جموں و کشمیر یوٹی میں بیک ٹو ولیج کا تیسرا مر حلہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا۔ دفتروں میں بیٹھے افسران نے ایک بار پھر ہزاروں افتاں و خیزاں اور دور دراز علاقہ جات کا از خود معائنہ کیا۔لیفٹنٹ گورنر سے لے کر پانچ ہزار کے قریب گزیٹیڈ افسران نے پانی،بجلی اور سڑک سے محروم درجنوں گائوں میں سہ روزہ قیام کیا۔ عام لوگوں کی ستم ظریفی اور کسمپرسی کی حالت ِ زار کو ان گزیٹیڈ افسران نے خو بصورت بیک ٹو ولیج کتابچہ Bookletپر حسب دستورتحریر بھی کیا۔اس دوران بیک ٹو ولیج پروگرام کی اشاعت کے سلسلے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا خوب استعمال کرتے ہوئے تعمیر و ترقی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ کروڑوں روپے لاگت کے نئے پروجیکٹیوں کا اعلان بھی کیا گیا۔ مختلف اسکیموں کو لاگو کرانے کی دہائی بھی دی گئی۔مجبوروں، مفلسوں اور مریضوں کی دادرسی کے لئے مختلف فو ٹو شو بھی وایرل کئے گئے۔کھیل کود میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کے لئے دو گھنٹوں پر مشتمل کھیلوں کی نمایش بھی کی گئے اور ساتھ میں کئی مقامات پر غیر معیاری سپورٹس کٹس بھی تقسیم کی گئیں۔
جموں و کشمیر یوٹی میں بیک ٹوولیج کا تیسرا مر حلہ اسطرح سے اپنے اختتام کو پہنچا لیکن اس سال بیک ٹو ولیج پروگرام منعقد کرانے کے سلسلے میں درجنوں مقامات پر احتجاج کیوں ہوا۔لوگ بیک ٹوولیج پروگرام سے خفا کیوں ہیں؟دوردراز علاقوں میں لوگوں نے بائیکاٹ کیوں کیا اورپہلے بیک ٹو ولیج پروگرام کے مقابلے میں تیسرے مرحلے پر عام لوگوں کی حاضری کیوں کم رہی ؟یہ کچھ بنیادی سوالات ہیں جو شاید ضبط تحریر میں نہیں لائے گئے اور شاید سرکار کو ان بنیادی معا ملات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت بھی نہیں محسوس ہوتی ہے۔بیک ٹو ولیج پروگرام گزشتہ سال جون کے مہینے میں شروع کیا گیا اور ابتدائی مرحلے پر لوگوں نے اس پروگرام کی خوب پذیرائی کی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہی ہے چال بے ڈھنگی جوکل بھی تھی ،سو اب بھی ہے ،کے مصداق بات وہیں پر پہنچ گئی۔جموں و کشمیر کے دور دراز علاقہ جات میں تعمیر و ترقی کو بڑھاوا دینے کے سلسلے میں بیک ٹو و لیج عنوان کے تحت ایک جامع ترقیاتی پروگرام سابق گورنرستیہ پال ملک نے اپنے دورِحکومت شروع کیا تھا لیکن پندرہ مہینے گزرجانے کے بعد بھی گائوں دیہات میں رہنے والے لاکھوں لوگ گونا گوں مشکلات سے دوچار ہیں ۔سچ یہ ہے کہ تا دم ِتحریر گائوں دیہات کی مجموعی حالات بہتر نہیں ہوسکی۔بیک ٹو ولیج پروگرام شروع کرانے کے سلسلے میں سرکار کوجو مقاصدپیش نظر تھے ،وہ شاید ڈیڑھ سال گزرجانے کے باوجود بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔سرکار اور عوام کے درمیان پائی جانی والی خلیج کو پاٹنے کے لئے بیک ٹو ولیج پروگرام معرضِ وجود میں لایا گیا تھا تاکہ سرکاری افسران بنیادی سطح پر لوگوں کے مشکلات کا ازالہ کرسکیں۔جموں اور کشمیر کے ترقیاتی منظر نامے میں ایک نئی روح پھو نکنے کے لئے بیک ٹو ولیج پروگرام کو ہری جھنڈی دکھای گئی تھی۔انتظامیہ کو متحرک اور عوام دوست بنانے کی خاطر چلیں گائوں کے اور پروگرام تشکیل دیا گیا تھا تاکہ گائوں میں رہنے والے بچھڑے ہوئے لوگوں کی آواز کو سنا جا سکے۔ فی الحقیقت یہ ایک قابل ستایش کوشش تھی اور عوامی حلقوں میں اس پروگرام کو خوب پذیرائی ملی۔تاہم تلخ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ستربرسوں سے گائوں میں رہنے والے لوگوں کو سبز باغ دکھاکر تعمیر و ترقی سے محروم رکھا گیا اورانکی شرافت،غربت اور عسرت پر ڈاکہ ڈال کرانہیں حالات کے رحم و کرم چھوڑ دیا گیا اور تو اور انکی آوازیں ہمیشہ صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔
بادی النظری میں معلوم ہوتا ہے کہ بیک ٹو ولیج پروگرام افسران اور مختلف محکمہ جات کے ملازمین کے ساتھ ساتھ سرپنچ و وارڈ ممبران کے لئے ایک بہترین پروگرام ہے جس میں افسران کی یک روزہ ٹرایننگ، سہ روزہ دورہ مختلف مقامات اور ملازمین کی یک روزہ کنونشن شامل ہوتی ہے۔قیام و طعام کے بہتر انتظام کے ساتھ ساتھ ڈیوٹی پر تعینات افسران و ملازمین بیک ٹو ولیج پروگرام میں خوب لطف اْٹھاتے ہیں۔رہی بات سرپنچ و وارڈ ممبران کی،تواْنکی تو پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور عام لوگ صرف ہاتھ ملتے رہتے ہیں۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ گزشتہ سال 20 جون سے 27 جون تک بیک ٹو ولیج پروگرام کا پہلا مرحلہ شروع کیا گیا جس میں 4483 پنچا یتوں میں ہزاروں افسران و ملازمین نے مختلف منصوبے سرکار کو پیش کئے اور ابھی تک ان منصوبوں کو عملی جامہ کیوں نہیں پہنا یا گیا؟۔ پہلے مرحلے میں قریباً 500کروڑ کی خطیر رقم اس پروگرام پر خرچ کئے جا چکے ہیں جس میں ملازمین کی ٹرایننگ،افسران کے دورہ جات،بک لیٹ ،فایلیں اور پنچایتوں پر تعینات ہزاروں افسران کے دوروزہ قیام کے خرچہ جات قابل ذکر ہیں۔ اسکے علی الرغم گائوں کی حالت بہتر نہ ہوسکی۔دوسرے مرحلے پر بھی ٹھیک اسی طرح پوری انتظامیہ تین روز تک متحرک رہی اور بیک ٹو ولیج کا دوسرا مرحلہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا۔عام اور سادہ عوام نے ایک بار پھر اپنے دیرینہ مسایل افسران کے سامنے پیش کئے لیکن کوئی امید بھر نہ آئی۔بیک ٹو ولیج کا دوسرامرحلہ 25 نومبر سے 30 نومبر تک جاری رہا اور عوام نے پروگرام میں بھر پور شرکت کی لیکن نتیجہ ٹائیں ٹائیں فش۔دوسرے مرحلے پر قریباً850 کروڈ پر مشتمل تعمیراتی پرو جیکٹوں کو ہری جھنڈ ی دکھائی گئی لیکن یہ پیسہ کہاں خرچ ہوا ،اورکیسے خرچ ہوا، یہ جا ننا ابھی باقی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو مراحل میںعوام نے تقریباً30000 پروجیکٹوں کی مانگ کی جن میں سے فی الحال 4129 تعمیراتی کام مکمل ہوچکے ہیں اور7 160 پروجیکٹ زیر تعمیر ہیں جسکا تخمینہ تقریباً120 کروڈ روپے ہے۔
تیسرے مرحلے کے آغاز سے پہلے مناسب تھا کہ پہلے دو مراحل کے پروجیکٹوںکو مکمل کیا جائے اور اس بیچ عام لوگوں کے مشکلات کا گراف جاننے کے سلسلے میں ایک Feedback حاصل کیا جائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں کیا گیا جسکے نتیجے میں عام لوگ بیک ٹو ولیج کو ایک فضول مشق قرار دیتے ہیں۔ پنچایتوں میں تیار ہونے والے منصوبوں کو عملانے میں تساہل سے کام کیوں لیا جاتا ہے اور اب اگرگائوں میں مختلف کام شروع کئے جاتے ہیں تو کرنے والے کون ہیں اور اس کام میں کس حد تک دیانتداری اور اصول و ضوابط سے کام لیا جاتا ہے۔اس حوالے سے مقامی لوگوں سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ گزشتہ دو مراحل میںگائوں میں جو کام ہوچکا ہے، وہ صرف منظورِنظر لوگوں نے کیا۔ فٹ پاتھ سے ڈرین،کنویں سے زیارت گاہوں کی دیوار بندی تک ،غرض جو بھی کام ابھی تک بیک ٹو ولیج کے بینر تلے ہو چکا ہے وہ چند اثر رسوخ رکھنے والے لوگوں نے کیا اور یہ کام کیسے انجام دئے گئے، اسکا خدا ہی حافظ ہے۔ غیر معیاری میٹریل کا استعمال کرکے سرکاری خزانہ کو دو دو ہاتھوں سے لوٹنے کیلئے بیک ٹو ولیج پروگرام ایک بہترین ذریعہ بن چکا ہے۔گائوں میں ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو بیک ٹو ولیج پروگرام نے کیا فایدہ دیا۔
مختصر یہ کہ گزشتہ دو مراحل کی مشق نے گائوں کی حالت نہیں بدلی،ترقی کی رفتار تیز نہیں ہوئی،تعمیر کا ڈھنکا نہیں بجا لیکن گائوں میں رہنے والے چند سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے لوگوں کے لئے بیک ٹو ولیج پروگرام سونے کی کان ثابت ہوچکی ہے۔ خیر سرکاری مشینری میں فعالیت لانے کے سلسلے میں بیک ٹو ولیج پروگرام کا تیسرا مرحلہ بھی اختتام کو پہنچاتاہم بحیثیت مجموعی لوگ لاتعلق ہی رہے۔ لوگوں نے اس چیز کا بھر ملا اظہار کیا کہ بیک ٹوولیج پروگرام وقت کا زیاں ہے اور کچھ نہیں۔ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ گائوں میں کوئی ترقی نہیں ہوئی ۔ سڑک ،پانی ،بجلی ،تعلیمی اداروں میں تد ریسی عملہ کی کمی، بنک یا ATM کی دستیابی کے لئے ہم نے ہزاروں جتن کئے لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔ گائوں میں مختلف محکمہ جات کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔
تیسرے مرحلے پر سرکار نے اس بات کا اعلان کیا کہ ہر ایک پنچایت میں دو بڑے تعمیراتی پروجیکٹوں کو در دست لیاجائے گا اور ساتھ میں بنیادی سہولیات کو پورا کرانے میں سرکار سنجیدہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ زمینی سطح پر عام لوگوں کو کیا فایدہ مل رہا ہے۔کیا غریب اور عام انسان کے پاس بنیادی سہولیات ہیں۔وزیراعظم آواس یوجناکے تحت تین کمروں پر مشتمل آشیانہ کن لوگوں کے نام رکھا جا تا ہے؟ گائوں میں ہورہے مختلف کاموں کے ٹھیکیدار چند سیاسی لوگ ہی کیوں ہوتے ہیں؟غریب عوام کو معمولی کاموں پر رشوت دینے کا کلچر کیوں فروغ پارہا ہے اور دیہات میں سرکاری محکمہ جات غیر فعالیت کے شکار کیوں ہیں؟۔ ضروت یہ ہے کہ سرکار بیک ٹو ولیج پروگرام کو با مقصد بنانے کے سلسلے میں سنجیدگی کے ساتھ ساتھ شفافیت سے کام لے۔کاغذی گھوڑے دوڑانے سے غر بت،عسرت اور پسماندگی کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا ہے، اسکے لئے بہتر منصو بہ سازی کے ساتھ ساتھ کارگر حکمت عملی اور جوابدہی درکار ہوتی ہے جس کا فی الوقت فقدان پایا جارہا ہے اور جب تک یہ عنصر انتظامی مشینری میں شامل نہیں ہوتے ہیں،کتنے ہی بیک ٹوولیج پروگرام منعقد کیوں نہ کئے جائیں ،گائوں دیہات کی حالت بدلنے والی نہیں ہے۔
رابطہ۔ 9622669755