عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//بھارت اورکینیڈااس سال کے آخر تک آزاد تجارتی معاہدے (Free Trade Agreement) سے متعلق مذاکرات مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات پیوش گوئل نے کینیڈا کے دورے کے دوران کہی۔پیوش گوئل 25مئی سے شروع ہونے والے اپنے 3 روزہ سرکاری دورے پر کینیڈا میں ہیں۔ انہوں نے اوٹاوا میں کینیڈا کے تجارتی وزیر منندر سندھوکے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے ہدف مقرر کیا ہے کہ نہ صرف اس سال کے آخر یا اس سے پہلے جامع آزاد تجارتی معاہدہ مکمل کیا جائے بلکہ دوطرفہ تجارت کو موجودہ 17 ارب امریکی ڈالر سے بڑھا کر 2030 تک 50 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔پیوش گوئل نے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کیمی سے بھی ملاقات کی۔ مارک کارنی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ بھارت کے ساتھ مجوزہ آزاد تجارتی معاہدہ کینیڈا کے کارکنوں اور کاروباری اداروں کیلئے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا اور اس سے ایک بڑی نئی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوگی۔دونوں ممالک اس وقت جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ اب تک مذاکرات کے 2 دور مکمل ہو چکے ہیں جبکہ تیسرا دور 25 سے 29 مئی تک اوٹاوا میں جاری ہے۔بھارت کی کینیڈا کو اہم برآمدات میں دواسازی، لوہا و اسٹیل، سمندری غذا، سوتی ملبوسات، الیکٹرانک اشیا اور کیمیکل شامل ہیں۔ دوسری جانب کینیڈا سے بھارت کو دالیں، قیمتی اور نیم قیمتی پتھر، کوئلہ، کھاد، کاغذ اور خام تیل درآمد کیا جاتا ہے۔بھارت کی خدمات کے شعبے سے متعلق اہم برآمدات میں ٹیلی کمیونی کیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز اور دیگر کاروباری خدمات شامل ہیں۔ کینیڈا میں 4,25,000 سے زائد بھارتی طلبہ اور ایک بڑی بھارتی کمیونٹی بھی موجود ہے۔بھارتی وفد کی جانب سے محکمہ تجارت کے جوائنٹ سیکریٹری برج موہن مشرا چیف مذاکرات کار ہیں جبکہ کینیڈا کی جانب سے بروس کرسٹے اس عمل کی قیادت کر رہے ہیں۔