گول//ضلع رام بن کے گول بلا ک کے سرپنچوں اور پنچوں نے گرام سبھا تربیتی پروگرام کا بائیکاٹ کرتے ہوئے بلاک دفتر کے سامنے زوردار احتجاج کیا ۔ احتجاج کے دوران انہوں نے کہا کہ ہماری ایک مانگ بھی پوری نہیں ہو رہی ہے تو پھر ہماری اس تربیت کا کیا مقصد ہے اور سرپنچوں اور پنچوں کو سرکار کیوں ااستعمال کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرپنچ کو تین ہزار اور پنچوں کو ایک ایک ہزار ماہانہ دی جاتی ہے اور زمینی سطح پر تمام کام ان سے ہی لئے جاتے ہیں لیکن یہ قلیل مشاہرہ بھی وقت پر نہیں ملتا ہے ۔ انہوں ںے کہا کہ گرام سبھا پروگراموں کے دوران جو زمینی سطح پر پنچوں اور سرپنچوں و علاقے کے شہریوں کی موجودگی میں پلان دئے جاتے ہیں وہ کہاں گئے ۔ انہوں نے کہا کہ سرپنچوں اور پنچوں کو کوئی نہیں پوچھتا اور ڈی ڈی سی و بی ڈی سی ممبر من مرضی سے پلان رکھتے ہیں اور جو زمینی سطح پر سرپنچوں اور پنچوں نے بنائے ہوتے ہیں انہیں ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جاتا ہے ۔سرپنچوں نے اس موقعہ پر کہا کہ ڈیڑھ سال قبل15FCپلان جو دیا تھا وہ کہاں غائب ہو گیا اور ابھی تک وہ پلان نہیں آیا اور گرام سبھا کے پلان بھی ردی کی ٹوکری میں چلے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی طرف ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن کو نظر دینی چاہئے اور زمینی سطح کی صورتحال کو دیکھ کر عوام کے ساتھ انصاف کیا جائے ۔احتجاج میں پنچایت حلقہ گول اے ، گول بی ، جمن ، پرتمولہ ، اندھ ، کلی مستا وغیرہ کے سرپنچوں اور پنچوں و نائب سرپنچوں نے حصہ لیا اور مانگ کی کہ جلد از جلد ان کے مسائل حل کئے جائیں تا کہ لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے ہو سکیں ۔