بھوک ایک انوکھا احساس ہے ،ایک نرالی آس ہے ،ایک کشش ہے، ایک آہ ہے، ایک آگ ہے، ایک بہتان، ہے ایک بہکاوا ہے ،ایک تڑپ ہے، ایک ضرورت ہے،ایک نشہ ہے ۔ اس کا تعلق جسم سے بھی ہے اور روح سے بھی،دماغ سے بھی ہے اور دل سے بھی ۔یہ نام سنتے ہی ہمارے دل میں ایک عجیب سا احساس خلق ہوتا ہے جیسے انتڑیوں کا مروڑ ،معدے کا خالی پن اور منہ میں پانی وغیرہ ۔اس احساس سے ایک طلب پیدا ہوتی ہے اور وہ طلب لذیز اور جوخوشبودار کھانے کی ہوتی ہے، جس کے ملتے ہی یہ طلب چند گھنٹوں کے لئے مٹ جاتی ہے ۔کبھی کبھی بھوک کے نام سے ہمارے دل میں جسمانی لحاظ سے کمزور اور ننگے بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کی تصویر آتی ہے ۔بھیک مانگتے ان ننگے بچوں کے حالات پر لوگوں کو ترس تو آتا ہے لیکن جیب سے ایک پیسہ نکالنے کو تیار نہیں ہوتے ۔ایک پل کے لئے تو لوگ اس پتھر کی طرح پگھل جاتے ہیں جو کھانڈ کے ساتھ چائے میں گرجاتی ہے ۔غریبوں اور مسکینوں کے حق میں بڑے بڑے بھاشن دیے جاتےہیں ۔اخلاقیات کا رعب جھاڑا جاتا ہے اور لوگ وقت کے حکمرانوں کو بڑ چڑھ کر تنقید کا ہدف بنادیتے ہیں، جیسے عام لوگوں کی کوئی ذمہ داری ہی نہیں ہے ۔رہی سہی کسر عالموں اور اماموں پر الزام لگانے سے پوری کرتے ہیں ۔اس طرح لوگ آسانی سے خود کو بچالیتے ہیں ۔اس ضمن میں اہم بات یہ ہوتی ہے کہ کہنے اور سننے والوں کے جیب تو بھرے ہوئے ہوتے ہیں لیکن ایک گھنٹے کے لمبے بحث کے بعد بھی جب ایک بھوکا ننگا بچہ اس امید سے ان کو دیکھتا ہے کہ وہ اس کو کچھ کھلائیں گے ۔ بحث سے تھکے ہارے وہ لوگ خود بھوکے ہوتے ہیں ،اس لیے بھوکے کی بھوک نظر انداز کر کے وہ پھر اپنے اندھے کنویں کو چائے کے گرم پیالے سے سیر کرتے ہیں اور وہ بھوکا، جس پر انہوںنے نہ جانے کیا کیا بکا تھا وہیں دیکھتا رہتا ہے۔یہی بچہ اگر روٹی چراتا ہے تو چوری کے الزام میں سزا بھگتنا ہے ۔حالانکہ اس کی روٹی چرانے والے امیر لوگ ہوتے ہیں لیکن ان کو کوئی سزا نہیں دیتا ہے۔ ۔کبھی کبھی از راہ ترحم کسی بھکاری کو دس روپے دےکر تو لوگ وقت کے حاتم طائی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور پھر چرچا ہی چرچا ۔ریاکاری اور دکھاوے سے ساری دنیا پر احسان جتاتے ہیں ۔یہ اور بات ہے کہ ایک بھکاری کو دس دے کر سو بھکاریوں کو بھگاتے ہیں ۔یوں بھوکوں پر کلام تو بہت کرتے ہیں لیکن مجال ہے کہ اس کے کھانے پر کچھ خرچ کریں ۔اس کے برعکس نفس کی بھوک جب کسی حُسنکی دیوی کو دیکھ کر امڈ آتی ہے تو پیسے جیب سے نہیں آسمان سے بارش کی طرح برستے ہیں ۔پھر چاہے اپنے ہوں یا نہ ہوں، دوسروں سے بھیک مانگ کر اس حسینہ پر لٹاتے رہتے ہیں ۔شاپنگ ،سیر سپاٹا ،عاشقی ،آج کل کے زمانے میں موبائل ،ریچارج اور ہوٹل کا خرچہ کبھی بھی ان کےبجٹ سے باہر نہیں ہوتا ۔مزے کی بات یہ ہے کہ اس میں دکھاوا اور ریاکاری نہیں ہوتی بلکہ رازداری اور خلوص ہوتا ہے ۔اس میں محبوبہ کی خوشی کے لئے سب کچھ قربان ہوجاتا ہے یہاں تک کہ دوستوں اور رشتے داروں کی نظروں میں قرض لے لے کر گر جاتے ہیں ،پھر بھی سکون ہوتا ہے اور خوشی بھی ۔یہ سکون اور خوشی تب اضطراب میں بدل جاتی ہے جب اپنا بٹوا خالی ہوجاتا ہے اور حسن کی دیوی پرائی ۔تواریخ شاہد ہے کہ بڑے بڑے سورمائوں نے شباب اور شراب پر اتنا پیسہ بہایا ہے کہ خود برباد ہوکر طوائفوں کو آباد کر گئے ۔بھوک کی شدید شکل ہوس ہوتی ہے اور ہوس کی شدید ترین شکل شہوت ہوتی ہے ۔شہوت کو بجھانے کے لیے انسان بد ترین شکل اختیارکرتا ہے۔اس معاملے میں انسان کو جانور کہنا جانوروں کی توہین ہے کیونکہ جانور آبروریزی نہیں کرتے۔ آج بھی ایسے دولتمند لوگ موجود ہیں جو حسن کے شیدائی تو ہوتے ہی ہیں لیکن دولت کے بھوکے بھی ۔ان کی یہ بھوک غریبوں کا خون چوس کر مٹتی نہیں ہے بلکہ اور زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔جتنا کھاتے میں مال جمع ہوتا ہے اتنی بھوک بھی بڑھ جاتی ہے ۔غریب مزدوروں کا کام کم نظر آتا ہے اور اپنا خرچہ زیادہ ۔خالص اشیا کی جگہ نقلی اشیا بیچ کر بھی یہ بھوک نہیں مٹتی ،اس لحاظ سے یہ بھوک نرالی ہے ۔غریب کی بھوک تو کچرے سے نکلی ہوئی سوکھی روٹی سے مٹ جاتی ہے ۔امیر کی بھوک ہوٹل میں کھانا کھانے سے مٹ جاتی ہے ۔نفس کی بھوک تو چند گھنٹوں کے لیے زائل ہوجاتی ہے لیکن دولت کی بھوک وہ بھوک ہے جو بڑھتی رہتی ہے ۔اس بھوک کو مطمئن کرنے کے لئے انسان نہ جانے کیا کیا جتن کرتا ہے ۔کسی کا گردہ نکال کر بیچ دیتا ہے یا کسی سے رشوت لیتا ہے ۔کسی کو دھوکہ دیتا ہے یا کسی کا سر بیچ کر مال جٹاتا ہے ۔جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرکے پیسے بٹورتا ہے ۔کنجوس آدمی مٹھی بند کر کے پیسہ پیسہ اکٹھا کر کے اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کرتا ہے ۔
یہ بھوک انسان کے جنم سے شروع ہوتی ہے اور کسی نہ کسی صورت میں مٹنے کے بجائے بڑھتی ہی رہتی ہے ۔موت کے بعد یہ بھوک مٹتی ہے یا پِٹتی ہے کسی کو معلوم نہیں کیونکہ موت کے بعد کوئی یہ کہہ نہیں پاتا کہ انجام کیسا رہا ۔البتہ دنیا میں چھوڑی گئی دولت پر اولاد کتوں کی طرح جھپٹ پڑتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ حصہ اپنی جھولی میں ڈالنے کی بھوک کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں،یوں بھوک خودغرضی کا روپ اختیار کر لیتی ہے ۔خود غرضی تقاضا کرتی ہے کہ ہر چیز محنت کے بغیر مل جائے، اس طرح چھیننے کی بھوک بڑھ جاتی ہے ۔خود غرضی کی اس بھوک میں پھر غریب کا بیٹا پھنس جاتا ہے ۔قابلیت اور میرٹ ہونے کے باوجود کسی کے اثر رسوخ کے ہتھے چڑھ جاتا ہے ۔غرضبھوک کے ہزاروں رنگ ہیں ،کچھ رنگ ہمیں نظر آتے ہیں اور کچھ جیسے رزالت ،جھوٹ،خود غرضی ،بےغیرتی، کمینگی ، ،بدی،ظلم، دھوکہ، وغیرہ نظر نہیں آتے یا ہم دیکھ کر ان دیکھا کرتے ہیں۔بھوک جہاں مفلسوں کے سینے پر مونگ دلتی ہے وہیں رئیسوں کے لئے اور زیادہ کمائی کی آس بن جاتی ہے ۔اولاد نرینہ کو لوگ قدرت کا تحفہ سمجھتے ہیں اور دہیج کا حقدار بھی ۔دہیج کے بھوکوں کو کھلانے میں ناکام ہونے کے بعد ہزاروں دوشیزائیں موت کے آغوش میں چلی جاتی ہیں ۔ یہ بات سمجھنے سے دنیا قاصر ہے کہ بھوک وہ انگارہ ہے جو بھسم کرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔بھوک وہ بیماری ہے جو جسم کو بھی لگ جاتی ہے اور روح کو بھی ۔یہ بھوک ہی ہے جو سرحدوں کی وسعت چاہتی ہے ۔بہبودی کو نظرانداز کر کے تباہ کن اور مہلک ترین ہتھیاروں کی دوڑمیں قوت مدافعت کے نام پر زیادہ سے زیادہ وسائل خرچ کرنا بھی بھوک ہے ۔نہاتے اور معصوم انسانوں پر یلغار کرکے اپنا دبدبہ بنائے رکھنا بھی بھوک ہے ۔یہ بھوک انسان سے کیا کیا نہیں کرواتی ہے۔طاقت کی بھوک اندھی بھوک ہے ،اس بھوک کے خاطر انسان حیوانیت کی ساری حدیں پار کرتا ہے اور نفرت کے اندھیرے میں ڈوب کر ستاروں کو توڑ دیتا ہے۔ ۔کتنا اچھا ہوتا اگر یہ بھوک نہ ہوتی یا انسانیت اور ہمدردی کی بھوک ہوتی ،بھائی چارے اور سخاوت کی بھوک ہوتی،رحم اور شفقت کی بھوک ہوتی ۔دنیا کی بہترین بھوک وہ بھوک ہے جو بھوکوں، مسکینوں ،یتیموں اور مجبوروں کو کھانا کھلانے کے لئے امڈ آتی ہے اور ننگوں کو کپڑے پہنانے کے لئے خلق ہوتی ہے ،وہ بھوک احسن بھوک ہے ۔بھوکوں کے دل سے نکلی ہوئی آہ گلشنوں کو پل میں برباد کرنے کی طاقت رکھتی ہے اور دُعا صحراؤں کو شاداب کرنے کی وقعت رکھتی ہے۔
( قصبہ کھُل کولگام ۔رابطہ9906598163)