۸ ؍ نومبرپیر کے روز صدرِ ہند شری رام ناتھ کوندو نے سنہ ۲۰۲۰ء کے لئے ۱۱۹ ؍شہریوں کو مختلف زمروں کے اندر ملک کے دوسرے عظیم ترین سیول انعام سے نوازا ہے ۔ پدما (سنسکرت میں کنول) جیسا عظیم ترین انعام ۱۹۵۴ سے قائم ہے اور یہ انعام ملک کے ان شہریوں کو دیا جاتا ہے، جنہوں نے زندگی کے مختلف شعبہ ہائے میں نمایاں کردار انجام دئے ہوں، جن میں فن، تعلیم، صنعت، ادب، سائنس، کھیل، صحت، سماجی خدمات اور عوامی معاملات شامل ہیں ۔ یہ انعام اُن غیر ملکی شہریوں کو بھی دیا جاتا ہے جنہوں نے ملک ہند کے لئے مختلف طریقے سے مراسلہ (contribution) کیا ہو۔
اس سال کی فہرست میں 7 لوگوں کو پدما وبھوشن، 10کو پدما بھوشن جب کہ 102 کو پدما شری انعام سے نوازا گیا۔ کل ملا کر انعام یافتہ گان میں22عورتیں، 1خواجہ سرا اور 29بعدازمرگ شہریوں کے نام شامل تھے۔ انعام و اعزاز یافتہ شہریوں میں ایک عام نام بھی شامل تھا، جس نے نہ کبھی کسی ادارے سے اپنی رسمی تعلیم پائی تھی اور نہ ہی کسی فن، کھیل، ادب، تعلیم، ادویات یا صنعت جیسے شعبوں میں کوئی غیر معمولی کردار انجام دیا ہے بلکہ یہ نام ہندوستان کے عام شہریوں میں سے ایک ایسے غریب شہری کا ہے، جو منگلورو کے بازار میں سنترے بیچتا ہے۔ کرناٹک کے شہر منگلورو کے دیہی علاقے کا یہ ۶۸ سال کا میوہ فروشی بزرگ شہری کا نام ہریکالا حجابا (Harekala Hajabba) ہے ۔
تعلیم سے محروم حجابا ۱۷ ؍اکتوبر ۱۹۵۲ء کو منگلورو کے گاؤں نیوپاڑپو (Newpadpu) کے ایک غریب مسلم گھرانے میں پیدا ہوا ہے۔ معاشی طور پسماندہ ہونے کے سبب آپ کو تعلیم سے محروم رہنا پڑا۔ اس طرح گھر کے اخراجات پورا کرنے کے لئے آپ کو کم عمری میں ہی مزدوری کرنا پڑی، آپ منگلورو بس ڈپورٹ پر سنہ ۱۹۷۷ ء سے سنترے فروخت کر رہا ہے۔ آپ کے دل میں تعلیمی انقلاب پیدا کرنے کی خواہش اُس وقت پیدا ہوئی جب سنہ ۱۹۷۸ء میں ایک غیر ملکی سیاح نے اس سے انگریزی زبان میں سنتروں کی قیمت پوچھی تھی، حجابا صرف اپنی علاقائی زبان پر دسترس رکھتا تھا اور وہ اس انگریز سیاح خریدار سے نہ صرف سنترے بیچ سکا بلکہ گفتگو کرنے سے بھی قاصر رہا، اس واقع سے آپ بےحد غمگین ہوا کیونکہ اسکول جیسی بنیادی سہولیات کے میسر نہ ہونے اور گھرکی مالی حالت کمزور ہونے سے تعلیم سے محروم تھا۔ اُسی روز سے حجابا سنترے کی کمائی سے پیسےبچانے میں لگا اور ایک خواب سجائے بیٹھا کہ وہ اپنے گاؤں میں ایک اسکول کی تعمیر ممکن بنا لے گا۔
بالآخر آپ نے اپنی محنت سے سنہ ۲۰۰۰ء میں نیوپاڑپو میں ایک چھوٹا سا اسکول تعمیر کر دیا، جس سے "حجابا اسکول " کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس طرح آپ نے سنترے بیچتے بیچتے منگلورو کے دیہی علاقے میں تعلیمی انقلاب پیدا کر دیا ۔ یہ اسکول پہاڑی علاقے میں 1.33 ایکڑ اراضی پر واقع ہے جہاں بچے تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آج بھی دور دراز علاقوںسے پیدل چل کر آتے ہیں اور یہ اسکول پسماندہ طلباء کے مستقبل کا ضامن بن چکا ہے۔ یہ اسکول سرکاری امداد اور دیگر کئی لوگوں کے عطیہ جات سے ترقی کے منازل طے کرتا گیا،سرکاری ذرائع کے مطابق اس وقت اس سکول میں ۱۷۵ طلباء زیر تعلیم ہیں ۔
حجابا کو لوگ محبت سے 'اکشرا سینٹا (Letter Saint) یعنی تعلیمی پیر کے نام سے پکارتے ہیں، وہ اپنی غیر معمولی خدمات سے مشہور و معروف ہے ۔ اسی غیر معمولی سماجی خدمات کے لئے آپ کو ۲۰۲۰ء کے لئے ملک کا چوتھا عظیم سیول انعام " پدما شری " سے نوازا گیا ہے۔ اس عظیم الشان انعام کو صدر ہند کے ہاتھوں لیتے ہوئے حجابا عزت و اکرام کے طور ننگے پیروں چلاآیا اور انعام حاصل کرنے کے بعد یہی الفاظ دہرائے کہ " یہ انعام میرے لئے نہیں بلکہ اسکول کے لئے ہے۔ میں اتنا عظیم انسان نہیں ہوں ،یہ اسکول دراصل کئی رحم دل انسانوں کے عطیہ اور سرکاری امداد کا نتیجہ ہے۔" آپ کا دوسرا خواب اپنے علاقے میں کالج بنانے کا ہے تاکہ آپ کے سماج کے لوگ بھی بہتر زندگی گزار سکیں ، یہی وہ حقیقت ہے جس سے ہم معاشرے کو بدل سکتے ہیں۔ آپ کو اس سے پہلے بھی کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے جس میں انعام برائے اصلی ہیرو (Real Heroes Award) اور " پرسن آف دی ایئر" قابل ذکر ہیں۔ آپ کی نجی زندگی کے متعلق کافی کچھ لکھا گیا ہے لیکن قومی سطح پر آپ کی پہچان اُس وقت ہوئی، جب آپ کا نام پدما ایوارڈز کے لئے منتخب کیا گیا۔ یہ اعزاز ملنا آپ کے اس غیر معمولی تعلیمی انقلاب کی نہ صرف حوصلہ افزائی ہے بلکہ آپ کے اس خلوص کی پہچان بھی بن گیا، جو اپنے آپ میں ایک نمایاں کردار کی شان بھی ہے ۔
یہ حجابا کی محنت، لگن، ذاتی دلچسپی، شوق و زوق اور تعلیم کے تئیں وہ جنون تھا، جس سے آپ نے میوہ فروشی کی کمائی سے تعلیمی انقلاب پیدا کیا اور اسطرح آپ عوام الناس کے لئے عموماً اور اساتذہ کرام کے لئے خصوصاً جوش دلانے والی متاثر کن تحریک (inspiration) بن چکے ہیں ۔ آپ تعلیم سے محروم ہوتے ہوئے اس کی اہمیت اور افادیت کو سمجھ سکے ہیں لیکن ہم تعلیم یافتہ ہوتے ہوئے بھی تعلیمی اداروں کو بنانے کے بجائے منہدم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ آپ نے واقعی اپنے سماج کے لئے ہمدرد، خیر خواہ اور رفیق ہونے کا ثبوت پیش کیا ۔ ہمارے یہاں سرکار سے تسلیم شدہ تعلیمی اداروں میں تمام قسم کی سہولیات میسر ہونے کے باوجود طلباء کی تعداد نہ کے برابر ہے، جس پر شعبہ تعلیم کو غور و خوض کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ان تعلیمی اداروں کی زینت بڑھانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں اور تعلیم سے محروم سبھی عمر کے شہریوں میںتعلیم حاصل کرنے کا شعور پیدا کریں ۔
(ہاری پاری گام ترال،رابطہ- 9858109109)