بہت کچھ کر سکتے تھےلیکن جان بوجھ کرمحدوداور مربوط جواب دیا گیا: وزیر دفاع
عظمیٰ نیوز سروس
لیہہ//وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اتوار کے روز لیہہ سے بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے 125 نئے مکمل ہونے والے پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا، اور انہیں ہندوستان کے سرحدی ڈھانچے کو تقویت دینے کے حکومت کے عزم کی روشن مثال قرار دیا۔5,000 کروڑ روپے کی لاگت سے بنائے گئے اور لداخ اور جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور اروناچل پردیش، سکم، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، راجستھان، مغربی بنگال اور میزورم سمیت 7ریاستوں میں پھیلے ہوئے یہ دفاعی لحاظ سے اہم پروجیکٹس 28 سڑکوں، 93 پلوں اور چار متفرق پروجیکٹوں پر مشتمل ہیں۔وزیر دِفاع نے بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کے 22سٹریٹجک اہمیت کے حامل بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کے لئے وقف کئے۔ اُنہوں نے اِن منصوبوں کا اِفتتاح لداخ سے بذریعہ ورچیول موڈ کیا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے لوک بھون جموں سے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ اِفتتاحی تقریب میں شرکت کی۔وی سی کے ذریعے افتتاحی تقریب میں شرکت لیفٹیننٹ گورنر نے وزیر دفاع راج ناگھ سنگھ کا شکر یہ اَدا کیا۔وزیر دفاع نے کہا کہ “ہمارے فوجیوں کی بہادری ہمارے لیے ایک تحریک ہے، یہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبے ان ہیروز کو قوم کا خراج ہیں جنہوں نے قوم کی خدمت میں اپنی جانیں نچھاور کیں” ۔انہوں نے کہا کہ سرحدی سڑکیں “قومی سلامتی کی لائف لائن” ہیں اور بہتر رابطے کا آپریشنل تیاری پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ “بہتر سڑکوں کے نیٹ ورکس، ریئل ٹائم مواصلاتی نظام اور سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی اب ہندوستانی فوجیوں کو آگے کے علاقوں میں زیادہ رفتار اور درستگی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دے رہے ہیں”۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط سرحدی رابطہ نہ صرف سیکورٹی کو مضبوط کرتا ہے، بلکہ مقامی معیشتوں کو بھی مستحکم کرتا ہے، تباہی کے ردعمل کو بڑھاتا ہے، جیسا کہ جموں اور کشمیر کے چسوتی میں بادل پھٹنے کے بعد بچا ئوآپریشن کے دوران دیکھا گیا ہے – اور دور دراز علاقوں میں حکمرانی پر لوگوں کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔سنگھ نے کہا “ہماری مسلح افواج، بی آر او کے اہلکار، اور سرحدی علاقوں کے شہری مل کر قومی سلامتی کی ایک اجتماعی ڈھال بناتے ہیں”۔ سنگھ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کا رشتہ بڑھتا رہنا چاہیے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ’’پہلگام حملے کے بعد آپریشن سندور کے دوران مسلح افواج بہت کچھ کر سکتی تھیںلیکن جان بوجھ کرمحدوداور مربوط جواب کا انتخاب کیا گیا‘‘۔سنگھ نے کہا کہ مئی میں ہونے والی کارروائی نے ہندوستانی افواج کی صلاحیت اور نظم و ضبط دونوں کو اجاگر کیا۔انکاکہناتھا’’آپریشن سندور کے دوران، ہم نے اپنی مسلح افواج، سول انتظامیہ اور سرحدی علاقوں کے شہریوں کے درمیان جو ہم آہنگی دیکھی وہ ناقابل یقین تھا‘‘۔انکا کہنا تھاکہ صرف چند ماہ قبل، ہم نے دیکھا کہ کس طرح پہلگام میں گھنائونے حملے کے جواب میں، ہماری مسلح افواج نے آپریشن سندور کو انجام دیا۔وزیر دفاع نے کہا’’یقینا، اگر ہم چاہتے تو اور بھی بہت کچھ کر سکتے تھے، لیکن ہماری افواج نے نہ صرف بہادری بلکہ تحمل کا مظاہرہ کیا، صرف وہی کیا جو ضروری تھا‘‘۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مضبوط رابطے کی وجہ سے اتنا بڑا آپریشن ممکن ہوا، سنگھ نے کہا، “ہماری مسلح افواج صحیح وقت پر رسد پہنچانے میں کامیاب ہوئیں، سرحدی علاقوں کے ساتھ رابطہ بھی برقرار رکھا گیا، جس سے آپریشن سندور کو اس کی تاریخی کامیابی ملی”۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ سرحدی علاقوں میں رابطوں میں بہتری سیکورٹی کو متعدد طریقوں سے تبدیل کر رہی ہے اور فوجیوں کو دشوار گزار علاقوں میں زیادہ مثبت طریقے سے کام کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔
ایل جی کا مودی اور راج ناتھ کا شکریہ
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اتوار کو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر اعظم نریندر مودی کا جموں و کشمیر میں کنیکٹیویٹی اور سیکورٹی کو بڑھانے کے مقصد سے کلیدی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی ایک سیریز کا افتتاح کرنے کے لیے شکریہ ادا کیا۔X پر ایک پوسٹ میں، ایل جی کے دفتر نے لکھا، “وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کا آج جموں و کشمیر کے لیے بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے 22 اہم انفرا پراجیکٹس کا افتتاح کرنے کے لیے شکر گزار ہوں اور پی ایم کا تہہ دل سے شکریہ”۔LG نے کہا کہ بیکن اور SAMPARK منصوبوں کے تحت کچھ انتہائی چیلنجنگ خطوں میں شروع کیے گئے نئے افتتاحی منصوبے سرحدوں پر آپریشنل تیاریوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔پوسٹ نے مزید کہا گیا”انتہائی پیچیدہ خطوں میں قومی سلامتی کے بنیادی ڈھانچے کے یہ منصوبے دور دراز علاقوں تک سال بھر رسائی کو یقینی بناتے ہوئے فوجی نقل و حرکت کو فروغ دیں گے، فوری ردعمل کے لیے ہماری بہادر افواج کی تیاری میں اضافہ کریں گے اور مقامی ترقی میں قابل ذکر حصہ ڈالیں گے،” ۔