کشتواڑ//ضلع ہیڈکوارٹر سے 110کلومیٹر دور تحصیل بونجواہ کی پنچایت کھتیر اس دور جدید میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ جہاں علاقہ بجلی، پانی ، سڑک و طبی نظام کیلئے ترس رہا ہے وہیںعلاقہ کے نمایندے بھی عوام کی پریشانیوں کا ازالہ کرنے میں غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ علاقہ میں آج بھی بنیادی سہولیات کا فقدان پایا جارہا ہے، اگرچہ دیگر علاقہ جات میں بجلی فراہم کی گئی ہے تاہم اس علاقہ میں محض چند گھروں کو ہی بجلی فراہم کی گئی ہے جبکہ دیگر علاقہ ہنوز بجلی سے محروم ہے ۔ پانی کاحال بھی ایسا ہی ہے اور عوام آج بھی نالوں کا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ جبکہ پنچایت میں طبی سہولیات کا فقدان ہے۔تحصیل بونجواہ کی 35000آبادی کیلئے ایک پرائمری ہیلتھ سینٹر قائم کیاگیا ہے تاہم اس دود دراز کی عوام کو پی ایچ سی تک پہنچنے کیلئے7 8 گھنٹوں کا پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ مقامی شخص عبدالرشید نے بتایا کہ علاقہ میں ڈسپنسری تک قایم نہیں کی گئی جبکہ مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے کیلئے انہیں عارضی طور بنائے گئے لکڑی کے سٹریچر پرانہیں لے جانا پڑتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ علاقے کیلئے سڑک کی تعمیر کیساتھ ساتھ دیگر بنیادی سہولیات ہر وقت دستیاب رکھی جانی چاہئیں تھی تاکہ انھیں مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑتا۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت وبائی بیماری جہاں دنیا بھر میں پھیلی ہے اور آئے روز ہزاروں کی تعداد میں مثبت معاملے سامنے آرہے ہیں جسکی وجہ سے انھیں کافی تشویش ہورہی ہے کہ اگر کہیں اس علاقہ میں وبائی بیماری پھیل گئی تو طبی سہولیات نہ ہونے کے سبب انھیں دقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔علاقہ کے چنے ہوئے نمایندگان جن میں پنچ، سرپنچ، بی ڈی سی ممبر و ڈی ڈی سی ممبران شامل ہیں، نے بھی علاقہ کے غریب عوام سے صرف وعدے ہی کئے جبکہ انھیں عملی جامہ پہنانے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا جارہا ہے۔ ووٹ مانگنے کے وقت انھیں سنہرے خواب دکھائے گئے لیکن الیکشن ختم ہوتے ہی انھوں نے علاقہ کی طرف مڑکر بھی نہیں دیکھا۔ انھوں نے تمام ممبران سے مانگ کی کہ علاقہ میں بنیادی سہولیات کو بہم کیا جائے تاکہ غریب عوام مزید مشکلات سے دوچار نہ ہو۔