پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ سکمز صورہ کے ڈاکٹروں نے چھوٹے چیرہسے تتلی نما تھائی رائیڈ غدود کو جزی یا مکمل طور پر باہرنکالنے کے کامیاب جراحیاں انجام دی ہے۔جراحیوں کا یہ نیا طریقے نہ صرف غیر شادی شدہ لڑکیوں کیلئے وردھان ثابت ہوگاکیونکہ مریض کی گردن پر کوئی جراحی نشان نہیں رہے گا۔سال 2025کے دوران سکمز کے شعبہ جرنل سرجری نے اس طرز کی 27کامیاب جراحیاں انجام دی ہیں۔سکمز میں شعبہ جنرل سرجری کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد ملک نے کہا ’’معمول کی اوپن سرجری میں مریض کو اسپتال میں ایک ہفتہ رہنا پڑا تھا جبکہ جراحی سے چیرہ لگنے کے علاوہ جراحی کا نشان مریض کی گردن پر رہتا تھا لیکن اینڈسکوپی سے ہونے والی جراحی میں نہ صرف چھوٹا چیرہ لگتا ہے بلکہ جراہی کا کوئی بھی نشان موجود نہیں رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھائی رائڈ غدود کو باہر نکالنے کے بعد رہنے والے نشان ہی وجہ سے غیر شادی شدہ لڑکیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑٹا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیونکہ جراحی کے نئے طریقہ کار سے کسی بھی مریض کے گردن پر کوئی بھی نشان نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ تھائی رائڈ نکالنے کا یہ نیا طریقہ اقتصادی طور پر بھی کافی سستا ہوگا۔ ڈاکٹر اعجاز نے بتایا کہ مریضوں کو پہلے اسپتال میں 6دن رہنا پڑتا تھا لیکن اب وہ 2دن بعد ہی گھر واپس جا پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اوپن سرجری میں عام طور پر گلے کی نسوں متاثر ہونے کا خطرہ رہتا تھا لیکن نئے طریقے سے مریض کو کوئی بھی خطرہ نہیں ہے۔ جنرل سرجری کے سربراہ نے بتایا کہ سکمز صورہ جنرل اینڈ منیمل ایکسس سرجری میں ایم سی ایچ پروگرام صرف 7بڑے طبی اداروں میں ہوتا ہے اور سکمز کا ان اداروں میں چھٹا نمبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی جی آئی چندی گڑھ ملک میں جنرل سرجری میں ایمسی ایچ کرانے والا 7واں ادارہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکمز میں نی طریقے کی جراحی میں 2ڈاکٹر ایم سی ایچ کررہے ہیں جبکہ ایک چند دنوں میں آنے والا ہے۔ ڈائریکٹر سکمز ڈاکٹر محمد اشرف گنائی نے نئے طریقے سے جراحیاں کرنے والے ڈاکٹروں کو مبارک باد دی ہے۔