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کے آنے کے 21 دن کے اندر کسانوں، جوانوں اور طلبا ئکے لئے متعدد فیصلے کئے گئے ہیں۔ کسانوں کو‘ان داتا’بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کھیتوں میں سخت محنت کرنے والے کسان 60 سال کی عمر کے بعد قابل احترام زندگی جی سکیں اس کے لئے پنشن اسکیم شروع کی گئی ہے ۔ سنہ 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے لئے فصلوں کی منیمم ا سپورٹ پرائز میں اضافہ کیا گیا ہے ، فوڈ پروسیسنگ صنعتوں کے قیام کے لئے صد فی صد غیر ملکی سرمایہ کاری کو منظوری دی گئی ہے اور سال سے التو میں پڑی سنچائی اسکیموں کو پورا کیا جا رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی فصل انشورنس کی اسکیم کو لاگو کیا گیا ہے اور سو فیصد نیم کوٹڈ یوریا کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے ۔ مسٹر کووند نے کہا کہ تمام کسانوں کو براہ راست مالی ا مداد فراہم کرنے کے لئے شروع کی گئی ‘پردھان منتری کسان سمان ندھی کوش یوجنا’ کے تحت 12 ہزار کروڑ روپے واگذار کئے گئے ہیں اور اس اسکیم پر سالانہ 90 ہزار کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے ۔کسانوں کو گاؤں کے نزدیک ہی آناج کی سٹوریج کی سہولت جلد ہی دستیاب کرائی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ بلیو انقلاب کے ذریعے بھی کسانوں کی آمدنی بڑھائی جا سکتی ہے ۔ اس کے لئے الگ وزارت بنائی گئی ہے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے الگ سے فنڈ کا انتظام کیا گیا ہے ۔ سمندر اور اندرونی ماہی پیداوار کو بڑھا جا رہا ہے جس سے کسانوں کی آمدنی بڑھ سکتی ہے ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ 21 ویں صدی میں پانی کا بحران ایک بڑا چیلنج ہے اور موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے یہ بحران مزید بڑھ سکتا ہے ۔ آبی تحفظ مہم کو صفائی مہم کی طرح چلایا جانا چاہئے ۔
ایک ملک ایک انتخاب،وقت کا تقاضہ
نئی دہلی//صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے ملک میں لوک سبھا اور اسمبلیوں کے انتخابات ساتھ ساتھ کرانے کی حکومت کی تجویز کو ترقی رخی بتاتے ہوئے سبھی ممبران پارلیمنٹ سے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی درخواست کی ہے ۔ مسٹر کووند نے جمعرات کو پارلمینٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سبھی ارکان سے دوخواست کی کہ وہ ‘ایک ملک ایک انتخاب ’کی تجویز پر سنجیدگی سے غورکریں ۔انھوں نے اس تجویز کو ترقی رخی بتاتے ہوئے کہاکہ آج وقت کا تقاضہ ہے کہ اس طرح کا نظام نافذ کیاجائے تاکہ ملک کی ترقی تیزی سے ہو سکے اور ملک کے عوام کا فائدہ ہو۔انھوں نے کہاکہ حکومت کا ماننا ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیاں ،ریاستیں اور ملک کے 130 کروڑ عوام ہندستان کی جامع اور تیزترقی کے لیے متحد ہیں ۔ہماری جمہوریت میں کافی پختگی آچکی ہے ۔ گزشتہ کچھ دہائیوں کے دوران ملک کے کسی نہ کسی حصہ میں عام طورپر کوئی نہ کوئی انتخاب ہونے سے ترقی کی رفتار اور تسلسل متاثر ہوتارہاہے ۔ملک کے لوگوں نے ریاستوں اور قومی سطح کے معاملوں پر اپنا واضح فیصلہ سناکر عقلمندی اور سمجھداری کا مظاہر ہ کیاہے ۔ صدرجمہوریہ نے کہاکہ آج وقت کا تقاضہ ہے کہ ‘ایک ملک ایک انتخاب ’کا نظام لایاجائے جس سے ملک کی ترقی تیزی سے ہو سکے اور ملک کے عوام کو اس سے فائدہ ہو۔ واضح رہے کہ وزیراعظم نریندرمودی نے اس تجویز پرتبادلہ خیال کے لیے بدھ کے روز کل جماعتی میٹنگ طلب کی تھی جس میں اس موضوع کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیاگیا۔مسٹر مودی یہ کمیٹی تشکیل دیں گے ۔کانگریس سمیت کئی پارٹیوں نے اس میٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔یواین آئی