عارف بلوچ
اننت ناگ//سربل وادی اپنی قدرتی خوبصورتی، بلند و بالا برف سفید پہاڑوں، اور خوبصورت چشمہ واقع ہونے کی وجہ سے ایک بہترین سیاحتی مقام ہے۔ یہ جگہ فطرت کے متلاشیوں، کیمپنگ کے شوقین افراد کے لیے پرسکون اور دلکش ماحول فراہم کرتی ہے، جو اسے سیاحت کے لیے ایک اہم مقام بناتی ہے۔ویری ناگ سے قریبا 30 کلو میٹر دور یہ علاقہ سربل کپرن سے جانا جاتا ہے۔ قدرتی حسن، سرسبز و شاداب میدانوں اور خاموشی کی وجہ سے ایک بہترین سیاحتی مقام بن سکتی ہے۔اس علاقے کو سیاحت کے لیے کھولنے سے مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے سڑکوں کی تعمیر، رہائش، اور بجلی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔ اس کی ترقی سے اس پسماندہ علاقہ میں سیاحوں کا بہا مزید بڑھے گا۔برف باری نے ڈیڈبل ،سربل ویلی ٹریک کو خالص جادو میں تبدیل کر دیا ہے اچھوتی خوبصورتی، لامتناہی نظارے، یہ جگہ سیاحت کے فروغ کا مطالبہ کر رہی ہے۔مقامی صحافی روف وانی کا کہنا ہے کہ ویری ناگ کے اوپری علاقے سیاحتی اعتبار سے مالا مال ہے، قدرت نے ذرے ذرے کو بے تحاشا خوبصورتی سے نوازا ہے۔ یہاں کے دلکش اور دلفریب سیاحتی مقامات لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہے، تاہم جنت نما وادی سرکار کی نظروں سے اوجھل ہے۔کئی برس قبل حکومت نے اس علاقے میں سیاحتی ڈھانچہ کو مضبوط بنانے کی غرض سے اقدامات اٹھائے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ہی پیش رفت کھٹائی میں پڑگیا۔انہوں نے کہا کہ برف باری میں اس علاقے کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوتا ہے،اور سکینگ کے لیے یہ علاقہ کافی موزوں ہے۔ شاہ آباد کی کئی سماجی تنظیموں کا ماننا ہے کہ اگر اچھی منصوبہ بندی، بہترحکمت عملی اختیار کی جائے، تو بہت حد تک پسماندہ علاقہ کے معاشی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔