پرویز احمد
سرینگر // چیچک یا خسرا(چکن پوکس) ورسیلےا وائرس سے پھلتی ہے ۔اس وائرس کے نتیجے میں جسم میں تیز خارش والے پانی سے بھرے چھالے نمودار ہوتے ہیںجو بعد میں خشک ہوکرکھرنڈ کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں تقریباً 140ملین لوگ ہر سال اس وائرس سے متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کے 90فیصد متاثرین کی عمر 15سال سے کم ہوتی ہے۔گرم علاقوں میں یہ بیماری چھوٹے بچوں اور15سال تک کے نوجوانوںمیں ہوتی ہے۔بھارت میں یہ وبائی بیماری مختلف ریاستوں میں مختلف اوقات اور مختلف شدت میں پھوٹ پڑتی ہے۔جموں و کشمیر میں یہ بیماری بچوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔یہاں اس بیماری کے اکا دُکا معاملات سامنے آتے ہیں۔چلڈرن ہسپتال بمنہ میں سال 2025کے دوران اس ورسیلے وائرس کے 3معاملات سامنے آئے ہیں۔ چیچک وائرس ، متاثرہ افراد کے رابطے میں آنے سے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس چھینکنے،کھانسنے سے منتقل ہوتا ہے،اسلئے وائرس کافی تیزی سے بچوں میں پھیلتا ہے اور بار بار یا زیادہ دیگر تک متاثرہ بچے کے ساتھ رابطے میں رہنے سے بڑوں میں بھی منتقل ہوسکتا ہے۔
یہ وائرس بچوں میں عام ہے لیکن یہ کسی بھی عمر کے غیر ویکسین شدہ آدمی کو متاثر کرسکتی ہے۔ ویکسین کی وجہ سے اب یہ بیماری قابو ہونے لگی ہے لیکن ویکسین کے بائوجود یہ ہر سال متاثر کرتی رہتی ہے۔اس کی سب سے ظاہر اور بڑی علامتوں میں خارش، بخار، کھانسی، چھینکنا اور زکام اور دیگر علامتیں شامل ہیں۔چونکہ یہ ایک وبائی بیماری ہے۔ اس پر اینٹی بائیوٹک کام نہیں کرتے جبکہ علاج کا بنیادی مقصد علامات کو کم کرنا ہے۔خارش میں کمی لانے کیلئے کیلامن لوشن جبکہ بخار میں کمی کیلئے پیرا سیٹمال کا استعمال کیا جاتا ہے۔شدید انفکیشن یا بیماری کی صورت میں بچوں کو اینٹی وائرل ادویات دی جاتی ہیں جن سے وائرس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ وادی میں امراض اطفال کے خصوصی ہسپتال بمنہ کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالرشید پرہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہ انتہائی تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے اور اسی وجہ سے اس سے متاثرہ بچوں کو دوران علاج علیحدہ کورٹین کرنا پرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وائرس ابھی ختم نہیں ہواہے لیکن ویکسین کی وجہ سے کافی کمی آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ابھی کوئی کیس نہیں آیا لیکن سال 2025میں اس سے متاثرہ 3بچوں کا داخلہ کیا گیا تھاجو علاج کے بعد گھر واپس چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے کچھ معاملات سال 2012سے 2015کے بیچ میں بھی دیکھے گئے تھے۔