ایف آزاد دلنوی
وہ کئی دنوں سے ایک ہی بات کا ڈھنڈورا پیٹتی’ میری بیٹی کی بڑی نوکری لگی ہے ‘جب بھی اسے راستے سے گزرتے ہوئے کوئی عورت مل جاتی تواس کا ہاتھ و ہ کس کر پکڑتی۔حلیمہ ایک جھٹکے میںاسے اپنی طرف کھینچتی اور اسے اپنے گلے سے لگالیتی، بوسے دیتی۔جوان ہو ‘ہم عمرہو‘ امیر ہو‘غریب ہوحلیمہ ہر ایک کے ساتھ گھل مل جاتی۔ بید بھائو سے بھی کوسوں دور وہ کسی کو بھی نظر چرا کے نکلنے نہ دیتی تھی وہ راستے کے کنارے پر سرو کی طرح سیدھی بولتی جاتی اوراتنا بولتی کہ مخاطب کو منہ کھولنے کا موقع تک نہ دیتی۔ وہ اس قدر تیز بولتی کہ جملوں کے درمیان کا وقفہ بھی حذف کرجاتی۔ ایک صفحے کی تحریر سیکنڈوںمیں سنا دیتی جیسے پہلے سے ازبر کیا ہو۔عورتیں جو کام پر نکل رہی ہوتی ہیں، وہ ان کا بہت وقت کھا جاتی ۔گھنٹوں حلیمہ انھیں پکڑ بیٹھتی اور یہ عورتیں بھی مزے لے لے کر اس کی باتیں سنتیں۔ انھیں وقت کا بالکل بھی خیال نہ رہتا۔ روز حلیمہ کے ارد گرد ایک جمگھٹا سا لگ جاتا۔باغ یا کھیت میں جانا ہوتو اسی ایک راستے سے سب کو جانا پڑتاکوئی متبادل راستہ تھا بھی نہیں۔اکثر اوقات عورتیں کام نپٹائے بغیر ہی یہیں سے گھر لو ٹتیں۔گھر پہنچ کر انھیں مرد کٹہرے میں کھڑا کر دیتے اور خوب کھری کھوٹی سناتے۔ بار بار ان کی خجالت ہوجاتی۔حلیمہ کا مرد ’کمال خان‘ معمولی کاروبار کرتا تھااوربمشکل گزر بسر ہوتی تھی۔ اس کو بھی بیوی کا یہ رویہ پسند نہ تھا کہ وہ اکثر اوقات محلے کی عورتوں کوحلقے میں پکڑ بیٹھے اور ان کا وقت ضائع کرے۔وہ بیوی کو سمجھاتے سمجھاتے تھک چکا تھااس نے اسے بارہا کہا کہ ’’تم ایسی حرکت سے باز آجائو۔‘‘مگر وہ مانے تب نا۔گھنٹوں بعد جب عورتیں اپنے گھروں کو لوٹتیںاور حلیمہ اکیلی رہ جاتی تو وہ اپنے لباس کو درست کرتی اور تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے مارکیٹ پہنچ جاتی۔شاپنگ کرنے لگتی۔ اس کی شاپنگ کرنے کاطریقہ بھی الگ تھاوہ ایک وقت ایک ہی طرح کی چیزوں کی شاپنگ کرتی اس دوران وہ ہر ایسے شاپ میںگھستی جس میں وہ چیزیں دستیاب ہوتیںاور خوب بارگینگ کرتی رہتی۔وہ جانتی تھی کہ دکانداردو تین گنا زیادہ بھائو بتا کر لوٹتے ہیں وہ جو چیزیں خریدتی ان کی قیمت نقد ہی ادا کرتی البتہ کبھی کبھارادھار رکھتی مگر وہ بھی تھوڑے دنوں میں بے باک کرتی جس سے مارکیٹ میں اس کی دیانت برقرار رہی۔ اب اس نے جب سے نیا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کیاتب سے دکانداربنا جھجک چیزیں ادھار دیئے جا رہے تھے اور وہ شاپنگ کر نے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑتی۔ اب وہ ہزاروں کی شاپنگ کرنے لگی تھی اور گھر پہنچ کر جو چیزیں جہاں جچتیں وہاں رکھ دیتی۔ان عورتوں کا بس چلے تومارکیٹ کی ساری چیزیںخرید کرگھر کو ہی مارکیٹ کی طرح سجاتیں ۔کمال خان نے اس سے پوچھا تھا’’تم اتنی شاپنگ کے لئے روپے کہا ں سے لاتی ہو۔‘‘
اس پر وہ ناک چڑھا کر بولی
’’ تم اپنے روپے اپنے ہی پاس رکھو تمہارا کٹھور پن دیکھ چکی ہوں۔تم نے تو کبھی ہاتھ کھولنے نہ دیا تمہاری مانوں تو گھر میں کھانے پینے کی چیزوں کی بھی قحط پڑ جائے۔‘‘
اور اپنے مرد کو ایک دم چپ کروایاپھر اسنے دوبارہ پوچھنے کی جسارت نہ کی۔ حلیمہ کو اب شاپنگ کا چسکا سا لگا تھا۔ ایک دن وہ معمول سے کچھ سویرے نکل کر مارکیٹ پہنچی۔گھر کے لئے میٹنگ خریدنے کی ٹھانی۔مارکیٹ میں چند ہی میٹنگ کی دکانیں تھیں،وہ میٹنگ دیکھتی اور ساتھ ہی قیمت بھی پوچھتی رہتی۔ وہ جب میٹنگ کی آخری دکان میں گھسی تو اس نے میٹنگ پسند کی، چونکہ دکان دار اس کا واقف کار نہ تھا اس نے ادھار دینے سے منع کیا ۔حلیمہ کو دھچکا سا لگااوراس کی یہ بات اُسے ناگوار گزری۔بولی
’’ میں سالوں سے اس مارکیٹ میں آرہی ہوں اس مارکیٹ کا چپہ چپہ میری ایمانداری کا گواہ ہے تم چاہو تو کسی سے بھی پوچھ سکتے ہو۔بیٹے دو دن پہلے میںنے اس بغل والے دکاندار سے سامان خریدا۔اس نے تو منع نہیں کیا۔‘‘
اتنے میں اس دکاندار کی نظریں حلیمہ پر پڑیںاس نے وہیں سے آواز دی۔
’’اماں۔۔۔۔۔کیسی ہو۔ سامان سب ٹھیک تھا نا۔‘‘
’’ہاں‘‘ حلیمہ نے مختصر سا جواب دیااور اپنی منڈی موڑی اور دکاندار سے کہا
’’اب یقین آیا۔‘‘
’’اچھااماںسامان لے جائو مگر ۔۔۔۔ــ‘‘وہ بات پوری نہ کر پایا تھاکہ حلیمہ نے بات کاٹ کر پھر اسی بات کا ڈھنڈورا پیٹا اور بولی
’’۱۔۔۔۔۔۔تاریخ۔۔۔۔یاد رکھنا۔‘‘
حلیمہ سامان اٹھوا کر گھر پہنچی تو آٹو والے سے کہا
’’بیٹے ذرا ہاتھ بٹائو میرا۔‘‘
حلیمہ نے آتے ہی کمروں میں میٹنگ بچھادی اور آٹو والابول کر چلا۔
’’اماں ۔۔۔۱۔۔۔۔تاریخ کو آئوں گا۔‘‘
کچھ دیر بعد حلیمہ کا مرد آیاکمروں میں نئی میٹنگ دیکھ کر چونکا اور اسے پوچھ بیٹھا۔
’’تم نے اس میٹنگ کے لئے روپے کہاں سے لائے ۔‘‘
وہ بولی۔’’ ابھی سب ادھار رکھا ہے۔۱۔۔۔تاریخ کو سب کا چکتا کروں گی۔‘‘
’’ذرا میں بھی سنوں ۱ ۔۔تاریخ کو کون سا خزانہ تمہیں ہاتھ لگنے والا ہے۔‘‘
’’۱۔۔تاریخ کو آسیہ ؔ میری لخت جگر‘میری بیٹی آرہی ہے۔‘‘
’’ او ہو ــــ۔۔۔۔۔ تمہارے ساتھ بات کرنا فضول ہے۔‘‘
آسیہ کچھ ہفتے پہلے میرٹ کی بنا پرمحکمہ ڈاک میں بطور برانچ پوسٹ ماسٹر تعینات ہوئی تھی اور اس کی پوسٹنگ گھر سے دور ایک ایسے علاقے میں ہوئی جہاں سے روزگھر واپس آنا ممکن نہ تھا۔ اس نے ڈھیرا لیا اب ڈھیرے کا خرچہ ‘کھانے پینے کے خرچے کا بوجھ بھی اس پر پڑا ۔تنخواہ کم تھی اس میں یہ سب منیج کرنا مشکل تھا وہ دبدھے میں پڑی ۔مگر حلیمہ ٹھہری اندھ کھوپڑی وہ یہ کہتے کہتے تھکتی نہ تھی کہ’’میری بیٹی کی بڑی نوکری لگی ہے۔‘‘
یہ بات بچے بچے کو پتہ چلی تھی اور سب دکانداروں کو بھی یقین تھا کہ ۔۔تاریخ کو ان کی بلیں کرڈٹ ہوجائیں گی کیونکہ اس کی بیٹی کی نوکری لگی ہے۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا ۱۔۔۔تاریخ نزدیک آتی گئی حلیمہ کا دل خوشی کے مارے بلیوں اچھلنے لگا تھا اس نے دکانداروں کو فون کر کے تمام بلیں حاصل کیں۔ اس کوبڑے بڑے گمان ہو رہے تھے ۔
اس دن حلیمہ بڑی بے صبری سے بیٹی کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ معمول سے کچھ سویرے اٹھی گھر کی سفائی ستھرائی کر کے کمرے میں ٹنگے کلینڈر کو دیکھا ۔
’’آج۔۔۱۔۔ تاریخ ہے آج ہی میں تمام دکانداروں کا حساب بے باک کروں گی ۔‘‘
اس نے دکانداروں کی تمام بلیں جمع کیں اور پھر ان بلوں کو ترتیب سے طاق کے کونے میں رکھ دیا۔آسیہ تقریباً چار بجے گھر پہنچی ۔ اس کو دیکھ کر حلیمہ کی خوشیوں کی انتہا نہ رہی اس نے کس کر بیٹی کو گلے سے لگالیااور اندر آتے ہی اس کو کمروں میں لے جا کر پوچھتی رہی ۔
’’یہ میٹنگ کیسی ہے؟یہ گلدان کیسا ہے؟ یہ کچن سامان کیسا ہے؟‘‘ یہ دیکھ کر آسیہ کا چہرہ پھول کی طرح کھل اُٹھا ۔’’ بیٹی تم ڈرائنگ روم میں بیٹھو۔میں چائے لاتی ہوں ۔ ‘‘چائے پی کر دونوں باتیں کر رہی تھیںکہ کمال خان اندر آیا
حلیمہ اُٹھی اور طاق کے کونے میں رکھی بلیں ہاتھ میں لے کر کھڑے کھڑے بولی۔ ’’بیٹی اب کے میںنے دل کھول کر شاپنگ کی ہے۔‘‘
وہ بلیں اس کی طرف بڑھا ہی ر ہی تھی کہ آسیہ نے اٹیچی کھولی جس میں چند سوٹ پڑے تھے بولی ۔
’’اماں۔۔۔۔سب خرچہ کاٹ کرمیں نے یہ سوٹ خریدے ہیں۔‘‘
اور اپنا خالی بٹوادکھا کر ہنس پڑی۔حلیمہ دھڑام سے ٹرے پر گر پڑی اور کپ کرچی کرچی ہو کر بکھر پڑے ۔
���
دلنہ بارہمولہ، کشمیر
موبائل نمبر؛6005196878