محمد بشارت
راجوری// ضلع راجوری کے سب ڈویژن کوٹرنکہ کے دور دراز علاقوں کے مکینوںنے ٹرن تا پھگولی سڑک منصوبے کی طویل عرصہ سے عدم تکمیل کے خلاف منفرد انداز میں احتجاج کرتے ہوئے کیچڑ سے بھرے گڑھوں میں اتر کر اور کیچڑ ملے پانی سے ہاتھ دھو کر انتظامیہ کی توجہ سڑک کی خستہ حالی کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی۔یہ احتجاج کیول، سیری، چپرولہ، پھگولی، چھائی اور ملحقہ علاقوں کے سینکڑوں دیہاتیوں کی جانب سے کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ اہم سڑک منصوبہ مکمل نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ترون تا پھگولی سڑک پر کام کا آغاز سنہ 2004 میں کیا گیا تھا اور تقریباً آٹھ کلومیٹر تک مٹی کا کام مکمل بھی کر لیا گیا تھا جو پھگولی تک پہنچتا ہے، تاہم متعدد عوامی مطالبات اور یقین دہانیوں کے باوجود سڑک کی مکمل تعمیر عمل میں نہیں لائی گئی۔
اس وقت گاڑیاں صرف تقریباً تین کلومیٹر تک ہی چل سکتی ہیں جبکہ آگے کا راستہ انتہائی خستہ اور ناقابلِ استعمال بنا ہوا ہے۔احتجاج کے دوران دیہاتی سڑک پر موجود کیچڑ اور گندے پانی سے بھرے گڑھوں میں اتر گئے اور علامتی طور پر اسی پانی سے ہاتھ دھوئے تاکہ انتظامیہ کو عوام کی مشکلات اور سڑک کی ابتر حالت کا احساس دلایا جا سکے۔ مظاہرین نے بینر اور پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر سڑک کی فوری تعمیر اور مناسب فنڈز کی فراہمی کے مطالبات درج تھے۔مقامی باشندوں کا کہنا تھا کہ نامکمل سڑک رابطہ تقریباً بیس ہزار سے زائد آبادی کو متاثر کر رہا ہے۔ طلبہ کو تعلیمی اداروں تک پہنچنے، مریضوں کو اسپتال منتقل کرنے، بزرگوں اور روزمرہ سفر کرنے والے افراد کو شدید پریشانیوں کا سامنا ہے۔ بارشوں کے دوران سڑک مزید خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہے اور کئی مقامات پر آمدورفت مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے۔دیہاتیوں نے الزام لگایا کہ یہ منصوبہ راجوری اور ریاسی اضلاع کے درمیان ہونے کی وجہ سے برسوں سے نظر انداز ہو رہا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق ابتدائی حصے پر کام پی ایم جی ایس وائی راجوری کی جانب سے انجام دیا گیا جبکہ مڈل اسکول بیجی سے آگے کا مٹی کا کام پی ڈبلیو ڈی ریاسی نے کیا تھا۔ بعد ازاں یہ علاقہ ضلع راجوری کے دائرہ اختیار میں آنے کے باوجود منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سڑک منصوبے کو فوری طور مکمل کیا جائے، پورا منصوبہ ضلع راجوری انتظامیہ کے سپرد کیا جائے، مناسب فنڈز منظور کیے جائیں اور پھگولی و ملحقہ آبادیوں تک سڑک کی میکڈمائزیشن کی جائے۔سابق سرپنچ محمد فاروق انقلابی نے کہا کہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود سڑک کو قابلِ آمدورفت نہیں بنایا جا سکا جس سے ہزاروں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب مزید انتظار کرنے کو تیار نہیں اور اگر جلد کام شروع نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں علاقے کے ایک وفد نے ضلع انتظامیہ کمپلیکس کا دورہ کرکے مسئلہ اٹھایا تھا جس کے بعد ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوٹرنکہ کو اس معاملے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔