راجوری //بھاجپا لیڈران کے کشمیر سے متعلق بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس راجوری کے لیڈران نے کہاکہ ایک طرف ہندوستان کے وزیر داخلہ یہ بیان جاری کررہے ہیں کہ کشمیری طلباء کوبیرونی ریاستوں میں تحفظ فراہم کیا جائے تاہم دوسری طرف وادی بھر میں ہورہے تشدد کو جواز بخشتے ہوئے رام مادھو اور چندر پرکاش گنگا فورسز کو شاباشی دے رہے ہیںجو تشویشناک بات ہے ۔ڈاک بنگلہ راجوری میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس ضلع صدر شفاعت خان نے کہاکہ چندر پرکاش گنگااوررام مادھو کے بیانات انسانیت سوز ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ جب سے مخلوط سرکار وجودمیں آئی ہے تب سے عام آدمی کا سکون چھن گیا ہے اور چاروں طرف افراتفری مچی ہوئی ہے۔انہوںنے کہاکہ پی ڈی پی ان بیانات پر اپنا موقف واضح کرے۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے سابق پرنسپل پروفیسر محمد بشیر ماگرے نے کہا کہ ہندوستان کو چاہئے کہ وہ کشمیر ی قوم کے ساتھ کئے گئے ہوئے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے عام لوگوں ونوجوان اورطلباء طالبات پر تشدد کو بند کرے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ی عوام کے ساتھ دھوکہ کیا گیا اورکئے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے جس کی وجہ سے آج حالات اس قدر خراب ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں کسی طرح کاظلم وستم نہیں ہے کیونکہ وہاں عوام کا اپنا وزیراعظم اور صدرریاست ہے جن کے مطالبات کو ایک ہی جگہ حل کیا جاتا رہا ہے تاہم اس کشمیر کی حالت ناگفتہ بہ بنادی گئی ہے جہاں پر فورسز لگاتار تشدد کو جوازبخشتے ہوئے نوجوانوں کو اندھا کررہی ہے جو قطعی براشت نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں گورنر راج نافذ کیاجائے اور جموںکشمیر کی عوام کے امنگوں کو پورا کیاجائے ۔انہوںنے ریاست میں 1953کی پوزیشن کی بحالی پر زور دیااور کہاکہ اگر مسئلہ کشمیر سے انحراف کیاجائے گاتو اس سے حالات خراب ہی ہوتے جائیںگے ۔انہوںنے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ حریت سمیت تمام فریقین سے بات چیت شروع کرے اور مسئلہ کا دائمی حل نکالاجائے۔اس موقعہ پر سعید جٹ نے ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں کشمیر طلباء پر ہورہے تشدد پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں بھی چین سے نہیں رہنے دیا جارہا اور بیرون ریاست بھی مار پیٹ کی جارہی ہے ۔ انہوں نے بکروال طبقہ کے ساتھ مارپیٹ پر بھی غم وغصہ کا اظہار کیا جو ریاسی سے وادی کی طرف نقل مکانی کررہے تھے ۔