عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// ہندوستان کی نوجوان افرادی قوت پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ اور پرجوش ہوتی جارہی ہے، لیکن تعلیم سے ملازمت تک ان کا سفر رکاوٹوں سے بھرا رہتا ہے۔ یہ انکشاف عظیم پریم جی یونیورسٹی کی جانب سے منگل (17 مارچ 2026) کو جاری کردہ ‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 4 دہائیوں کے دوران اعلی تعلیم تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے لیکن گریجویٹ بے روزگاری بدستور ایک سنگین تشویش ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں اعلی تعلیم کے اندراج میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو کہ اب 28 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعلی تعلیم اب صرف اشرافیہ تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشرے کے وسیع تر طبقے تک پہنچ چکی ہے۔رپورٹ میں چونکا دینے والے اعدادوشمار کا انکشاف کیا گیا ہے۔ تقریبا 40 فیصد گریجویٹس 25 سال کی عمر تک بے روزگار ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ شرح 25-29 سال کی عمر کے گروپ میں 20 فیصد تک گر جاتی ہے، لیکن ایک بڑا حصہ اب بھی مستحکم، تنخواہ والی ملازمتوں سے محروم ہے۔ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کا حصہ 2017 میں 38 فیصد سے کم ہو کر 2024 میں 34 فیصد رہ گیا ہے ۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کام کرنے والی آبادی میں ہندوستان کا حصہ 2030 کے بعد کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان کے پاس اپنے “demographic dividend”سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہت کم وقت بچا ہے۔رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ صرف ڈگریاں تقسیم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ تعلیم اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان فرق کو کم کیا جا سکے۔