سید اعجاز
ترال// ترال کا ہر علاقہ قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہے اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے 5سال پہلے سرکار نے ابتدائی مرحلے میں انتہائی خوبصورتی سے مالا4مقامات جن میں شکار گاہ،پنیر ڈیم،آری پل اور نارستان شامل ہے کو سیاحتی گائوں کا درجہ دیا ۔اگر چہ اعلان کے ساتھ ہی مقامی لوگوں نے خوشی اور اطمنان کا اظہارکیا تھا تاہم5سال کاوقت گزر نے کے باجود یہاں تا حال کوئی کام شروع نہیں کیا گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے علاقے کے لوگ مایوسی کے شکار ہوئے ہیں انہوں انتظامیہ سے اس بارے میں زمینی سطح پر کام شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ ہمیں خوشی ملی کہ سرکار نے دیر سے ہی صیح مگر ایک اچھا قدم اٹھایا تھا۔ انہوں نے بتایا ان پانچوں گائوں کے لوگوں کو یہاں سیاحتی سرگرمیوں کے لئے ایک رقم فراہم کرنے کا بھی اس وقت اعلان کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا تاہم تاحال عملی طور پر اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جس کی وجہ سے یہاں نوجوانوں کام شروع کرنے کے منتظر ہیں۔ ان پانچ مقامات میں سے شکار گاہ ترال بھی ایک اہم اور تاریخی سیاحتی مقام ہے جہاں آج بھی لوگ کثیر تعداد میں آتے ہیں لیکن یہاں قدرتی خوبصورتی موجود ہے لیکن بنیادی ڈانچے کی عدم دستیابی سے سیلانیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جبکہ نارستان بھی ایک خوبصورت جگہ ہے جہاں سال کے ہر موسم میں وادی کشمیر کے مختلف علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد آتی ہے جبکہ حال ہی میں یہاں کچھ غیر مقامی سیاح بھی آئے تھے۔نارستان علاقے میں قائم ایک ریسٹورنٹ کے مالک رفیق احمد نے کہاکہ سیلانی اس علاقے کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں،یہاں کے نالے میں ایک خاص قسم کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں جن کو شکار کرنے کے لئے وادی کشمیر کے دور درواز علاقوں سے لوگ آتے ہیں۔انہوں نے بتایا یہاں عام لوگوں کو بیٹھنے کے لئے جگہ موجود نہیں ہے انہوں نے بتایا اگر سرکار اس بارے میں قدم اٹھائے گی تو یہ علاقہ سیاحت کا سب سے اہم اور مشہور علاقہ بن سکتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جن دیہات کو سیاحتی گائوں کا درجہ ملا ہے ان میں زمینی سطح پر کام شروع کیا جانا چاہے۔ممبراسمبلی ترال رفیق احمد نائیک نے بتایا کہ انہوں نے اس مسئلے کو حال کے اسمبلی کے سیشن میںا ٹھایااور وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ مرحلہ وار بنیادوں پر علاقے کے سیاحتی مقامات کو ترقی دی جائے گی ۔