وادی کشمیر کے عوام کو بہتر بنیادی سروسز بشمول بجلی فراہم کرنے کی یقین دہانیوں کے ساتھ سات دہائیاں گذر گئیں۔ہر دور کے حکمرانوں نے بجلی ،پانی اور سڑک کے نام پر ووٹ بٹورے اور جب وہ ایفائے عہد نہ کرپائے تو اُنہوں نے کبھی ’خصوصی پوزیشن‘، کبھی ’اٹانومی‘،کبھی ’سیلف رول‘ تو کبھی ’کشمیر حل‘کے نعروں کا سہارا لیکر عوامی جذبات کا خوب استحصال کیا۔جو سیاسی لیڈران جموں کشمیر کی’خصوصی پوزیشن‘ کی حفاظت میں انتہائی بری طرح ناکام رہے ،انہوں نے اب اس کی بحالی کا نعرہ بلند کر رکھا ہے۔ اب تو ’نئے کشمیر‘کا دور ہے اور آج بھی حکام صارفین کو بجلی کی نامعقول فراہمی کے بہانے بتانے میں ہی مصروف نظر آرہے ہیں۔
ہر سال کا ماہ اکتوبر اہلیان وادی کیلئے پریشانیوں اور مصائب کا انبارلیکر آتا ہے ،جب ارباب اقتدار ،اعلیٰ افسران کو ساتھ لیکر دربار مو کے تحت سرمائی راجدھانی کا رُخ کرتے ہیں اور کشمیری عوام اللہ کے رحم کرم پر چھوڑے جاتے ہیں۔سرما کی شروعات سے ہی بجلی کی آنکھ مچولی کا بھی آغاز ہوتا ہے ۔سرکاری طور پر کہا جاتا ہے کہ سرما میں چونکہ بجلی کی پیداوار میں بے حد کمی واقع ہوتی ہے اس لئے سپلائی کا متاثر ہونا کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔حالانکہ ہر ایک دو سال بعد نئے ہائیڈل پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا جاتا ہے یا ربن کاٹ کر افتتاح کیا جاتا ہے۔ ایسے ہر موقع پر عوام کو بجلی سپلائی میں بہتری کے سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں اورہر موسم سرما کی آمد پر لوگوں کے خواب چکنا چور ہوجاتے ہیں۔
اس سال تو بجلی کٹوتی شیڈول کا اعلان ماہ اکتوبر کے آخری ہفتے میںہی کرکے حد کی گئی۔اطراف و اکناف میںصارفین کو شکایت ہے کہ اُنہیں کٹوتی شیڈول پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ اس پر شاذ و نادر ہی عمل کیا جارہا ہے۔متعلقہ محکمہ جب چاہے بجلی کاٹ دیتا ہے اور جب سپلائی بحال کی جاتی ہے تو اگر بوسیدہ تاروں اور کھمبوں نے ساتھ نبھایا تو بلب کو ڈھونڈنے کیلئے لالٹین کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
گذشتہ ہفتے شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر کے اندر بجلی پروجیکٹوں میں 90 فیصد بجلی پیداوارکی کمی پائی جا رہی ہے اور محکمہ بجلی ہر دن 2000سے 2100 میگاواٹ بجلی شمالی گرڈ سے خریدنے پر مجبور ہے۔ وادی میں قائم این ایچ پی سی کے بجلی پروجیکٹوں سے صرف 60میگاواٹ بجلی مفت فراہم کی جا رہی ہے۔ سرما کے دوران جموں کشمیر میں 2500 سے 2600میگاواٹ بجلی کی ضرورت پڑتی ہے لیکن بنیادی ڈھانچہ نہ ہونے کے سبب صارفین کو کشمیر میں صرف 1350میگاواٹ بجلی ہی ملتی ہے۔
ایک زمانے میں یہ قیاس آرائیاں عام تھیں کہ سالانہ دربار مو کے ساتھ ہی وادی کی بجلی بھی جموں کی طرف موڑدی جاتی ہے لیکن وہ ایک مفروضہ تھا۔واقف کار حلقوں کے مطابق اصل حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں بجلی کی قلت کیلئے کئی دوسرے عوامل ذمہ دار ہیں ، جن میں ناکافی انفراسٹرکچر ، ٹرانسمیشن نقصانات اور وسائل کا استعمال نہ ہوناشامل ہیں۔البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ سردیاں شروع ہوتے ہی وادی سے بیوروکریسی کے بیشتر حصے کو جموں منتقل کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہاںسرکاری کام کاج میں نہ ہونے کی حد تک سستی آجاتی ہے۔حالانکہ یہ وہ ایام ہوتے ہیں جب یہاں کے باشندوں کو سب سے زیادہ سرکاری افسران کی ضرورت ہوتی ہے۔
چونکہ کشمیر کے بیشتر بڑے بڑے بجلی منصوبے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی)کے زیر انتظام ہیں ، لہذا سال کے اس وقت کی کٹوتی اس پرانی شکایت کو تقویت بخشتی ہے کہ’ ’جموں کشمیر کو اپنے وسائل پر قابو نہیں ہے‘‘۔واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ وادی میں نصب ٹرانسمیشن لائنز اور سسٹم صرف1200 میگا واٹ کی گنجائش کے ہیں جبکہ سردیوں کے موسم میں طلب1600-1800 میگا واٹ کے درمیان ہوتی ہے۔ ماہرین معاشی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیںکہ جموں کشمیر کومستقل طور پر توانائی کی کمی کا سامنا ہے اور اس کی ضروریات پورا کرنے کے لئے شمالی گرڈ سے بجلی کی خریداری پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ یہ خاص طور پر سردیوں کے موسم میں ہوتاہے جب طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور پیداوار کمی واقع ہوتی ہے۔
اٹھارہویں آل انڈیا پاور سروے نے یہ تخمینہ لگایاتھا کہ جموں و کشمیر کے بجلی کے مطالبے میں2021-22تک 4217 میگا واٹ یا21887 ملین یونٹ تک کا اضافہ ہوگا۔خود جموں کشمیر کی 2016 کی معاشی سروے کی رپورٹ میں بھی بجلی کی ضرورت میں اضافے کا ذکر کیا گیا تھا ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکام اسی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے پالیسی مرتب کرتے جیسا کہ لداخ خطے کیلئے بجلی، گیس وغیرہ کیلئے کی جاتی ہے، لیکن اس کے برعکس محکمہ بجلی کے افسران اور ماہرین ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں ، جب سرما کا موسم آتا ہے اور چاروں طرف ہا ہا کار مچ جاتی ہے تو مقامی اخبارات میں بجلی کی ضرورت اور پیدا وار کے سلسلے میں اعداد و شمار پیش کرکے ذمہ داریوں سے بری ہونے کے بہانے ڈھونڈے جاتے ہیں۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق موسم سرما کے دوران جموں وکشمیر میں 2500 سے 2600میگاواٹ بجلی کی ضرورت پڑتی ہے لیکن یہاں بنیادی ڈھانچہ نہ ہونے کے سبب صرف کشمیر میں 1350میگاواٹ بجلی ہی ملتی ہے جبکہ جموں میں 800میگاواٹ بجلی دی جاتی ہے ۔محکمہ پی ڈی ڈی کی جنریشن ونگ کے اعدادوشمار کے مطابق فی الوقت گاندربل بجلی پروجیکٹ 1سال سے بیکار پڑا ہے ،اور ایک میگاواٹ بجلی بھی اس سے پیدا نہیں ہو رہی ہے کیونکہ اس پروجیکٹ کی کنال میں دراڑیں پڑی ہیں۔ 105میگاواٹ صلاحیت والے لور جہلم بجلی پروجیکٹ سرما کے ان ایام میں پانی کی کمی کے سبب صرف 60میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے ۔105میگاواٹ بجلی پروجیکٹ کنگن بھی سرما میں 30میگاواٹ بجلی دے رہا ہے او ر اس بجلی پروجیکٹ سے 75میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔2میگاواٹ صلاحیت والے کرناہ بجلی پروجیکٹ سے صرف 1میگاواٹ بجلی فراہم ہورہی ہے۔ پہلگام کا پروجیکٹ ساڑھے 4میگاواٹ کا ہے لیکن وہ صرف 1میگاواٹ بجلی دے رہا ہے۔ بغلیہار بجلی پروجیکٹ کی صلاحیت 900میگاواٹ ہے جس میں سے صرف 150میگاواٹ بجلی ہی مل رہی ہے۔ چنانی اول، دوم اورسیوم بجلی پروجیکٹوں سے صرف 30میگاواٹ بجلی مل رہی ہے۔ بھدرواہ بجلی پروجیکٹ سے 1 میگاواٹ بجلی مل رہی ہے۔ این ایچ پی سی کے تحت آنے والے بجلی پروجیکٹوں ،سلال 690میگاواٹ ، اوڑی فسٹ 480میگاواٹ،ڈول ہستی 390میگاواٹ ،اوڑی سیکنڈ 420میگاواٹ ،کشن گنگا 330میگاواٹ صلاحیت والے پروجیکٹ ہیں، جن کی کل صلاحیت 2310میگاواٹ ہے ،تاہم فی الوقت یہ بجلی پروجیکٹ صرف 400سے500میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں ،جس میں سے صرف 50میگاواٹ جموں وکشمیر کو رائلٹی کے طور پر دیئے جاتے ہیں، باقی بجلی شمالی گرڈ سے خریدی جاتی ہے۔ صرف وادی کشمیر میں سرما کے دوران2200میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے مقابلے میں صرف 1350میگاواٹ ہی محکمہ کے پاس دستیاب ہے۔
بعض سیول سوسائٹی ممبران کے مطابق ہمارے یہاں ہر سرکاری محکمہ کے افسران و اہلکار انتہائی غیر ذمہ دار ثابت ہورہے ہیں اور محکمہ بجلی کوئی استثنیٰ نہیں ہے۔ قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کی بات ہو یا ٹریفک کی بد نظمی پر قابو پانا، متعلقہ محکمہ جات کی ناکامیوں کی فہرست طویل ہے۔اور تو اور جب عام سائل کسی کام سے حکام کے دفاتر کے چکر کاٹنے کے بعد شرف ملاقات پاتے ہیں تو اُن سے اس طرح کا برتائو کیا جاتا ہے کہ وہ سرکاری دفاتر میں جانے کو ہی کوستے ہیں۔عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر ہمارا خطہ رشوت ستانی کی فہرست میں شامل ہے تو وہ بھی انہی انتظامی افسران کی دین ہے جو اپنی مراعات کیلئے ہڑتالیں کرنا جانتے ہیں لیکن جب عوام کو سروسز میسر رکھنے کی بات آتی ہے تو یہ اقرباء پروری اور سفارشی کلچر کے ذریعے عام لوگوں کو مذکورہ سروسز سے محروم رکھنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں۔ جب سرکاری حکام کے عمل کا وقت آتا ہے تویہ افسران اور اہلکار کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر خود کوچھڑا لیتے ہیں۔بعض حلقے تو یہاں کے قدرتی وسائل کی ’’لوٹ ‘‘کا بھی الزام عائد کررہے ہیں اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ایسا بھی سرکاری افسران کی وجہ سے ہی ممکن ہورہا ہے کیونکہ لگتا ہے کہ وہ اپنے وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کرنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ اداروں سے یہاں کے عوام کا اعتماد ہی اٹھ گیا ہے۔
مان لیا کہ سردیوں کے دوران ہمارے یہاں بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے، ایسا تودہائیوں سے ہوتا چلا آرہا ہے،پھر ہمارے متعلقہ افسران قبل از وقت ہی ضروری اقدامات اور منصوبہ بندی کیوںنہیں کرتے ہیں؟ سر پیٹنے کا من اس وقت کرتا ہے جب سمارٹ میٹر لگانے کیلئے انتظامیہ انتہائی عجلت کا مظاہرہ کرتی ہے لیکن جب صارفین بجلی کی ’سمارٹ ‘فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ضرورت اور پیداوار کا رونا رویا جاتا ہے۔شہری علاقوں میں تو پھر بھی کسی حد تک فراہمی کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جاتی ہیں لیکن دیہی علاقے تو بجلی کے دیدار سے کبھی کبھی ہی فیضیاب ہوتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ اُن سے ہر ماہ کم سے کم چھ سو روپے کی فیس بھی وصولی جارہی ہے۔یہ تو ویسی ہی لوٹ ہے جیسے ہمارے یہاں انٹر نیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیاں گذشتہ دو سال سے کرتی آرہی ہیں۔ مذکورہ کمپنیاں صارفین سے فور جی سروس کی ریٹ پر رقومات اینٹھتی ہیں لیکن اُنہیں ٹو جی سروس فراہم کی جارہی ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے کشمیری عوام کی جیبیں کاٹنا ’قومی پالیسی‘ کا حصہ بن گیا ہے۔ محکمہ پی ایچ ای، جسے اب محکمہ جل شکتی کہا جاتا ہے، کو ہی دیکھ لیجئے۔’سمارٹ سرینگر‘ کے باشندوں کو دو بوند پانی کیلئے کس طرح ترسایا جارہا ہے۔ اور تو اور شہر کے معروف علاقوں میںرہنے والے لوگوں کو کس طرح حکام پانی کی کمی کا پارٹ پڑھا کر بے وقوف بنارہے ہیں۔جیسے پانی کی کمی کا سامنا صرف کشمیر کو ہی ہے۔انتظامیہ کے کام چور افسران و اہلکار وں کو یہ کیسے سمجھا یا جائے کہ جس تیزی کے ساتھ دنیا کے اندر پینے کے پانی کی کمی ہورہی ہے اُسی تیزی کے ساتھ باقی ماندہ دنیا میں اس کمی سے نمٹنے کیلئے ضروری اقدامات بھی کئے جارہے ہیں ۔شومئی قسمت کہ ہم اُنہی دہائیوں پرانے واٹر سپلائی اسکیموں پر ہی انحصار کئے ہوئے ہیں جن کو ایک مخصوص وقت کیلئے تیار کیا گیا تھا۔عوام کو بنیادی سروسز کی عدم فراہمی کی اس مایوس کن صورتحال کے درمیان اہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ جموں کشمیرکے وسائل کون کنٹرول کررہا ہے؟ 2011 میں کانگریس لیڈر اور اس وقت کے وزیر بجلی تاج محی الدین نے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن کا موازنہ نوآبادیاتی دور کی ایسٹ انڈیا کمپنی سے کیا تھا!۔