عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//سرینگر میں کل بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ایک شمولیتی پروگرام منعقد ہوا جس میں سینکڑوں افراد، نوجوانوں اور نیشنل کانفرنس (این سی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کی۔یہ شمولیتی پروگرام بی جے پی جموں و کشمیر یو ٹی کے جنرل سیکریٹری (تنظیم) اشوک کول، جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن (وزیر مملکت) ڈاکٹر درخشاں اندرابی، بی جے پی جموں و کشمیر یو ٹی کے جنرل سیکریٹری محمد انور خان اور دیگر پارٹی عہدیداران کی موجودگی میں منعقد ہوا۔اس دوران نئے شامل ہونے والے افراد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اشوک کول نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام، خصوصاً نوجوانوں، نے نیشنل کانفرنس کی بدعنوانی، بدانتظامی اور عوامی فلاح و ترقی میں ناکامی کی سیاست سے اعتماد کھو دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی واحد جماعت بن کر ابھری ہے جو شفافیت، ترقی، اچھی حکمرانی اور معاشرے کے تمام طبقات کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر بھر میں بی جے پی کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں اور وڑن پر عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے ۔اس موقع پردرخشاں اندرابی نے الزام لگایا کہ این سی نے ووٹ حاصل کرنے کے وعدے کیے تھے لیکن وہ پورا کرنے میں ناکام رہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ این سی کے بہت سے نچلی سطح کے کارکنان اب بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں، جو اس تبدیلی کو وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن سے منسوب کرتے ہیں۔بی جے پی میں شامل ہونے والے نئے اراکین میںاین سی کے رہنما دانش ریاض ڈار، طارق صوفی، مشتاق ڈار، محمد رفیق، سینئر ٹریڈ یونین لیڈر شبیر احمد لانگو اور سابق سینئر ٹریڈ یونین لیڈر، چیئرمین نان گزیٹڈ ایمپلائز یونین جموں و کشمیر سعید بزاز، محمد یوسف زرگر VP بھارتیہ سنجر اور سماجی کارکنان شامل ہیں۔