مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن میں تار بندی او ر صفر لائن کے درمیان آباد 2بڑی پنچایتوں میں کئی سرکاری سکولوں کی عمارتیں برسوں بعد بھی بچوں کے استعمال کے قابل نہیں ہو سکی ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ سرحدی پنچایت دھراٹی اور بھروتی میں کئی سرکاری مڈل اور پرئمری سکولوں کی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں جبکہ ٹھیکیداروں نے عمارتوں پر لینٹر ڈالنے کے بعد کام کو یوں ہی چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے مذکورہ سکولی عمارتیں بچوں کے استعمال کے قابل نہیں ہو سکی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ کئی عمارتوں کو مکمل کرنے کیلئے 10برس بعد بھی پلستر نہیں کیا گیا جبکہ ان کے پلستر کیلئے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ آفیسران نے فنڈز بھی وگزار کئے ہوئے ہیں ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ٹھیکیداروں اور محکمہ کے آفیسران کی آپسی ملی بھگت کی وجہ سے عمارتوں کو پلستر نہیں کیاجارہا ہے جبکہ فنڈز وگزار ہوئے بھئی کئی عرصہ گزر چکا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ایک جانب ان کے بچوں کی تعلیم فائرنگ کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب متعلقہ محکمہ کی جانب سے عمارتیں مکمل کر کے بچوں کے استعمال کے قابل نہیں بنائی جس کی وجہ سے موسم ساز گار ہونے کے باوجود بھی بچوں کے بیٹھنے کیلئے کوئی جگہ دستیاب نہیں ہے ۔دونوں سرحدی پنچایتوں کے لوگوں نے جموں وکشمیر انتظامیہ کیساتھ ساتھ ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ سرحدی علاقوں میں بنائی گئی عمارتوں کیساتھ ساتھ کاغذوں میں درج کئے گئے فنڈز کی جانچ کروائی جائے جبکہ ملوث آفیسران اور ٹھیکیداروں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔