عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// جموں و کشمیر کی کرائم برانچ کے اقتصادی جرائم ونگ نے بیرون ملک ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر ایک مقامی شہری سے لاکھوں روپے ہڑپنے اور اسے کمبوڈیا بھیج کر انسانی اسمگلنگ کے جال میں پھنسانے کے الزام میں ایک فرضی جاب کنسلٹنسی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔حکام کے مطابق متاثرہ شخص کو ضلع بارہمولہ کے علاقے پٹن میں کام کرنے والی ایک غیر مجاز کنسلٹنسی نے اپنا نشانہ بنایا۔ اسے کمبوڈیا میں پرکشش تنخواہ پر ‘کمپیوٹر آپریٹر’ کی نوکری دلانے کا خواب دکھایا گیا تھا۔ ملزمان کے دعوؤں پر یقین کرتے ہوئے متاثرہ شخص نے ان کے بینک اکاؤنٹس میں خطیر رقم منتقل کی اور سفری اخراجات کی مد میں بھی بھاری رقم خرچ کی۔حکام نے مزید بتایا کہ جب متاثرہ شخص کمبوڈیا پہنچا تو وہاں اسے کچھ نامعلوم افراد کے حوالے کر دیا گیا۔ وعدہ کی گئی نوکری کے بجائے اسے زبردستی آن لائن فراڈ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ متاثرہ شخص نے جب ان جرائم کا حصہ بننے سے انکار کیا تو اسے احساس ہوا کہ اسے دھوکے سے بیرون ملک لاکھوں روپے بٹورنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) کی ابتدائی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ یہ معاملہ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 318(2) کے تحت قابل سزا جرم ہے۔ اس سلسلے میں سری نگر کے متعلقہ تھانے میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے دھوکہ دہی کے نیٹ ورک میں شامل افراد کی شناخت اور ان کی گرفتاری کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ عوام کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ بیرون ملک ملازمت کے لیے صرف مستند اور منظور شدہ اداروں سے ہی رجوع کریں۔