کورونا وائرس کی زد میں دنیا کے 188ممالک آچکے ہیں۔بھارت بھی اس عالمی وبا کی لپیٹ میں ہے۔ اس وبا کے پھیلاؤ کوروکنے کے مدنظرگزشتہ 23 مارچ کو68 دنوں کا ملک گیر لاک ڈائون بھی لگایا گیاجس کی وجہ سے صنعتی وکاروباری سرگرمیاں تقریباً ٹھپ پڑ گئیں اور معیشت تہہ و بالا ہونے کے قریب پہنچ گئی۔اب ملکی معیشت کساد بازاری کے دور سے گزر رہی ہے۔ ایسی صورت میں بے روزگاری کی شرح بڑھنا یقینی ہے، اور یہ شرح لگاتار بڑھتی ہی جارہی ہے۔ کروڑوں افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بے روزگاری کا یہ بحران کوئی نیا نہیں ہے۔ لاک ڈاؤن سے پہلے بھی، بے روزگاری کی شرح اعلی سطح پر تھی لیکن اب اس میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
بے روزگاری کے خوفناک اعداد و شمار
مختلف ایجنسیوں کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ملک میں بے روزگاری خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔ سینٹر فار مانٹیرنگ انڈین اکنامی (سی ایم آئی ای) ، جو ایک نجی تحقیقی ادارہ ہے، ملک میں بے روزگاری پر میعادی سروے رپورٹ جاری کرتاہے۔ اس کی حالیہ رپورٹ بتاتی ہے مارچ سے جولائی کے درمیانی عرصے میں ملک میں 1.9 کروڑ لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں۔ یہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو منظم سیکٹر میں کام کررتے ہیں۔ بیروزگاری کی شرح 26 فیصد کے غیر معمولی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ آزاد ہندوستان میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب بیروزگاری کی شرح اتنی زیادہ ہے۔
سی ایم آئی ای کی مئی مہینے میں جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ لاک ڈائون کے طویل عرصے تک چلنے پر بے روزگار لوگوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ شروعات میں غیر منظم سیکٹر میں کام کرنے والے افراد کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ لیکن اب دھیرے دھیرے منظم سیکٹر بھی کووِڈ-19 کے بحران کی لپیٹ میں آیا ہے اور اب محفوظ سمجھی جانے والی ملازمتوں پر بھی خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں۔ اگست مہینے میں جاری تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اب غیر منظم سیکٹر کے ملازمین زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔وہیں اس رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ غیر منظم علاقوں کے بیروزگار، جو دہاڑی مزدور ہیں، واپس کام دھندے پر لگ گئے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اپریل کے مہینے 12 کروڑ سے بھی زیادہ بیروزگار ہو گئے لوگوں میں سے 11 کروڑ افراد واپس کام پا چکے ہیں۔ غیرمنظم علاقے کے دہاڑی مزدوروں کو کام پانے میں اتنی مشکلات و دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے جتنی منظم سیکٹر کی تنخواح والی نوکریاں حاصل کرنے میں۔
یقینا ً منظم سیکٹر کے وہ نوجوان جن کی لگی لگائی نوکریاں چھوٹ گئی ہیں پریشان کن حالات میں ہیں۔ ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی ایک حالیہ رپورٹ’’ٹیکلنگ دی کوڈ- 19 یوتھ ایمپلائمنٹ ان کرائسس ان ایشیا اینڈ دی پیسفک‘‘کے مطابق اس سال کے آخر تک چالیس لاکھ چوراسی ہزارنوجوان اپنی ملازمتوں سے محروم ہوجائیں گے۔ عیاں ہوکہ اے ڈی بی اور آئی ایل او کی اس رپورٹ میں کورونا کے تناظر میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی صورتحال پر چرچا کی گئی ہے۔
لاک ڈاؤن کے دوران اور اس کے بعد بے روزگاری کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے، مرکزی حکومت نے ایک جاب پورٹل 'اسیم' یعنی آتم نربھراسکلڈ امپلائی- امپلائیر میپنگ کا انتظام کیا۔ پچھلے 40 دنوں میں اس پورٹل پر 69 لاکھ بے روزگاروں نے ملازمت کی تلاش میں اپنا اندراج کیا۔ کل رجسٹرڈ لوگوں میں سے صرف سات ہزار سات سو افراد کو کام ملا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ رجسٹرڈ لوگوں میں سے 0.1 فیصد یعنی ایک ہزار میں سے 1 فرد کو کام ملا۔ وہیں 14 سے 21 اگست تک صرف ایک ہفتہ کے دوران، اس پورٹل پر 7 لاکھ افراد نے اپنا رجسٹریشن کیا، جس میں صرف 691 افراد کو ہی کام ملا۔ ملازمت کا تناسب جوں کا توں بنارہا، جو 0.1 فیصد سے بھی کم ہے۔
شماریاتی قدامت پرستی کا دور
دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ کئی برسوں سے حکومت نے، سرکاری طور پر، ملازمت کے اعدادوشمار جاری نہیں کیے ہیں۔ حکومت اپنے 'قومی شماریاتی کمیشن'کے کئی اعداد و شمار جیسے کھپت، روزگار اور دیگر معاشی اعدادوشمار کو عام کرنے میں لاگاتار کوتاہی برت رہی ہے۔ کمیشن میں بھی اسی بات کو لیکر تنازعہ ہوا، جس کی نتیجے میں دو ممبران پی سی موہنن اور جے وی میناکشی نے اپنا استعفیٰ دے دیا۔
اب تو نیشنل سیمپل سروے آفس یعنی این ایس ایس او کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔ اس کو مرکزی شماریات کے دفتر یا سی ایس او میں زم کرکے ایک نیا ادارہ 'قومی شماریاتی آفس' یا این ایس او بنادیا گیا ہے۔ این ایس او کا سربراہ وزارت ِشماریات اور پروگراموں کی عمل درآمد کا سکریٹری ہوگا۔ نوٹ کرنے لائق بات یہ ہے کہ این ایس او پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ نہیں ہوگا۔ یہ حکومت کے تئیں جوابدہ ہوگا۔
مودی سرکارنے اپنی پہلے دورمیں یہ وعدہ کیا تھا کہ 2 کروڑ افراد کو ہر سال روزگار فراہم کرایا جائے گا۔ تب سے اب تک 6 سال کی طویل مد ت بھی گزر چکی ہے۔ روزگار بڑھنا تو دور اس میں لگاتار کمی ہو رہی ہے۔ڈی مانیٹائیزیشن یا نوٹ بندی روزگار و ملازمتوں پر پہلا بڑا دھچکا تھا۔ اس کے بعد جی ایس ٹی نے ملازمتوں پر ایک اور حملہ کیا۔ اور اب کورونا وائرس کی وبا روزگار میں کمی کا بڑا سبب ہے۔
ایسے اعداد و شمار جسے عام کرنے سے سرکاری پالیسیوں کی کامیابی پر سوالیہ نشان لگ جائے،اورحکومت کی کامیابی کے دعوں کی ہوا نکل جانے کے امکانات ہوں۔حکومتیں ایسے اعداد و شمار کو جاری نہ کرنے میں ہی بھلائی سمجھتی ہیں۔
اعداد و شمار جاری نہ کرنا یا ایسے یک طرفہ اعداد و شمار جاری کرنا جس سے معیشت کی صرف سہاونی و دلکش تصویر ہی نظر آئے جبکہ حقیقت اسکے بالکل الٹی ہو ایسے حربے کو 'ڈیٹا فنڈامینٹلزم 'یا شماریاتی قدامت پسندی کہا جاتا ہے۔ مشہور صحافی اور مصنف کرِس اینڈرسن نے ڈیٹا فنڈامینٹلزم کے بارے میں کہا ہے’’اعداد و شمار کے نمبرات بذاتِ خد اپنی سچائی بیان کرتے ہیں‘‘۔گرچہ اینڈرسن کا یہ قول بِگ ڈیٹا کے حوالے سے کہا گیا ہے تاہم مودی سرکار تمام اعداد و شمار کو جاری کرنے میں کوتاہی برت رہی ہے،اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ حکومت نیاینڈرسن کے اس قول کو لفظ بہ لفظ لیا ہے—نہ ہی ڈیٹا جاری کیے جاییں نہ ہی عوام کو اصل معاشی و اقتصادی حالات کا پتا چلے۔اعداد و شمار کے بغیر کامیاب پالیسی سازی اور اسکا عمل درآمد ہو ہی نہیں سکتا۔
آگے کی راہ
سرکار کا اسیم جاب پورٹل اصل میں ایک پلیٹ فارم ہے جہاںآجر اور ملازم میں رابطہ قائم ہوتا ہے۔ آجر کو حصب منشاء اور معقول لیاقت و ہنر کے ملازمین اور ملازمت کے متلاشی افراد کو نوکریاں مل سکیں۔ یہ پلیٹ فارم تبھی کارگر ہوگا جب لیبر مارکیٹ میں لیبر کی ڈیمانڈ یا طلب ہو۔ ایسا تبھی ممکن ہے معیشت کا پہیہ فعال طریقے سے گردش کر رہا ہو۔ صنعتی اور کاروباری سرگرمیاں چل رہی ہوں۔ معیشت میں مثبت شرح نمو ہو۔
گرچہ حکومت نے لاک ڈاؤن کے سبب پیدا ہوئی کسادبازاری اور مندی سے پار پانے کے لئے تمام پیکیجیز کے انتظامات و انصرامات کئے ہیں۔ حکومت کے اناقدامات سے بازار میں محض لِکویڈیٹی ہی بڑھی ہے۔اس کے کوئی متوقع اور مطلوبہ نتائج نہیں نکلے ہیں۔ نمو اور روزگار کی شرحوں میں کوئی اضافہ درج نہیں کیا گیا ہے۔الٹے اس میں کمی درج کی گئی ہے۔ بازارمیں زیادہ ڈیمانڈ ہی نہیں ہے۔
اس قومی اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے میکرو اور مائیکرو دونوں سطحوں پر کام کرنا ہوگا۔ چونکہ ملازمت کا براہِ راست تعلق طلب سے ہے۔ اسلئے ایسے عوامل اختیار کرنے ہونگے جس سے طلب میں اضافہ ہو۔ طلب میں اضافہ ہوگا تو کھپت ہوگی؛ بڑھی ہوئی کھپت کو پورا کرنے کے لئے پروڈکشن یعنی پیداوار کو بڑھانا پڑے گا؛ اور اسکے لئے مزید سرمایہ کاری کرنی ہوگی جِسکا سیدھا اثر روزگار پر پڑیگا،اس میں اضافہ ہوگا۔ چنانچہ ایسے انتظامات اور عوامل پر عمل در آمد کرنا ہوگا جس سے بازار میں طلب پیدا ہو۔
بہتر ہوگا کہ طلب بڑھانے کے آزمودہ نسخے کا استعمال کیا جائے۔ ملک کی معاشی تاریخ پر نگاہ رکھنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کسادبازاری کے حالات میں 'کینزین اکانومکس' پر مبنی طریقہ کار اور اقدامات باالفاظِ دیگر مالیاتی اقدامات کو اپنایا گیا ہے۔ معیشت پر اس کے حسب منشاء اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔ مالیاتی طریقوں سے لوگوں کی آمدنی اور قوت خرید میں اضافہ ہوتا ہے نتیجتاً کھپت بڑھتی ہے۔ اس کا سیدھا اثر روزگار اور پیداوار پر پڑتا ہے، دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
اب یہ مالیاتی طریقہ کار کیا ہیں؟ جب حکومت کوئی ایسا طریقہ اختیار کے جس سے لوگوں کی جیبوں میںبراہ راست پیسے پہنچ جائے۔ مطلب یہ کہ حکومت خود اپنے خرچے بڑھائے۔ بنیادی ڈھانچے کی تشکیل اور تعمیر جیسے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔یہ ضروری ہے کہ حکومت لوگوں کو روزگار فراہم کرائے یا کوئی ایسا نظم بنائے جس سے کہ لوگوں کو اتنی آمدنی ہو جس سے انکی بنیادی ضرورتیں پوری ہو جائیں۔
گر چہ ملک کے پبلک سیکٹر (عوامی شعبے) اور سرکاری نوکریوں میں روزگار کے کم مواقع ہیں، تاہم ان شعبہ جات میں برسوں سے لاکھوں کی تعداد میںاسامیاں خالی پڑی ہیں، ان اسامیوں کو ترجیحی بنیاد پر جلداز جلد بھرنا چاہئے۔نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات ابھیجیت بنرجی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت کو کرنا یہ چاہئے کہ 20 کروڑ بیروزگاروں کو 'یونی ورسل بیسک سکیم' جیسی کوئی سکیم چلا کر لوگوں کو آمدنی کا ذریعہ فراہم کریں۔ وہیں، نجی شعبے میں سبسڈی جیسے طریقہ کار بھی اثر انداز ہونگے۔
وبا کے بعد کی دنیا بالکل بدلی ہوئی ہوگی۔ عالمی و ملکی معیشت کے ڈھانچہ میں کافی تبدیلی آچکی ہوگی۔ مینوفیکچرنگ سے لیکر سروس سیکٹر میں آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشیل انٹیلی جنس) اور انٹرنیٹ آفس تھِنگس جیسی صنعت و حرفت کا استعمال بڑے پیمانے پر ہونے لگے گا۔ لہٰذا نوجوانوں کی ہنرمندی کی تشکیل نو پر بھی توجہ دینا ہوگا۔
بڑھتی بیروزگاری ملک کے معاشی و سماجی مسائل میں اضافہ کریگی۔ ہر طرف سے روزگار کے دروازہ بند دیکھ کر نوجوان دوسروں کے دروازے توڑنے یعنی سماج مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوسکتے ہیں۔چنانچہ ملک کا سماجی اور معاشی ماحول درست کرنے کی جانب حکومت کو فوری توجہ دینی چاہئے۔ اسکے لئے مالیاتی اقدامات اور فروغ انسانی وصائل کے موثر انتظامات کئے جانے چاہئے قبل اسکے کہ معاشی بحران اور گہرا ہو جائے۔
رابطہ۔اسسٹنٹ پروفیسر (اقتصادیات)
بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر بہار یونیورسٹی،مظفر پور
موبائل۔9470425851