سرینگر// جموں کشمیر سے علیحدہ ہوئے لداخ نے برفانی تیندواکو’ ریاستی جانور ‘اور سیاہ گردن والے بگلا کو’ ریاستی پرندہ ‘ قرار دیا ہے۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ جموں کشمیر میں’فلائی کیچر‘ کو ریاستی پرندہ قرار دینے کا معاملہ زیر غور ہے۔ 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور سابق ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے دو سال بعد اس طرح کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر کی تقسیم کے ساتھ ہی انتظامیہ کو ان خطوں میں جائیداد اور خزانہ کو تقسیم کرنے میں مشکلات پیش آئیں وہیں نئے ریاستی جانور اور پرندے کا انتخاب کرنا بھی آسان نہیں تھا۔ اگرچہ اس حوالے سے 2019 کے آخر میں ہی کارروائی شروع کی گئی تھی تاہم گزشتہ روز مرکزی زیر انتظام لداخ کی انتظامیہ نے آخر کار اپنے نئے ریاستی جانور اور پرندے کا اعلان کیا۔ اس حوالے سے لداخ انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر آر کے ماتھر نے برفانی تیندوے کو ریاستی جانور جبکہ سیاہ گردن والے بگلا کو ریاستی پرندہ قرار دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ سیاہ گردن والا بگلا جموں و کشمیر کا بھی ریاستی پرندہ تھا اور صرف لداخ میںپایا جاتا ہے وہیںبرفانی تیندوے کو پہلی بار ریاستی جانور کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ برفانی تیندوے اور سیاہ گردن والا بگلا دونوں ہی نایاب ہیں اور اس وقت خطرے سے دو چار ہیں۔محکمہ جنگلات کے ایک افسر کے مطابق’’یہ بگلا 1.35 میٹر اونچا ہوتا ہے اور تقریباً 8 کلو کا ہوتا ہے۔ اس کے سر پر لال رنگ کا تاج ہوتا ہے اور اکثر جوڑوں میں نظر آتا ہے،وہیں برفانی تیندوا تقریباً 2.4 میٹر لمبا ہوتا ہے اور اس کو گوسٹ آف ماؤنٹین(پہاڑوں کا بھوت) بھی کہا جاتا ہے۔یہ لداخ کے علاوہ اتراکھنڈ، سکم اور ہماچل پردیش کے چند علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ادھر جموں و کشمیر میں ابھی تک کسی بھی جانور اور پرندے کو ریاستی جانور اور پرندے کا درجہ نہیں دیا گیا۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے وائلڈ لائف افسرکا کہنا تھا ’’جانور تو ہانگل ہی رہے گا اور جہاں تک پرندے کی بات ہے تو اس وقت کشمیر فلائی کیچر پر غور کیا جا رہا ہے اور ممکن ہے کہ اسی پرندے کو ہی یہ درجہ دیا جائے۔اْن کا مزید کہنا تھا ’’پرندہ وہ ہونا چاہیے جو ریاست کا نمائندہ بھی ہوجبکہ ریاستی جانور اور پرندے کو مقرر کرنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہوتی ہے کی اْن کو تحفظ اور خصوصی توجہ مل سکے،اور مجھے لگتا ہے کہ فلائی کیچر اس سب پر کھرا اتراتا ہے‘‘۔اْن کا کہنا تھا کہ’’لداخ کو ابھی اپنا ریاستی درخت اور پھول بھی مقرر کرنا ہے جبکہ جموں و کشمیر کے پاس چنار بطور ریاستی درخت اور کنول بطور پھول ہے۔‘‘