کشمیری سالہاسال سے یہی سوچ رہے ہیں کہ پانی کے بے پناہ ذخائر کی دستیابی کے باوجود کشمیر میں بجلی کا بحران تاحیات بیماری کی طرح کیوں ہے؟ کئی سیاسی اور سماجی حلقے دہائیوں سے یہ چیخ و پکار کر رہے ہیں کہ کشمیر میں 20ہزار میگاواٹ سے بھی زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
محکمہ بجلی نے ان دعوں کی تصدیق بھی کردی ہے، تاہم محکمہ بجلی کے پاس فقط1250 میگاواٹ بجلی تقسیم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ لوگ پھر طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اس میں سیاسی بیانیے سامنے لائے جاتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ حکومت ہند کشمیر کے وسائل کو این ایچ پی سی کے ذریعہ ہڑپ کررہی ہے اور لوگوں کو جان بوجھ کر اندھیروں میں دھکیلا جارہا ہے۔
لیکن کسی نے اب تک محکمہ کو جواب دہ نہیں سمجھا ، کیونکہ جوشیلے نعروں اور اشتعال انگیز دعوں کے پیچھے محکمے کی ناقص کارکردگی چْھپ جاتی ہے۔
ہر سرکاری محکمہ میں دو کہانیاں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو ہم ٹی وی اور اخباروں کے ذریعہ سْنتے ہیں، دوسری وہ جو صرف افسرشاہی کے عِلم میں ہوتی ہے۔ سردیاں شروع ہوتے ہی بجلی کی آنکھ مچولی بھی شروع ہوچکی ہے۔ گرما کا پورا موسم پینے کے پانی کی خاطر لوگوں کی ہاہاکار کی نذر ہوگیا اور اب سرما میں وادی گھْپ اندھیرے میں ڈوب رہی ہے۔ ہم اْس اندر کی کہانی پر ایک سرسری نظر دوڑائیں گے۔
یہ کم و بیش 15 سال کی کہانی ہے۔ 2004 میں جب کانگریس کی قیادت والے ترقی پسند اتحاد نے دلی میں اقتدار سنبھالا تو حکومت نے سوچا کہ کشمیریوں کو کس چیز کی اشد ضرورت ہے۔ ظاہر ہے بجلی کا بحران دہائیوں سے ہے اس لئے ماہرین نے بجلی کی ہی بات کی اور دو سال بعد یعنی 2006 میںحکومت ہند نے وزیراعظم تعمیر نو منصوبے کا اعلان کیا جسکے تحت جموں کشمیر میں بجلی کے ساتھ ساتھ دوسرے اہم منصوبوں کے لئے 33000 کروڑ روپے کے مالی پیکیج کا اعلان کیا گیا۔ اسی پیکیج میں زینہ کوٹ اور آلسٹینگ گرڈ سٹیشنوں کی تعمیر نو اور اْن کی ٹرانسمِشن صلاحیت بڑھانے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔ دعویٰ یہ کیا گیا کہ ان دونوں منصوبوں کی بدولت محکمہ 1250 میگاواٹ کی ترسیلی صلاحیت میں 510میگاواٹ کا اضافہ کرسکے گا۔ اخباروں میں سْرخیاں لگیں، ٹی وی پر مباحثے گرم ہوئے اور دو سال بعد یعنی 2008 میں آلسٹینگ اور بڈگام منصوبوں پر کام شروع ہوا۔ وعدے کے اعلان سے منصوبے کی سنگ بنیاد تک پہلے ہی چار سال گزر چکے تھے۔
پھر یہ باتیں ہونے لگیں کہ یہ منصوبہ سْست رفتاری کا شکار کیوں ہے۔ مرکزی سرکار نے کئی مرتبہ جموں کشمیر انتظامیہ سے جواب طلب کئے ، لیکن کچھ نہ ہوسکا۔ یہ باتیں بھی ہوئیں کہ اس منصوبے کو یہاں کی مقامی بیوروکریسی ہی سبوتاڑ کرنے پر تْلی ہے، اسی لئے کام کی رفتار نہایت سْست ہے۔ پھر جیسے تیسے 2013 میں دعویٰ کیا گیا کہ بڈگام کا گرڈسٹیشن تیار ہوگیا ہے، لیکن اْسے چالو نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ گرِڈ کی تاریں بستیوں کے بیچوں بیچ گزر رہی ہیں اور باشندوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ اس طرح دس سال کا عرصہ بیت گیا ، لیکن کشمیریوں کو بلا ناغہ بجلی کی فراہمی کا وعدہ فقط وعدہ ہی رہا۔
2017میں جب بحران شدید تر ہوگیا، تو اْس وقت کی بی جے پی حمایت یافتہ پی ڈی پی حکومت کی نظر آلسٹینگ گرڈ پر پڑی۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس حوالے سے محکمے کے ساتھ تین بار طویل میٹینگیں کیں۔ پھر ایک اور وعدہ کیا گیا کہ 2018 کے مارچ تک آلسٹینگ گرڈ سٹیشن کام کرنا شروع کردے گا، اس سے قبل دو وعدے ٹْوٹ چکے تھے۔ اْسی سال جون میں گورنر راج نافذ ہوا تو گورنر کے مْشیر کْمار سکندن نے محکمے کے ساتھ ایک اور طویل میٹنگ کی جسکے بعد یہ طے پایا کہ آلسٹینگ سٹیشن اب نومبر میں مکمل ہوگا۔ یہ وعدہ بھی ٹوٹ گیا، لیکن دسمبر میں بتایا گیا کہ گرڈ سٹیشن مکمل ہوگیا ہے۔
یہ بات دلچسپ بھی ہے اور مایوس کْن بھی۔ جب گرڈ کو تجرباتی طور پر چالو کرنے کا مرحلہ شروع ہوا تو محکمہ کو یاد آیا کہ ایک اہم ٹرانسمیِشن لائن جو گاندربل گرڈ کو زینہ کوٹ کے ساتھ ملاتی ہے وہ تو تیار ہی نہیں ہے !! آلسٹینگ سٹیشن کی ترسیلی صلاحیت کا پورا دارومدار اسی لائن پر تھا۔ 45 کلومیٹر طویل اس ٹرانسمِشن لائن پر 161 ٹاور نصب ہونے تھے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس لائن پر 2012 میں کام شروع ہوچکا تھا، جو کبھی تکمیل کو پہنچا ہی نہیں۔ محکمہ لائن بچھانے میں زمینوں کی تحصیل اور زمینداروں کے ساتھ لین دین کے جھمیلوں کا بہانا تراشتا رہا۔ بہرحال یہ وعدہ بھی ٹوٹ ہی گیا۔ اس سے قبل کہ محکمہ کوئی نئی ڈیڈ لائن مقرر کرتا ، گزشتہ برس نومبر کے شروع میں ہی تباہ کن برفباری ہوئی جسکے باعث گرڈ کو شدید نقصان پہنچا۔ پھر سے وعدوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
اْس وقت کے چیف انجینئر حشمت قاضی نے وعدہ کیا کہ جنوری 2020 میں آلسٹینگ بحال ہوجائے گا، وہ وعدہ بھی وفا نہ ہوا۔ پھر بتایا گیا کہ اس سال مارچ میں ہوگا۔ اس بیچ حکمران دعوے کرتے رہے کہ سردیوں میں چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی ہوگی، لیکن آلسٹینگ گرڈ تیار نہیں ہوا۔
15 سال کی اس کہانی کے کئی کردار ہیں۔ اس کے ہیرو وہ لائن مین ہیں جو جان کی بازی لگا کر فرسودہ اور بوسیدہ تاروں کی ٹھیک کرتے رہتے ہیں۔ محکمہ ابھی تک اْنہیں سیفٹی گیئر نہ دے سکا۔ نہ اْن کے پاس ہیلمیٹ ہوتا ہے اور نہ کرنٹ سے محفوظ رہنے کے مخصوص حفاظتی ملبوسات ہیں۔ ہر سال درجنوں ایسے بجلی اہلکار کھمبوں پر دم توڑ دیتے ہیں۔ کہانی کے ویلین وہ افسر اور انجینئر ہیں جو بار بار نااہل ثابت ہونے کے باوجود لوگوں پر ہی بجلی چوری کا الزام دھرتے ہیں۔
بجلی کی ترسیل اور تقسیم کاری کے بوسیدہ نظام کی وجہ سے جموں کشمیر میں بھارت کی سبھی ریاستوں سے زیادہ ٹرانسمِشن اینڈ ڈسٹرِبیوشن نقصانات ہیں۔ یہ شرح پچاس فی صد ہے جبکہ مجموعی قومی شرح تیس فی صد سے بھی کم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ موجودہ نظام کے تحت اگر واقعی محکمہ 1250 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کو پوری طرح بھی بروئے کار لائے تو ہمارے پاس ٹی اینڈ ڈی نقصانات کو چھوڈ کر صرف 625 میگاواٹ بجلی مہیا ہوگی۔ ایسے میں اگر کہیں کہیں اور وہ بھی کبھی کبھی بجلی کے درشن ہوجائیں تو سمجھ لیجئے کہ وہ معجزہ سے کم نہیں، کیونکہ محکمے کے مطابق سردیوں میں ڈیمانڈ 2000میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے۔
محکمے کا کہنا ہے کہ فی الوقت کشمیر وادی میں صرف دس لاکھ صارف محکمے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وادی کشمیر کی 70 لاکھ آبادی میں سے 60 لاکھ لوگ ناجائز بجلی کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ کس کی غلطی ہے؟ میٹر نصب کروانے کے لئے کروڑوں روپے بیرونی ایجنسیوں کو دئے گئے لیکن سو فی صد میٹرنگ کا ہدف پورا نہ ہوپایا۔ اگر کوئی ناجائز کنیکشن لیتا ہے تو اْس کو دیتا کون ہے؟ محکمہ لوگوں پر کیچڑ اْچھالنے سے پہلے اپنے اندر کا نظام درست کرتا تو بہتر ہوتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی بِنا خلل فراہمی تب ہی ممکن ہوگی جب موجودہ 1250 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں کم از کم 1000میگاواٹ کا اضافہ ہوجائے۔ چلئے مان لیتے ہیں کہ آلسٹینگ اور بڈگام کے منصوبے اب طویل انتظار کے بعد مکمل بھی ہونگے، لیکن ٹی اینڈ ڈی نقصانات جو بوسیدہ ترسیلی نظام کی وجہ سے ہورہے ہیں، اْس بارے میں کیا منصوبہ ہے۔
اربوں روپے بجلی محکمے اور اس کے ذیلی اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں اور سینئر افسروں کی ٹھاٹ باٹ پر خرچ ہورہے ہیں۔ اسی محکمہ کے انجینئر دو وزرائے اعظم کے منصوبوں کو اپنی نااہلی کی وجہ سے غرق کرچکے ہیں۔ غور کیجئے آلسٹینگ کا منصوبہ چالو کرتے وقت ترسیلی لائن پر نظر پڑی کہ تیار ہی نہیں۔ ایسے انجینئروں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے جو15 سال تک مرکزی اور مقامی حکومتوں کو ٹرخاتے رہے ہیں۔ اگر نیا قانون واقعی جواب دہ انتظامیہ کو ممکن بنانے کے لئے نافذ کیا گیا ہے تو بجلی محکمے کے اْن سبھی افسروں کو فارغ کردیا جائے جن کی نااہلی، سْستی اور بے توجہی کی وجہ سے مرکزی سرکار کے منصوبے دْھول چاٹ رہے ہیں۔
(کالم نویس سینئر سماجی کارکن ہیں، رابطہ 9469679449 [email protected])