کیا ہم خوشی کے موقعہ عید الفطر کا انتظار کر رہے ہیں ، یا ہم ایک بہت بڑے سوگ کی تیاری کر رہے ہیں جو ہم پر اُس صورت میں مسلط ہوگا اگر ہم نے احتیاط نہیں برتی۔ پچھلے دو دنوں سے پریشان کن رجحان دیکھا جارہا ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں گھرو ں سے باہر نکل رہے ہیں اورعید کی خریداری کررہے ہیں۔ آدمی حیران ہوجاتا ہے کہ لوگ اس بحران کی شدت کو کس طرح پیچھے چھوڑتے ہیں اور بازاروں میں بھیڑ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ صریح خودکشی ہے۔ صرف خود کشی ہی نہیں ، بلکہ اجتماعی قتل بھی ہے۔ باہر جانے اور خریداری کرنے والوں کو یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ یہ صرف ان کی اپنی زندگی ہی خطرے میں نہیں ہے بلکہ آس پاس کے لوگوں کی بھی ہے۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم ایک بے مثال بحران سے گذر رہے ہیں جہاں ہر روز ہزاروں افرادکورونا وائرس کی بیماری میں مبتلاہوجاتے ہیں اور درجنوں زندگی کی جنگ ہار جاتے ہیں۔ ہندوستان کے دوسرے حصوں کی طرح کووڈ وبائی امراض میں موجودہ اضافے نے جموں و کشمیر کے ساتھ فی الوقت یہی کچھ کیا ہے۔ یہ اب مکمل طور پر معاشرے میں پھیلی ہوئی بیماری ہے اور لوگوں کو بچانے والی واحد چیز گھر وںکے اندر رہنا ہے۔ یہاں تک کہ کنبہ کے اندر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
یہ کوئی پہلی عید نہیں ہے جو ہمیں منانی ہے اور اگر ہم سب زندہ رہ جائیں تو یہ آخری بھی نہیں ہوگی۔ مستقبل میں خوشی منانے کے لئے ہمارے پاس بہت سے مواقع ہوں گے ، لیکن خدا کیلئے اس وقت گھروں کے اندر ہی رہیں۔ یہ انفیکشن اس سے بھی مہلک ہے جس کا ہم نے پہلے تصوریا اندازہ کیا تھا۔ ہم نے جوان اور قابل جسمانی حالت والے لوگوں کوہسپتالوں میں ایک انتہائی دردناک حالت میں مرتے ہوئے دیکھا ہے۔ آکسیجن کی ایک سانس لینے کے لئے لوگوں کے ہانپتے ہوئے مناظررونگٹے کھڑے کرنے والے ہیں۔ خدا نہ کرے ، اگر ہم گھر کے اندر ہی نہیں رہیںگے تو کووڈ کے معاملات میں اضافہ ہونا طے ہے۔ اور ہم سب کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ متعلقہ محکموں کی کوششوں کے باوجود اگر کورونا معاملات میں اچانک مزید اضافہ ہوجاتا ہے توآپ پائیں گے کہ ہمارے انتظامات ضرورت سے انتہائی کم ہی ہونگے۔
اگر ہم اس عید کو شائستگی اور سادگی کے ساتھ اوراحساس ِضیاع کے ساتھ منائیں تو یہ موقعہ کی مناسبت سے برمحل ہوگا۔ باہر جاکر اور خود کو خطرے میں ڈال کر اپنے کنبہ کو تباہی کے حوالے نہ کریں۔ اگرخدا نہ کرے ،یہ وائرس آپ کو لگ گیا تو جان اور سمجھ لیجئے کہ یہ آپ کے کنبہ کو بھی لگ جائے گا اور اس کے بعد حالات کون سی کروٹ لیں گے ،اُس کا پیشگی اندازہ لگانا محال ہے۔ اور ایسے میں عید کیسی ہوگی،اُس کا بھی اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہے۔
اور حکومت کیلئے وقت آگیا ہے کہ وہ سخت پابندیاں نافذ کرے۔ اس کے لئے حکومت کے پاس ضروری وسائل موجود ہیں اور وہ ان پابندیوں کا صد فیصد اطلاق عمل میں لاسکتے ہیں تاکہ انسانی جانیں بچائی جاسکیں۔