بشیر اؔطہر
موسم سہانا تھا۔ جمال الدین اپنے گھر کے عقب میں چارپائی پر لیٹا دھوپ سینک رہا تھا کہ اُس کی بیوی مالہ بیگم اُس کے پاس آئی۔
“ارے سنتے ہو، کہتے ہیں کہ لوگوں میں اس رمضان میں بھی راشن کے کِٹ تقسیم ہوئے ہیں۔” مالہ نے اپنے شوہر جمال سے کہا۔
جمال الدین سُندرپور گاؤں کا نہایت محنتی، قابلِ احترام اور خوددار شخص تھا۔ کئی سال پہلے وہ ایک بیماری کی لپیٹ میں آ گیا تھا اور اُس کے پاس جو بھی جمع پونجی تھی، ختم ہو چکی تھی۔ زمین و جائیداد بیچ کر اُس نے اپنا علاج کروایا تھا اور اب اُس کا گزارہ بڑی مشکل سے ہوتا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اپنا حال کسی کو سنائیں مگر اُن کی خودداری انہیں ایسا کرنے سے روکتی تھی۔
“کس نے کہا؟” جمال الدین نے پوچھا۔
“گاؤں کی سبھی عورتیں پنگھٹ پر باتیں کر رہی تھیں، اور ہاں… یہ بھی کہہ رہی تھیں کہ امیرالدین کے پاس بھی کئی راشن کِٹ رکھے گئے ہیں تاکہ وہ کسی مستحق کو دے دے۔ کیوں نہ میں اُسی کے پاس جا کر ایک راشن کِٹ اپنے لئے مانگ لوں؟” مالہ نے کہا۔
“نہیں، ہم کیوں اُس کے پاس جائیں؟ وہ ہمارے حالات سے پوری طرح باخبر ہے۔ اُسے چاہیے تھا کہ ہمیں بھی ایک کِٹ بھیجتا۔ یہ رضاکار بھی نہ جانے کس پر بھروسہ کر لیتے ہیں۔ میں امیرالدین کو بچپن سے جانتا ہوں، وہ راشن کے اُن کِٹوں کو اپنے ہی رشتہ داروں میں تقسیم کرے گا، مستحقین تک نہیں پہنچائے گا۔ چلو دیکھتے ہیں کہ کل تک کیا ہوتا ہے۔ ابھی تو رمضان کے اٹھاراں دن بھی نہیں گزرے۔ آج کل کے لوگ بھی نہ جانے کن لوگوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اے ربِّ کریم! ہمارے دامن کو بھی فراوانی عطا فرما۔”
کئی روز بعد اسی گاؤں میں ایک رضاکارانہ تنظیم پھر راشن کی تقسیم کے لئے آئی۔ جن کے پاس آئی اے وائی یا بی پی ایل راشن کارڈ تھے، انہیں راشن دیا گیا۔ اس زمرے میں گاؤں کے بڑے بڑے زمیندار، بیوپاری، باغ مالکان اور مویشیوں کے ریوڑ پالنے والے شامل تھے، مگر جو واقعی غریب اور مفلوک الحال لوگ تھے، انہیں اس فہرست سے خارج رکھا گیا تھا۔ اس کا راز اُس وقت کھلا جب غریب لوگ بھی رضاکاروں کے پاس گئے تاکہ انہیں بھی راشن ملے، مگر رضاکاروں نے انہیں راشن دینے سے انکار کر دیا کیونکہ اُن کے پاس اے پی ایل راشن کارڈ تھے۔
“امیرالدین کو آپ نے راشن کیوں دیا؟ یہ تو اس گاؤں کے سب سے زیادہ امیر ہیں!” گاؤں کے ایک غریب نے راشن کارڈ واپس لیتے ہوئے کہا۔
“ہاں، یہ ناانصافی ہے۔ نمبردار کو بھی راشن ملا، جس کے پاس لگ بھگ پچاس بھیڑ بکریاں ہیں اور سیب کا ایک بڑا باغ بھی ہے!” دوسرے غریب نے تائید کی۔
اتنا کہنا تھا کہ نمبردار کا ایک رشتہ دار اُن پر ٹوٹ پڑا اور اُن کی خوب پٹائی کی۔ جب غریبوں نے دیکھا کہ اُن کے ایک ساتھی کو لہولہان کر دیا گیا ہے تو انہوں نے اس کے خلاف یکجُٹ ہو کر آواز اٹھائی۔ اُدھر امیرالدین کے حامی بھی میدان میں آ گئے اور دونوں طرف سے گھمسان کی لڑائی چھڑ گئی، جس میں کئی لوگ زخمی ہوئے۔
غریبوں نے اعلان کیا، “جب تک ہمیں انصاف نہیں ملے گا، ہم چپ نہیں بیٹھیں گے۔ سُندرپور میں امیروں کے پاس بی پی ایل اور آئی اے وائی راشن کارڈ ہیں، جبکہ غریبوں کے پاس اے پی ایل راشن کارڈ ہیں۔”
جو گاؤں بھائی چارے اور امن کے لئے مشہور تھا، وہ اب دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ سُندرپور اب امیروں اور غریبوں میں بٹ گیا تھا۔
جب یہ معاملہ سرکاری حکام تک پہنچا تو انہوں نے اسے دبانے کی پوری کوشش کی، مگر بات آگے بڑھ چکی تھی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے انکوائری کا حکم دیا اور معلوم ہوا کہ اس بدنظمی میں نمبردار، امیرالدین، پٹواری اور تحصیلدار ملوث تھے۔ نمبردار، پٹواری اور تحصیلدار کو معطل کر دیا گیا اور راشن کارڈ نئے سرے سے بنانے کے احکامات جاری کئے گئے۔ اس بار غریبوں کی جیت ہوئی اور جمال الدین کو بھی آئی اے وائی زمرے میں شامل کیا گیا۔ اس کے بعد اُسے باقاعدگی سے اپنا حق ملنے لگا اور رضاکار بھی اُسے اُس کا حصہ دینے لگے۔
جب مالہ نے یہ سب دیکھا تو اُس نے اللہ کی طرف ہاتھ بلند کر کے کہا، “اے خدایا! تُو بڑا رحیم ہے، تیرے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔” پھر اُس نے بڑے ہی طنزیہ انداز میں جمال الدین سے کہا، “غریبوں کے دامن تلے ہی بھلائی ہے… آج بڑا سکون آیا۔”
���
خانپورہ کھاگ بڈگام
موبائل نمبر؛7006259067