پیرس//ملک میں بڑھتی مہنگائی کے سبب فرانس میں ٹریڈ یونینز نے ملک گیر ہڑتال شروع کردی ہے جس میں کئی دہائیوں کی بلند ترین افراط زر کے دوران تنخواہوں میں اضافیکا مطالبہ کیا ہے ، اس اقدام سے مئی میں دوبارہ منتخب ہونے کے بعد صدر ایمانوئیل میکرون کو سخت ترین چیلنجز میں سے ایک درپیش ہے ۔خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہڑتال سے بنیادی طور پر پبلک سیکٹرز جیسا کہ اسکولوں اور نقل و حمل متاثر ہوگی، یہ ہڑتال ہفتوں سے جاری صنعتی کارروائی کی توسیع ہے جس نے فرانس کی بڑی ریفائنریز کو متاثر کیا اور پیٹرول اسٹیشنز کی سپلائی میں خلل ڈالا۔ٹریڈ یونین کے رہنما امید کر رہے ہیں کہ مزدوروں کو حکومت کے اس فیصلے سے حوصلہ افزائی ملے گی کہ ان میں سے کچھ کو پیٹرول ڈپو پر کام پر واپس جانے پر مجبور کیا جائے گا تاکہ ایندھن کو دوبارہ رواں کرنے کی کوشش کی جاسکے ، اس اقدام سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کا حق خطرے میں پڑ جائے گا۔سی جی ٹی یونین نے باوجود اس کے کہ ٹوٹل انرجیز نے دیگر یونینوں کے ساتھ جمعے کو 7 فیصد اضافہ اور بونس سمیت ایک معاہدہ کیا تھا، خاص طور پر آئل کمپنی میں چوتھے ہفتے تک مسلسل واک آؤٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔سی جی ٹی افراط زر اور فرم کے بھاری منافع کا حوالہ دیتے ہوئے تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہی ہے ۔یوروسٹار نے کہا کہ وہ ہڑتال کی وجہ سے لندن اور پیرس کے درمیان کچھ ٹرینوں کی آمد و رفت منسوخ کر رہا ہے ۔یورو زون کی دوسری سب سے بڑی معیشت میں تناؤ بڑھنے کے ساتھ ہی، توانائی کے شعبے کے دیگر حصوں میں بھی ہڑتالیں شروع ہوچکی ہیں، بشمول نیوکلیئر کمپنی ای ڈی ایف کے جہاں یورپ کی بجلی فراہمی کے لیے اہم دیکھ بھال کے کام میں تاخیر ہوگی۔پیر کے روز ‘ایف این ایم اے -سی جی ٹی’ یونین کے ایک نمائندے نے کہا کہ ہڑتالوں سے 10 فرانسیسی نیوکلیئر پاور پلانٹس پر کام متاثر ہو رہا ہے ، 13 ری ایکٹرز کی دیکھ بھال میں مزید تاخیر اور فرانسیسی بجلی کی پیداوار میں کل 2.2 گیگاواٹ کی کمی واقع ہوئی ہے ۔اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ میں، مقامی ٹریفک میں بڑی رکاوٹیں متوقع ہیں جس میں یوروسٹار، ٹرینوں اور مضافاتی ٹرینوں کے ساتھ ساتھ پیرس سب وے بھی شامل ہیں۔