فکرو ادراک
ساحل جہانگیر میر
باپ ایک ایسا لفظ ہے جس میں وقار بھی ہے، محبت بھی، قربانی بھی اور خاموشی بھی۔ باپ وہ ہستی ہے جو اپنے بچوں کے لیے پوری زندگی ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑا رہتا ہے۔ وہ اپنی خواہشوں کو دفن کر دیتا ہے تاکہ اولاد کے خواب زندہ رہیں۔ مگر افسوس کہ آج کے دور میں وہی باپ، جس نے اپنی جوانی اولاد کی خوشیوں پر قربان کر دی، بڑھاپے میں اکثر تنہا، بے سہارا اور اولاد کی بے رخی کا شکار نظر آتا ہے۔بچپن میں جب ایک بچہ دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے ماں کی گود اُسے ملتی ہے، مگر باپ کا سایہ اس کے سر پر حفاظت کی ڈھال بن کر موجود ہوتا ہے۔ باپ وہ ہستی ہے جو راتوں کو جاگ کر فکر کرتا ہے کہ کل بچے کی فیس کہاں سے ادا ہوگی، اس کی کتابیں کیسے آئیں گی، اس کی خواہش کیسے پوری ہوگی۔ وہ گرمی کی تپش میں مزدوری کرتا ہے، سردی کی یخ بستہ راتوں میں بھی کام پر جاتا ہے، صرف اس لیے کہ اس کے بچوں کو تکلیف نہ ہو۔ہماری ثقافت اور مذہب میں باپ کا مقام بہت بلند ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ تاریخ میں ہمیں ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں جہاں باپ نے اپنی اولاد کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ مثلاًحضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ واقعہ باپ کی اطاعت، ایمان اور محبت کی عظیم مثال ہے۔
بچپن میں جب بچہ چلنا سیکھتا ہے تو باپ اس کی انگلی پکڑ کر اسے قدم اٹھانا سکھاتا ہے۔ جب بچہ گرتا ہے تو باپ اسے سنبھالتا ہے۔ اسکول کے پہلے دن باپ ہی اسے دروازے تک چھوڑنے جاتا ہے۔ وہ اپنی جیب خالی کر کے بھی بچے کی خوشی خرید لیتا ہے۔ عید ہو یا کوئی اور تہوار، باپ سب کے لیے کپڑے لے آتا ہے مگر اکثر اپنے لیے کچھ نہیں لیتا۔
لیکن وقت کا پہیہ گھومتا ہے۔ بچہ بڑا ہو جاتا ہے، تعلیم مکمل کرتا ہے، نوکری کرتا ہے، شادی کرتا ہے۔ اب اس کی اپنی دنیا ہوتی ہے، اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ آہستہ آہستہ باپ اس کی زندگی کے مرکز سے کنارے پر چلا جاتا ہے۔ وہی باپ جو کبھی گھر کا ستون تھا، اب ایک کمرے تک محدود ہو جاتا ہے۔ اس کی باتیں’’پرانے خیالات‘‘ کہہ کر نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔کئی اخبارات اور سماجی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بزرگ والدین کو اولاد گھروں سے نکال دیتی ہے یا وہ خود حالات سے تنگ آ کر اولڈ ایج ہوم کا رخ کر لیتے ہیں۔ بھارت میں HelpAge India جیسی تنظیمیں بزرگوں کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں اور ان کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں بزرگ ذہنی اور جذباتی استحصال کا شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار ہمارے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔کبھی کبھی باپ خود گھر چھوڑ دیتا ہے۔ وہ یہ بوجھ برداشت نہیں کر پاتا کہ اس کی وجہ سے بیٹے اور بہو کے درمیان جھگڑے ہوں۔ وہ خاموشی سے ایک دن گھر سے نکلتا ہے اور کسی اولڈ ایج ہوم میں جا کر رہنے لگتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں شاید ایک چھوٹا سا بیگ ہوتا ہے جس میں چند کپڑے اور کچھ پرانی تصویریں ہوتی ہیں۔ وہ تصویریں جن میں اس کے بچے اس کے کندھوں پر بیٹھے ہنس رہے ہوتے ہیں۔اولڈ ایج ہوم میں وہ اکثر دروازے کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔ شاید آج بیٹا ملنے آئے۔ شاید آج پوتا اس کے گلے لگے۔ مگر دن گزرتے ہیں، ہفتے گزرتے ہیں، اور اکثر وہ انتظار ادھورا ہی رہ جاتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک سوال ہوتا ہے کیا میری ساری قربانیاں بے معنی تھیں۔یہ حقیقت ہے کہ جدید دور میں مصروفیات بڑھ گئی ہیں۔ روزگار کی تلاش میں لوگ شہروں اور ملکوں سے باہر چلے جاتے ہیں۔ مگر کیا مصروفیت اس حد تک بڑھ سکتی ہے کہ باپ کے لیے وقت ہی نہ بچے؟ کیا ترقی کی دوڑ میں ہم اپنے رشتوں کو پیچھے چھوڑ دیں؟
ہمارے معاشرے میں کبھی مشترکہ خاندانی نظام ہوا کرتا تھا۔ دادا، دادی، نانا، نانی سب ایک ہی چھت کے نیچے رہتے تھے۔ بزرگوں کی موجودگی گھر میں برکت اور رہنمائی کا سبب ہوتی تھی۔ آج ہم جدید طرزِ زندگی کو اپناتے ہوئے اس نظام سے دور ہو چکے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بچے اپنے دادا دادی سے کہانیاں سننے کے بجائے موبائل فون پر ویڈیوز دیکھتے ہیں اور باپ اپنے ہی گھر میں اجنبی بن جاتا ہے۔ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کل ہم بھی بوڑھے ہوں گے۔ آج جو بیٹا اپنے باپ کے ساتھ سلوک کر رہا ہے، کل اس کے بچے بھی اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں گے۔ وقت کا پہیہ کسی کے لیے نہیں رکتا۔ریاست اور حکومت کی ذمہ داری بھی ہے کہ بزرگوں کے لیے بہتر پالیسیاں بنائے۔ بھارت میں’’Maintenance and Welfare of Parents and Senior Citizens Act‘‘جیسے قوانین موجود ہیں جو اولاد کو والدین کی کفالت کا پابند بناتے ہیں، مگر صرف قانون کافی نہیں ہوتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دلوں میں احساس پیدا ہو، تربیت میں اخلاقیات شامل ہوں اور تعلیمی اداروں میں بچوں کو والدین کی قدر سکھائی جائے۔باپ کی محبت اکثر خاموش ہوتی ہے۔ وہ کم بولتا ہے مگر زیادہ محسوس کرتا ہے۔ اس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے اس کی بے خوابی کی گواہی دیتے ہیں۔ اس کے ہاتھوں کی سختی اس کی محنت کی داستان سناتی ہے۔ جب وہ بوڑھا ہو جاتا ہے تو اس کی کمر جھک جاتی ہے، مگر دل اب بھی سیدھا اور صاف ہوتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے باپ کے ساتھ وقت گزاریں، اس کی باتیں سنیں، اس کی دعائیں لیں۔ اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ بوجھ نہیں، ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔ اس کے تجربات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ باپ ایک سایہ دار درخت کی مانند ہے۔ جب تک وہ موجود ہوتا ہے، ہمیں دھوپ کا احساس نہیں ہوتا۔ مگر جب وہ سایہ اُٹھ جاتا ہے تو زندگی کی تپش کا اندازہ ہوتا ہے۔ خدارا اس سایے کی قدر کریں، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔کیونکہ جس دن باپ کی آنکھ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گی، اس دن ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔
رابطہ۔9086707465
[email protected]