عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//کشمیری قالین اور دستکاری صنعت نے بھارت اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے دوطرفہ تجارتی معاہدے (BTA)کا خیرمقدم کیا ہے۔ قالین ایکسپورٹ پرموشن کونسل (CEPC)کی کمیٹی آف ایڈمنسٹریشن کے رکن اور کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI)کے سابق صدر شیخ عاشق نے اس معاہدے کو کشمیری صنعتکاروں اور کاریگروں کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی قدم قرار دیا ہے۔شیخ عاشق کے مطابق یہ معاہدہ ان دیرینہ ٹیرف رکاوٹوں کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت ہے جو عالمی منڈیوں میں کشمیری قالین برآمد کنندگان کے لیے مشکلات کا سبب بنی ہوئی تھیں۔ کشمیر بھارت کی ہاتھ سے بنی قالینوں کی برآمدات میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے، جہاں تقریبا 60 فیصد قالین امریکہ کو برآمد کیے جاتے ہیں، جو اس صنعت کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ ساتھ امریکہ کشمیری دستکاروں کے لیے ایک کلیدی مارکیٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔
شیخ عاشق نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور وزیر ٹیکسٹائل گری راج سنگھ کی قیادت میں حکومت ہند کی مسلسل سفارتی کوششوں پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا’’ ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں تجارتی رکاوٹوں میں مزید نرمی آئے گی۔ یہ معاہدہ نہ صرف قالین بلکہ کشمیر کی پوری دستکاری صنعت کے لیے ایک نعمت ثابت ہوگا‘‘۔قالین ایکسپورٹ پرموشن کونسل کے چیئرمین کیپٹن مکیش گومبر نے کہا کہ اگرچہ بھارتیورپی یونین اور بھارتبرطانیہ آزاد تجارتی معاہدوں سے صنعت کو جزوی فائدہ ملا تھا، تاہم بھارتامریکہ معاہدے نے صنعت میں نئی جان ڈال دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی منڈی میں قالینوں پر عائد ٹیرف کو 50فیصد سے کم کر کے 18فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے بھارتی قالینوں کی مسابقتی صلاحیت بحال ہوئی ہے اور خریداروں و برآمد کنندگان کا اعتماد دوبارہ قائم ہوا ہے۔