سرینگر// بجلی شعبہ کی نجکاری کے خلاف محکمہ بجلی کے ملازمین اور انجینئروں نے3فروری کو یوم احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے بجلی ترمیمی بل2020 کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے،جبکہ اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ نجکاری عام صارفین اور چھوٹے و درمیانہ درجے کے صنعت کاروں کیلئے ایک ڈرائونا خواب ثابت ہوگا۔ بجلی ترمیمی بل2020کی واپسی پر3فروری کو نیشنل کنفیڈریشن کمیٹی آف الیکٹرسٹی ایمپلائز اینڈ انجینئرس نے بھارت بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے جبکہ اس ترمیمی بل اور بجلی کی نجکاری کیلئے بولی کے معیاری دستاویزات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔جموں کشمیر میں محکمہ بجلی کے ملازمین اور انجینئرئوں کے مشترکہ پلیٹ فارم پائور انجینئرس اینڈ ایمپلائز کارڈی نیشن کمیٹی نے کال کی حمائت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ3فروری کو جموں کشمیر میں اس کال کے پیش نظر یوم احتجاج منایا جائے گا۔ مشترکہ پلیٹ فارم میں شامل ڈپلومہ الیکٹریکل ایسو سی ایشن کے صدر انجینئرقیصر الہیٰ میر، الیکٹریکل انجینئرنگ گریجویٹس ایسو سی ایشن کے صدر انجینئر منشی ماجد علی اور الیکٹریکل ایمپلائز یونین کے صدر عبدالرشید سامبوری نے مشترکہ طور پرکہاکہ وہ جموں کشمیر میں بجلی شعبے کی نجکاری کی مخالفت کرتے ہیں اور بجلی ترمیمی بل2020واپس لیا جانا چاہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی ترسیل،تقسیم اور پیدواروی یونٹوں کو یکجا کیا جانا چاہے،جبکہ تمام سطحوں پر خالی اسامیوں پر برقت ترقیوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جانا چاہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مشترکہ مطالبات میں محکمہ بجلی میں عملے کی منظور شدہ قوت کو اوپر سے نیچے تک منیجنگ ڈائریکٹر سے لیکر لاین مین تک محکمے میں ہی پُر کیا جائے،جبکہ محکمہ میں کام کر رہے عارضی ملازمین،کیجول لیبر اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو مستقل کیا جانا چاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ3فروری کو ملازمین اپنے ہی کام کی جگہوں پر جمع ہوجائیں گے،جبکہ سرینگر کے ملازمین اور انجینئر پی ڈی ڈی کمپلکس بمنہ میں جمع ہوکر احتجاج کرینگے۔الیکٹریکل ایمپلائز یونین کے صدر عبدالرشید سامبوری نے بتایا کہ محکمہ بجلی کے ملازمین اور انجینئر ایک آواز میں بجلی شعبے کی نجکاری کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔ پائور انجینئرس اینڈ ایمپلائز کارڈی نیشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر کا دیگر مرکزی زیر انتظام والے علاقوں کے ساتھ مقابلہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ایک تو جموں کشمیر نیا مرکزی زیر انتظام خطہ ہے اور دیگر مرکزی خطوں کے صارفین سے یہاں کے صارفین کی تعداد دوگنا ہے۔ پائو انجینئرس ایند ایمپلائز کارڈی نیشن کمیٹی کے کنونیئر انجینئر منشی ماجد علی نے بتایا کہ جموں کشمیر میں فی الوقت بجلی کا ڈھانچہ بھی بہتر نہیں ہے اور نا ہی انسانی وسائل کی صورتحال بہتر ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی شعبے کی نجکاری کسی بھی صورت میں اصلاحات کے یکساں نہیں ہے،جبکہ نجکاری کے نتیجے میں عام صارفین،چھوٹے اور درمیانہ درجے کے صنعت کاروں اور غریب کنبوں سے تعلق رکھنے والوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔